کشمیریوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانے کیلئے املاک مسمار کرنے کی مہم تیز

منگل 5 مئی 2026 21:58

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 05 مئی2026ء) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیرقبضہ جموں و کشمیر میں بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت نے نام نہاد انسداد منشیات کی کارروائیوں کی آڑ میں کشمیریوں کی املاک مسمارکرنے کی مہم تیز کر دی ہے، جس سے کشمیریوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کے بارے میں مقامی لوگوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق قابض حکام نے جموں میں رنگ روڈ کوریڈور کے ساتھ واقع 15سے زائد عمارتوں کو مسمار کردیاہے جبکہ سرینگر کے علاقے پالپورہ نورباغ میں بھی ایک رہائشی مکان کو مسمار کیا گیاہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کو ایک بہانے کے طورپر استعمال کیاجارہا ہے تاکہ کشمیریوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایاجائے اور انہیں اپنے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد سے روکاجائے۔

(جاری ہے)

رہائشیوں نے قابض انتظامیہ کے منشیات سے متعلق الزامات کو بھی اسی انتقامی مہم کا حصہ قرار دیا جس کا مقصد کشمیریوں کی تحریک آزادی کو بدنام کرنا اور عالمی برادری کو گمراہ کرناہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں مقبوضہ علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی غرض سے کشمیریوں کی املاک پر قبضے کیلئے بھی استعمال کی جارہی ہیں ۔ بھارتی پولیس نے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران دو خواتین سمیت کم از کم چھ افراد کو گرفتار کیاہے۔

دریں اثناءکشمیریوں نے شہید حریت رہنما محمد اشرف صحرائی کو ان کی برسی پر شاندار خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے پورے مقبوضہ علاقے میں اپنے گھروں اور مساجد میں دعائیہ مجالس کا انعقاد کیا۔بابائے حریت سید علی گیلانی کے قریبی ساتھی محمد اشرف صحرائی کو 12جولائی 2020کو کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت سرینگر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں جموں کی ادھمپور جیل منتقل کیا گیا، جہاں وہ 5مئی 2021کو شہید ہوئے۔

حریت رہنمائوں اور تنظیموں نے اپنے بیانات میں تحریک آزادی کشمیر کیلئے گرانقدر خدمات اور قربانیوں پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا ۔انہوں نے اقوام متحدہ سے مقبوضہ علاقے میں دوران حراست قتل کے تمام واقعات کی فوری تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔ شہید اشرف صحرائی کوخراج عقیدت پیش کرنے کیلئے اسلام آباد میں کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد کشمیر شاخ کے زیراہتمام ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

مقررین نے جدوجہد آزادی کو اس کے منطقی انجام تک جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ادھر تازہ برف باری اور بارش کے باعث پورے مقبوضہ علاقے میں معمولات زندگی درہم برہم ہو گئے ہیں ، مغل روڈ سمیت اہم سڑکیں بند ہونے سے سینکڑوں گاڑیاں پھنس کر رہ گئی ہیں۔ قابض حکام نے لوگوں کو صورتحال بہتر ہونے تک سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے ۔