Live Updates

پنجاب یونیورسٹی کا دورہ، 2045 تک ماحولیاتی بہتری چاہتے ہیں‘جرمن سفیر اینا لیپل

مضبوط معیشت اور مضبوط دفاع دونوں قومی استحکام کے لیے ضروری ہیں ‘ خصوصی انٹرایکٹو سیشن سے خطاب

پیر 4 مئی 2026 18:25

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 04 مئی2026ء) پاکستان میں جرمنی کی سفیر محترمہ انا لیپل نے ماحولیاتی غیرجانبداری، نوجوانوں کی فلاح، عالمی امن، خوشحالی اور پاکستان کے ساتھ تعلیمی تعاون کے فروغ کے لیے جرمنی کے عزم پر زور دیا۔ وہ پنجاب یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ آف ایڈمنسٹریٹو سائنسز میں ایک خصوصی انٹرایکٹو سیشن سے خطاب کر رہی تھیں۔

اس موقع پررجسٹرار ڈاکٹر احمد اسلام، ڈائریکٹر ایکسٹرنل لنکجزپروفیسر ڈاکٹر یامینہ سلمان، ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف ایڈمنسٹریٹو سائنسز پروفیسر ڈاکٹر کاشف راٹھور، فیکلٹی ممبران، طلبائوطالبات اور جرمن جامعات کے پنجاب یونیورسٹی کے سابق طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اپنے خطاب میں اینا لیپل نے کہا کہ جرمنی عالمی ماحول کو بہتر بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے اور 2045ء تک دنیا کو ماحولیاتی طور پر نیوٹرل بنانے کا واضح قومی ویژن رکھتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ان کا ملک تیزی سے قابلِ تجدید اور قابلِ دوبارہ استعمال توانائی کے ذرائع کی طرف منتقل ہو رہا ہے جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے باعث عوام اور حکومت کی توجہ برقی گاڑیوں کی جانب بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہمیں دیکھنا ہوگا کہ مصنوعی ذہانت کیا کردار ادا کر سکتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں جرمنی نے گرین ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی اور ماحولیاتی استحکام کو نمایاں کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جرمنی یورپ میں امن، سلامتی اور خوشحالی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ مشرق وسطیٰ، امریکہ ۔ایران کشیدگی اور روس۔یوکرین جنگ کے حالیہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی امن ایک بار پھر نازک مرحلے پر پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا کے ممالک باہمی تعلقات بہتر بنائیں کیونکہ مکالمہ ہی پائیدار راستہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مضبوط معیشت اور مضبوط دفاع دونوں قومی استحکام کے لیے ضروری ہیں جبکہ اندرونی ادارہ جاتی مضبوطی بھی عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہے۔سفیر نے کہا کہ جرمنی یورپ کی اسٹریٹجک خودمختاری کو مضبوط بنانے میں فعال کردار ادا کر رہا ہے یورپی یونین کو دنیا کا سب سے بڑا اور بااثر تجارتی بلاک ہے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سماجی اور حکومتی مسائل کے مؤثر حل کے لیے بیوروکریسی کی رکاوٹوں کو ختم کرنا ضروری ہے۔

پاکستان کی کثیرالجہتی فورمز پر سفارتی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے اینا لیپل نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی اور بتایا کہ جرمن چانسلرنے حال ہی میں وزیر اعظم شہباز شریف کو فون کر کے علاقائی کشیدگی پر بات چیت کی، جو جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے برلن کی مسلسل دلچسپی کا عکاس ہے۔تعلیمی اور معاشی روابط پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت تقریباً 10 ہزار پاکستانی طلبہ جرمنی میں زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ پاکستان،جو دنیا کا پانچواں بڑا آبادی والا ملک ہے، جرمنی کے لیے ایک اہم تجارتی منڈی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جرمن داد سکالرشپس کے ذریعے ہر سال سینکڑوں پاکستانی طلبہ کو وظائف فراہم کر رہی ہے اور بہت سے پاکستانی جرمنی کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتی شعبے میں کام اور فنی مہارت حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی کے تعلیمی ادارے اور اسکالرشپ دینے والے ادارے حالیہ برسوں میں پنجاب یونیورسٹی سمیت پاکستانی جامعات کے ساتھ روابط بڑھا رہے ہیں۔

طلبہ کے سفارتکاری سے متعلق سوالات کے جواب میں سفیر نے کہا کہ سفارتکاری کے لیے درکار بنیادی صلاحیتیں عمومی نوعیت کی ہوتی ہیں۔انہوں نے خواہشمند سفارتکاروں کو مشورہ دیا کہ وہ غور سے سننے، مختلف ثقافتوں کو سمجھنے، سیکھنے کا شوق برقرار رکھنے، دباؤ میں پرسکون رہنے اور اشتعال یا بیان بازی سے متاثر نہ ہونے کی صلاحیت پیدا کریں۔ انہوں نے کہا’ایک اچھا سفارتکار وہ ہوتا ہے جو ردِعمل دینے سے پہلے سمجھتا ہے‘۔

قبل ازیں جرمن سفیر نے وائس چانسلر آفس کا دورہ کیا اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی سے ملاقات کی۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی جرمن جامعات کے ساتھ مشترکہ تحقیق، فیکلٹی تعاون اور تعلیمی تبادلہ پروگراموں کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی تحقیقی شراکتیں جدت اور علم کے تبادلے کے لیے نہایت اہم ہیں اور یونیورسٹی جرمن اداروں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہاں ہے۔ انہوں نے تعلیمی تعاون اور طلبہ کے تبادلے کو فروغ دینے کے لیے مضبوط ادارہ جاتی روابط قائم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات