سابق چیئرمین نادرا طارق ملک دنیا کے 25 ماہر ترین افراد میں شامل

4 مئی کی صبح نیویارک کے عالمی شہرت یافتہ ٹائمز اسکوائر کی بڑی اسکرینوں پر دنیا کے ان 25 منتخب ماہرین کے نام اور تصاویر نمایا ں کی جائیں گی

Sajid Ali ساجد علی ہفتہ 2 مئی 2026 14:18

سابق چیئرمین نادرا طارق ملک دنیا کے 25 ماہر ترین افراد میں شامل
نیو یارک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2026ء) نادرا کے سابق چیئرمین اور ورلڈ بینک کے موجودہ مشیر طارق ملک نے ایک بار پھر عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کر دیا، ڈیجیٹل شناخت اور پبلک ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے شعبے میں ان کی غیر معمولی خدمات اور مہارت کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں دنیا بھر کے 25 ماہر ترین افراد کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق اس تاریخی کامیابی کا سب سے متاثر کن پہلو وہ لمحہ ہے جب 4 مئی کی صبح نیویارک کے عالمی شہرت یافتہ ٹائمز اسکوائر کی بڑی اسکرینوں پر دنیا کے ان 25 منتخب ماہرین کے نام اور تصاویر نمایا ں کی جائیں گی، یہ پلیٹ فارم دنیا کا وہ مقام ہے جہاں صرف ان شخصیات کو جگہ دی جاتی ہے جنہوں نے انسانیت یا اپنے شعبے میں کوئی انقلاب برپا کیا ہو۔

بتایا گیا ہے کہ ڈیجیٹل شناخت آئی کلاؤڈ اور سائبر سکیورٹی کے عالمی شہرت یافتہ پلیٹ فارم اوکٹا (OKTA) نے ایک انتہائی سخت مقابلے اور جانچ پڑتال کے بعد ان 25 افراد کا انتخاب کیا ہے، اوکٹا کا کہنا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کی مہارت نے ڈیجیٹل ٹرسٹ اور سکیورٹی کے شعبے میں نئے رجحانات متعارف کروائے، طارق ملک کو اس فہرست میں شامل کرنے کی وجہ ان کا وہ نظریہ ہے جس کے تحت انہوں نے ڈیجیٹل شناخت کو عام آدمی کے حقوق اور حکومتی شفافیت سے جوڑا۔

(جاری ہے)

بتایا جارہا ہے کہ طارق ملک کا تعلق پاکستان کے ایک علمی اور ادبی گھرانے سے ہے، وہ پاکستان کے نامور محقق، نقاد اور دانشور پروفیسر فتح محمد ملک کے صاحبزادے ہیں، طارق ملک کی زندگی کا ایک اہم موڑ وہ ملاقات تھی جو امریکہ میں بے نظیر بھٹو شہید کے ساتھ ہوئی، تو وہ ان کی ڈیجیٹل شناخت اور ڈیٹا مینجمنٹ کے حوالے سے بصیرت سے بے حد متاثر ہوئیں، انہوں نے طارق ملک کو قائل کیا کہ وہ اپنی صلاحیتیں بیرونِ ملک صرف کرنے کی بجائے پاکستان واپس آئیں اور اپنے وطن کے انتظامی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد دیں۔

معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے سماجی تحفظ کے پروگرام بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا ڈیجیٹل ڈھانچہ طارق ملک کی تخلیقی سوچ کا نتیجہ ہے، انہوں نے ایک ایسا نظام وضع کیا جس کے ذریعے مستحق خواتین تک امداد بغیر کسی درمیانی واسطے کے شفاف طریقے سے پہنچائی جا سکے، اس پروگرام کو آج بھی عالمی سطح پر کیش ٹرانسفر کے بہترین ماڈلز میں سے ایک مانا جاتا ہے، جس کی بنیاد طارق ملک نے رکھی تھی۔

یاد رہے کہ نادرا کے چیئرمین کی حیثیت سے طارق ملک نے نادرا کو محض شناختی کارڈ بنانے والا ادارہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے پاکستان کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی ریڑھ کی ہڈی بنا دیا، انہوں نے سم کارڈز کی تصدیق، بینک اکاؤنٹس اور انتخابی فہرستوں کو کمپیوٹرائزڈ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، نادرا کے ڈیٹا کو عالمی معیار کے مطابق محفوظ بنانا اور اسے ہیکنگ سے بچانے کے لیے جدید سسٹمز متعارف کرائے، حکومتی اداروں کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ کے نظام کو بہتر بنایا تاکہ کرپشن کا خاتمہ ہو سکے اور شہریوں کو سہولیات کی فراہمی تیز ہو۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ طارق ملک پاکستان میں اپنی خدمات کے بعد وہ عالمی اداروں کی توجہ کا مرکز بنے، انہوں نے یو این ڈی پی کے ساتھ مل کر مختلف ممالک میں ڈیجیٹل شناخت کے منصوبوں پر کام کیا، اس وقت وہ ورلڈ بینک کے چیف ٹیکنیکل ایڈوائزر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں، یہاں وہ ترقی پذیر ممالک کیلئے ٹیکنالوجی کے ذریعے غربت کے خاتمے اور شفاف نظامِ حکومت قائم کرنے سے متعلق کام کر رہے ہیں۔