Live Updates

ایل نینو کے اثرات سے رواں سال متعدد ایشیائی ممالک میں ہیٹ ویوز، خشک سالی اور شدید بارشیں ہو سکتی ہیں، رپورٹ

منگل 5 مئی 2026 16:30

جنیوا (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 05 مئی2026ء) مشرقی بحرالکاہل کے پانی کے درجہ حرارت میں اضافے سے ہر دو سے پانچ سال بعد پیدا ہونے والے موسمیاتی رجحان ایل نینو سے رواں سال متعدد ایشیائی ممالک میں گرمی کی لہروں، خشک سالی اور شدید بارشوں جیسے اثرات توانائی کی طلب میں اضافہ، پن بجلی کی پیداوار میں کمی اور فصلوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق قدرتی طور پر پایا جانے والا موسمیاتی رجحان ایل نینو دنیا بھر میں ہواؤں، ہوا کے دباؤ اور بارش کے ماڈلز میں تبدیلیاں لاتا ہے۔اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن نے کہا کہ ایل نینو کے مذکورہ حالات مئی سے جولائی تک پیدا ہو سکتے ہیں جو رواں سال زیادہ شدید ہو سکتے ہیں۔ ایل نینو بنیادی طور پر موسم کے روایتی نمونوں کو بدل دیتا ہے، مثال کے طور پر عام طور پر انڈونیشیا میں ہونے والی بارشیں رک جاتی ہیں اور ملک خشک سالی اور جنگلات میں آگ جیسے مسائل سے دوچار ہو جاتا ہے۔

(جاری ہے)

آسٹریلیا کی موناش یونیورسٹی کے موسمیاتی سائنس دان پیٹر وین رینش نے کہا ہے کہ 98۔ 1997 کا ایل نینو اب تک کی تاریخ کا شدید ترین ایل نینو ریکارڈ کیا گیا ہے ۔امبر تھنک ٹینک میں ایشیا کے لیے توانائی کی سینئر تجزیہ کار، دینایتا سیتیاوتی نے کہا کہ ایل نینو خطے کے کچھ حصوں میں جو خشک سالی لا سکتا ہے وہ ان ممالک کے لیے بھی خطرہ ہے جو پن بجلی پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ تر آسیان ممالک بہت زیادہ ہائیڈرو پاور استعمال کرتے ہیں جن میں میکونگ ممالک، نیپال، اور ملائیشیا کے کچھ حصے خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ قبل ازیں، 2022 میں چین میں گرمی کی لہر کے باعث سچوان میں پن بجلی کی پیداوار میں 50 فیصد سے زیادہ کمی ہو گئی تھی جس سے پید ا ہونے والی بجلی کی قلت نے گھرانوں اور صنعتوں کو یکساں طور پر متاثر کیا۔

بی ایم آئی، فِچ سلوشنز ریسرچ کمپنی کے ماہرین کے مطابق گرم، خشک حالات زراعت کے لیے نئے خطرات بھی پیدا کریں گے، جو ایران جنگ کے ساتھ ساتھ کاشتکاری کے آلات کے لیے درکار کھاد اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے پہلے ہی دباؤ میں ہیں زرعی پیداوار میں کمی اور کاشتکاروں کے اخراجات میں اضافے کے نتیجہ میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں افراط زر تیز ہو سکتی ہے جس سے غذائی عدم تحفظ کی صورتحال مزید خراب ہو گی۔

ماہرین کے مطابق ایشیا کے کچھ حصوں کے لیے ایل نینو شدید بارشیں لا سکتا ہے اور ان کے نتیجہ میں سیلابی صورتحال جو جنوبی چین میں چاول کی فصل کو متاثر کر سکتی ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ایل نینو کے زیر اثر کئی علاقوں میں متعدد بار ہیٹ ویوز کا سامنا ہو سکتا ہے اس کے ساتھ ہی اچانک شدید بارشیں سیلاب کا سبب بن سکتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پورے خطے کے ممالک کو اپنے گرڈ کو متنوع اور سبز بنا کر زیادہ بار بار آنے والے خراب موسمی واقعات کے خلاف توانائی کے نظام کو مزید موصل بنانا چاہیے۔اس حوالہ سے شمسی توانائی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر توجہ مرکوز کر کے پن بجلی پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات