مسئلہ کشمیر تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازعہ ، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل ناگزیر ہے،کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ

پیر 4 مئی 2026 17:15

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 04 مئی2026ء) کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر و پاکستان شاخ کے سیکرٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ نے بھارتی تحقیقاتی ایجنسی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے حریت قیادت اور تحریک آزادی کشمیر سے وابستہ رہنماؤں کے خلاف عائد حالیہ الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں من گھڑت،بے بنیاد اور سیاسی انتقام پر مبنی قرار دیا ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ بھارتی ریاستی اداروں کی جانب سے اس نوعیت کے اقدامات ایک منظم اور دیرینہ حکمت عملی کا حصہ ہیں، جن کا مقصد کشمیر کی جائز، پُرامن اور سیاسی جدوجہد کو بدنام کرنا اور اسے دہشت گردی کے ساتھ جوڑ کر عالمی سطح پر گمراہ کن بیانیہ تشکیل دینا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس ایک خالصتاً سیاسی پلیٹ فارم ہے، جو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بین الاقوامی قوانین کے مطابق سیاسی، سفارتی اور پُرامن ذرائع اختیار کئے ہوئے ہے اور اس کی حیثیت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔

(جاری ہے)

مشتاق احمد بٹ نے اس امر پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازعہ ہے، جس کا حل اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہونا ناگزیر ہے۔ کشمیری عوام کی جانب سے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے جاری پُرامن جدوجہد نہ صرف جائز بلکہ بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے اصولوں سے ہم آہنگ ہے۔ اس جدوجہد کو دہشت گردی سے تعبیر کرنا حقائق کی صریح تحریف ہے اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ درحقیقت ریاستی جبر اور ماورائے عدالت اقدامات میں خود بھارتی ادارے ملوث رہے ہیں اور ان کی سرگرمیاں سرحدوں سے باہر بھی پھیل چکی ہیں جو بین الاقوامی قوانین، ریاستی خودمختاری اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔ انہوں نے اس تناظر میں عالمی برادری کی خاموشی کو تشویشناک قرار دیا۔ مشتاق احمد بٹ نے خاص طور پر اس امر کو اجاگر کیا کہ این آئی اے کی جانب سے کشمیری رہنماؤں کے بینک اکاؤنٹس، ٹیلیفون نمبرز، ای میلز،ایکس اکاؤنٹس اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی وسیع پیمانے پر نگرانی اور چھان بین کے اقدامات سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ڈیجیٹل نگرانی محض تکنیکی جانچ تک محدود نہیں بلکہ اس کے ذریعے سیاسی سرگرمیوں، سفارتی روابط اور اظہارِ رائے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے اس عمل کو بنیادی انسانی حقوق، بالخصوص حقِ پرائیویسی اور آزادی اظہار کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کو سیاسی اختلاف کو دبانے اور ایک جائز تحریک کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جو بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کے سراسر منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات کا اصل مقصد کشمیری عوام کی آواز کو عالمی سطح پر محدود کرنا اور ان کی جدوجہد کو متنازع بنانے کی ناکام کوشش ہے، تاہم زمینی حقائق اور کشمیری عوام کے عزم کو اس طرح کے ہتھکنڈوں سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ مشتاق احمد بٹ نے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم، یورپی یونین اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے ڈیجیٹل نگرانی، سیاسی انتقام اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیں اور انہیں روکنے کے لیے موثر اور عملی اقدامات کریں۔

انہوں نے زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق فوری، منصفانہ اور پائیدار حل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام اپنی جدوجہد آزادی کو ہر قیمت پر جاری رکھیں گے اور کسی بھی قسم کے سیاسی، عسکری یا ڈیجیٹل دباؤ کے باوجود ان کے عزم کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔