حریت رہنمائوں اور تنظیموں کا اشرف صحرائی کو یوم شہادت پر خراج عقیدت ، اقوام متحدہ سے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ

منگل 5 مئی 2026 16:47

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 05 مئی2026ء) بھارت کے غیر قانونی زیرتسلط جموں و کشمیر میں بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت نے نام نہاد انسداد منشیات کی کارروائیوں کی آڑ میں کشمیریوں کی املاک مسمارکرنے کی مہم تیز کر دی ہے، جس سے کشمیریوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کے بارے میں مقامی لوگوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق قابض حکام نے جموں میں رنگ روڈ کوریڈور کے ساتھ واقع 15سے زائد عمارتوں جبکہ سرینگر کے علاقے پالپورہ نورباغ میں بھی ایک رہائشی مکان کو مسمار کر دیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کو ایک بہانے کے طورپر استعمال کیاجارہا ہے تاکہ کشمیریوں کو انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بنایاجائے اور انہیں اپنے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد سے روکاجائے۔

(جاری ہے)

رہائشیوں نے قابض انتظامیہ کے منشیات سے متعلق الزامات کو بھی اسی انتقامی مہم کا حصہ قرار دیا جس کا مقصد کشمیریوں کی تحریک آزادی کو بدنام کرنا اور عالمی برادری کو گمراہ کرناہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں مقبوضہ علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی غرض سے کشمیریوں کی املاک پر قبضے کےلئے بھی استعمال کی جارہی ہیں ۔بھارتی پولیس نے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران2خواتین سمیت 6 افراد کو گرفتار کیاہے۔دریں اثنا کشمیریوں نے شہید حریت رہنما محمد اشرف صحرائی کو ان کی برسی پر شاندار خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے پورے مقبوضہ علاقے میں اپنے گھروں اور مساجد میں دعائیہ مجالس کا انعقاد کیا۔

بابائے حریت سید علی گیلانی کے قریبی ساتھی محمد اشرف صحرائی کو 12جولائی 2020کو کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت سرینگر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں جموں کی ادھمپور جیل منتقل کیا گیا، جہاں وہ 5مئی 2021کو شہید ہوئے۔ حریت رہنمائوں اور تنظیموں نے اپنے بیانات میں تحریک آزادی کشمیر کے لئے گرانقدر خدمات اور قربانیوں پر اشرف صحرائی کو خراج عقیدت پیش کیا ۔

انہوں نے اقوام متحدہ سے مقبوضہ علاقے میں دوران حراست قتل کے تمام واقعات کی فوری تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔شہید اشرف صحرائی کوخراج عقیدت پیش کرنے کے لئے اسلام آباد میں کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے زیراہتمام کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ مقررین نے جدوجہد آزادی کو اس کے منطقی انجام تک جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ادھر تازہ برف باری اور بارش کے باعث پورے مقبوضہ علاقے میں معمولات زندگی درہم برہم ہو گئے ہیں ، مغل روڈ سمیت اہم سڑکیں بند ہونے سے سینکڑوں گاڑیاں پھنس کر رہ گئی ہیں۔ قابض حکام نے لوگوں کو صورتحال بہتر ہونے تک سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے ۔