اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 مئی 2026ء) بھارت کی دوا ساز صنعت عالمی جنیرک ادویات کی فراہمی میں ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے۔ یہ ادویات سستی ہوتی ہیں لیکن معیار، کارکردگی اور ڈرگ سیفٹی کے لحاظ سے برانڈڈ ادویات کے برابر سمجھی جاتی ہیں۔ اب ایران جنگ کے باعث توانائی کی منڈیوں اور عالمی تجارتی راستوں میں خلل سے یہ صنعت بھی دباؤ کا شکار ہو رہی ہے۔
انڈین برانڈ ایکویٹی فاؤنڈیشن کے مطابق ملک کی 50 ارب ڈالر (46.44 ارب یورو) مالیت کی دوا سازی کی صنعت عالمی جنیرک ادویات کی تقریباً 20 فیصد مقدار فراہم کرتی ہے، جس کی نصف سے زیادہ برآمدات سخت ضابطوں والی منڈیوں جیسے امریکہ اور یورپی یونین کو جاتی ہیں۔
انسٹیٹیوٹ فار ہیومن ڈیٹا سائنس کی رپورٹ کے مطابق بھارتی مینوفیکچرز امریکہ میں تیار کی جانے والی جنیرک ادویات کے لیے تقریباً 47 فیصد جنیرک اجزا بھی فراہم کرتے ہیں۔
(جاری ہے)
بھارت
کے طبی پیداواری شعبے پر دباؤ کی بنیادی وجہ اس کا فعال دوا سازی اجزاء (اے پی آئی) کی درآمد پر انحصار ہے، جو ادویات کے بنیادی اجزاء ہوتے ہیں، اور ان میں سے 60 سے 70 فیصد چین سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ایران
جنگ کے سبب ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والے اہم کیمیائی سالوینٹس کی لاگت میں اضافہ ہو گیا ہے، جس سے عام اور بنیادی ادویات کی تیاری بھی مہنگی ہو رہی ہے۔یہ دباؤ پہلے ہی سپلائی چین پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ خام مال اور سالوینٹس کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، پیکیجنگ کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے، اور تیار کنندگان کو لاجسٹکس اور انشورنس کے زیادہ بل ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔
دوا سازی کی صنعت کے ماہر اور بھارت میں قائم سنکور کنسلٹنسی کے ڈائریکٹر جاون بھنڈے کا کہنا ہے، ''اس خلل نے ظاہر کر دیا ہے کہ دوا سازی کی سپلائی چین کتنی نازک ہے۔
‘‘اگرچہ بہت سی کمپنیوں کے پاس ابھی چند مہینوں کے لیے ذخیرہ موجود ہے، لیکن صنعت کے ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر دوبارہ سپلائی غیر یقینی رہی تو آئندہ مہینوں میں اصل اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔
کمزور سپلائی چین بے نقاب
فی الحال کچھ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، لیکن یہ اضافہ معمولی ہے۔ بڑا اضافہ اب بھی ان پٹ اور خام مال میں دیکھا جا رہا ہے، جس کا مکمل بوجھ ابھی تک صارفین تک منتقل نہیں ہوا۔
بھارت
کی حکومت نے فوری ریلیف اور طویل المدتی اقدامات کے امتزاج کے ساتھ مداخلت کی ہے، جن میں اہم خام مال پر درآمدی ڈیوٹی ختم کرنا اور ضروری ادویات کی قیمتوں میں محدود اضافے کی اجازت دینا شامل ہیں۔اپریل کے آغاز میں کامرس سیکرٹری راجیش اگروال نے کہا تھا، ''مشرق وسطیٰ میں طویل عرصے تک جاری رہنے والا تنازعہ نہ صرف اس خطے بلکہ دیگر عالمی منڈیوں کے لیے بھارتی برآمدات کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
‘‘اگروال نے خبردار کیا تھا کہ ایران جنگ پہلے ہی سپلائی چینز پر دباؤ ڈال رہی ہے، اور دوا سازی کا شعبہ ان متاثرہ شعبوں میں شامل ہے۔ انہوں نے صنعتی شعبے پر زور دیا کہ وہ درآمدات پر انحصار کم کرے اور مقامی پیداوار کو فروغ دے۔
لیکن ماہرین بڑے ساختیاتی خطرات کی نشاندہی کر رہے ہیں، اس لیے سوال یہ ہے کہ آیا یہ اقدامات آنے والے مہینوں میں قیمتوں میں اضافے یا سپلائی میں خلل کو روکنے کے لیے کافی ہوں گے یا نہیں۔
ہر سطح پر اخراجات میں اضافہ
اس صورت حال کا نتیجہ لاگت کے بڑھتے ہوئے دباؤ کی صورت میں سامنے آ رہا ہے، جسے پالیسی ساز ابھی تک پوری طرح سمجھ نہیں سکے، اور جو سپلائی پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی سابق چیف سائنسدان سومیا سوامیناتھن نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''اگر سپلائی چین میں خلل جاری رہا تو دوا سازی کے شعبے کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے، جس سے لاگت میں اضافہ حتیٰ کہ عالمی سطح پر قلت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
‘‘سوامیناتھن نے کہا کہ یہ مناسب وقت ہے کہ ڈبلیو ایچ او، یونیسیف، اور ویکسین الائنس سمیت بھارتی مصنوعات کے بڑے خریداروں کے ساتھ ممکنہ حالات اور ان کے تدارک کے لیے اقدامات پر بات چیت کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا، ''جیسے کووڈ کی عالمی وبا کے دوران خاص اقدامات کیے گئے تھے تاکہ ویکسین کے لیے ضروری اجزاء سرحدوں کے پار منتقل ہو سکیں اور بھارت کی کمپنیاں مثلاﹰ سیرم انسٹیٹیوٹ آف انڈیا اور بھارت بائیوٹیک ویکسین تیار کر سکیں۔
‘‘صنعتی ماہرین اور تجارتی اداروں کے مطابق اس خلل سے بھارتی دوا ساز کمپنیوں کو تقریباً 30 کروڑ سے 50 کروڑ ڈالر تک کا نقصان ہو سکتا ہے، اور اگر شپنگ میں رکاوٹیں برقرار رہیں تو یہ نقصانات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
ادارت: مقبول ملک