/کالج گراؤنڈ ہٹیاں بالا میں منعقدہ ختم نبوت کانفرنس،عقیدہ ختم نبوت سے وابستگی، عشقِ رسول ﷺ،دینی حمیت کا عظیم مظہر بن گئی

اتوار 3 مئی 2026 17:15

iچناری(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 03 مئی2026ء) تحریک تحفظ ختم نبوت آزاد کشمیر جہلم ویلی کے زیرِ اہتمام کالج گراؤنڈ ہٹیاں بالا میں منعقدہ ختم نبوت کانفرنس،عقیدہ ختم نبوت سے وابستگی، عشقِ رسول ﷺ،دینی حمیت کا عظیم مظہر بن گئی،وزیر تعلیم دیوان علی خان چغتائی،وزیر اعظم آزاد کشمیر کے معاون خصوصی شوکت جاوید میر،ضلع جہلم ویلی سمیت آزاد کشمیر بھر سے ہزاروں افراد نے قافلوں کی صورت میں شرکت کی، جبکہ پورا ماحول تاجدارِ ختم نبوت زندہ باد،ختم نبوت ہماری جان، ہمارا ایمان کے نعروں سے گونجتا رہا۔

کانفرنس میں مقررین نے ووٹر لسٹوں میں قادیانیوں کی شمولیت کے معاملے کو نہایت سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک قادیانیوں کو الگ انتخابی فہرستوں میں منتقل نہیں کیا جاتا اس وقت تک شفاف انتخابات کا تصور ممکن نہیں ہے،یہ مسئلہ صرف سیاسی یا انتخابی نہیں بلکہ عقیدہ ختم نبوت، آئینی تقاضوں،مسلمانوں کے مذہبی جذبات کا معاملہ ہے،نائب صدر تحریک مولانا شبیر کاشمیری نے اپنے خطاب میں ممبرانِ اسمبلی،وزرا کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اسی میدان میں بارہا وعدے کیے گئے،مگر آج تک ان وعدوں کو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا،وزیرِ قانون میاں عبدالوحید،وزیرِ تعلیم دیوان علی چغتائی،مولانا پیر مظہر سعید،چوہدری رشید سمیت کئی ممبرانِ اسمبلی،وزرا نے قادیانیوں کو ووٹر لسٹوں سے الگ کرنے کے وعدے کیے، مگر افسوس آج تک یہ وعدے وفا نہ ہوئے،ممبرانِ اسمبلی کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اقتدار ہمیشہ باقی نہیں رہتا، یہ ایک عارضی امانت ہے، جبکہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی ذمہ داری ایک دائمی دینی فریضہ ہے،عوام اب صرف بیانات،وعدے نہیں بلکہ عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں،اگر حکومت اس حساس مسئلے پر پیش رفت نہیں کرتی تو عوام میں اضطراب مزید بڑھے گا،انہوں نے ایکشن کمیٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جہاں دیگر عوامی مطالبات پیش کیے جا رہے ہیں، وہاں قادیانیوں کو ووٹر لسٹوں سے الگ کرنے کا مطالبہ کیوں شامل نہیں کیا جاتا انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ ہر مسلمان کے ایمان،عقیدے سے جڑا ہوا ہے،اس لیے تمام دینی، سیاسی،عوامی جماعتوں کو چاہیے کہ اس مطالبے کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں اور متحد ہو کر حکومت پر دبا بڑھائیں تاکہ انتخابی فہرستوں کو آئین اور شریعت کے مطابق بنایا جا سکے،مقررین نے کہا کہ قادیانی آئینِ پاکستان،آزاد کشمیر کے مطابق غیر مسلم اقلیت ہیں، لہذا ان کا مسلمانوں کی انتخابی فہرستوں میں شامل رہنا آئینی،مذہبی دونوں اعتبار سے ناقابلِ قبول ہے،مقررین نے حکومتِ آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر انتخابی فہرستوں کی اصلاح کی جائے،مسلمانوں،غیر مسلموں کی ووٹر لسٹیں واضح طور پر الگ کی جائیں،مہمانِ خصوصی مجلسِ احرارِ اسلام کے رہنما مولانا سید عطا اللہ شاہ بخاری نے کہا کہ تحفظ ختم نبوت کا مسئلہ کسی ایک جماعت یا طبقے کا نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے ایمان کا مسئلہ ہے،مسلمان ہر میدان میں قربانی دے سکتے ہیں مگر ختم نبوت کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کریں گے۔

(جاری ہے)

وزیرِ تعلیم دیوان علی چغتائی نے اپنے خطاب میں یقین دہانی کروائی کہ ووٹر لسٹوں کا معاملہ وزارتِ قانون تک پہنچ چکا ہے حکومت اس پر سنجیدگی سے کام کرے گی۔قادیانیوں کو ووٹر لسٹوں سے الگ کرنا دینی و عوامی مطالبہ ہیحکومت اس حوالے سے اپنی ذمہ داری ادا کرے گی،حکومت آزاد کشمیر دینی اقدار کے تحفظ،مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہی ہے،تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے عوام کے جذبات قابلِ قدر ہیں،حکومت اس مقدس عقیدے کے دفاع کے لیے ہمیشہ علما کرام کے ساتھ کھڑی رہے گی،وزیر اعظم آزاد کشمیر کے معاون خصوصی شوکت جاوید میر نے کہا کہ ایسی کانفرنسز امت مسلمہ میں اتحاد، یکجہتی،دینی شعور کو فروغ دینے کا اہم ذریعہ ہیں،انہوں نے کانفرنس کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے منتظمین کو خراج تحسین پیش کیا،اس موقع پر چیئرمین ضلع کونسل طیب منظور کیانی نے ضلع جہلم ویلی کے تمام داخلی راستوں کو بابِ ختم نبوت کے نام سے منسوب کرنے کا نوٹیفکیشن پیش کیا، جسے شرکا نے بھرپور انداز میں سراہا۔

کانفرنس میں جمعیت علمائے اسلام ضلع جہلم ویلی کے امیر مولانا مختیار کیانی، صدر اہل سنت والجماعت مولانا نسیم چغتائی، مولانا ہدایت اللہ، مولانا پروفیسر رضا الرحمن، مفتی سعید احمد باغ، مولانا گل احمد الاظہری، سید فیصل گیلانی، سید اعجاز حسین شاہ کاظمی، مولانا مصباح الرحمن، چیئرمین بلدیہ سجاول خان،مولانا فرید احمد اور دیگر شخصیات نے بھی خطاب کیا،اسٹیج سیکرٹری کے فرائض ناظمِ تبلیغ مولانا جمیل احمد جامی نے انجام دیے، جبکہ اجتماع کے دوران مرحوم پروفیسر الطاف حسین صدیقی کی دینی و تحریکی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔کانفرنس کے اختتام پر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ، ووٹر لسٹوں کی اصلاح، امتِ مسلمہ کے اتحاد،ملک و ملت کی سلامتی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔