سنجیدگی سے کام کیا جائے تو سیاحت قومی آمدنی کا بڑا ذریعہ بن سکتی ہے،قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ

منگل 5 مئی 2026 21:19

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 05 مئی2026ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ نے قراردیا ہے کہ اگر سنجیدگی سے کام کیا جائے تو سیاحت قومی آمدنی کا بڑا ذریعہ بن سکتی ہے،سیکیورٹی کے حوالے سے تاثر اور اسلاموفوبیا بھی بین الاقوامی سیاحت کی راہ میں رکاوٹ ہے۔منگل کو کمیٹی کا اجلاس سینیٹر دلاورخان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

اجلاس میں ایجنڈے کے مختلف امور پر غور کیا گیا، جن میں بنیادی طور پر چترال میں سیاحت کو فروغ دینا، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور قومی ترقیاتی پروگرام شامل تھے۔ اجلاس میں سینیٹر طلحہ محمود، سینیٹر روبینہ قائم خانی، سینیٹر ایمل ولی خان اور سینیٹر سید کاظم علی شاہ نے شرکت کی۔ کمیٹی نے سینیٹر محمد طلحہ محمود کی طرف سے اٹھائے گئے چترال میں سیاحت کے فروغ کے ایجنڈے پر غور کیا اور پاکستان ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن اور وزارت بین الصوبائی ہم آہنگی کے افسران سے تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔

(جاری ہے)

افسران نے کمیٹی کو بتایا کہ چترال خیبر پختونخوا کا سب سے بڑا سیاحتی علاقہ ہے اور اسے ایڈونچر اور کلچرل ٹورزم کا بڑا مرکز قرار دیا گیا ہے۔ اس علاقے میں ریسھون، گرم چشمہ، لسپوراور کالاش جیسی اہم وادیاں شامل ہیں جبکہ شندور پاس، کالاش ویلیز اور چترال گول نیشنل پارک بڑی کشش کے مراکز ہیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ 18ویں ترمیم کے بعد سیاحت صوبوں کے حوالے کر دی گئی تھی اور 2022 میں پی ٹی ڈی سی کے موٹلز بھی اسی کے مطابق منتقل کر دیئے گئے۔

خیبر پختونخوا کی کل 19 سیاحتی جائیدادوں کا حوالہ دیا گیا، جن میں چترال کے پانچ اہم موٹلز شامل ہیں۔ اب یہ پانچ جائیدادیں گرین ٹورزم کو لیز پر دی دی گئی ہیں، جو وزارتِ دفاع کے تحت کام کرنے والے سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کے زیر انتظام ہیں۔ ریونیو شیئرنگ معاہدے کے تحت وفاقی حکومت کو 10 فیصد منافع ملے گا۔افسران نے بتایا کہ اندرون ملک سے سالانہ 95 لاکھ سیاح چترال آتے ہیں جبکہ غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں قابلِ ذکر اضافہ ہوا ہے، جو 2022 میں 1,500 سے بڑھ کر 2025 میں 2,700 ہو گئی ہے۔

کالاش ویلی ڈویلپمنٹ اتھارٹی بھی قائم کر دی گئی ہے اور اس علاقے کو صوبائی ٹورزم ماسٹر پلان میں شامل کیا گیا ہے۔ سعودی عرب اور کویت سے سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا گیا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سیاحت کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا فعال کرنا، "وزٹ چترال ویلی" ویب سائٹ کی تیاری، بروشرز اور نقشوں کی تیاری، اور یونیسکو کے ساتھ تعاون شامل ہے۔

مقامی ثقافت کا احترام اور ماحولیاتی تحفظ کو فروغ دینے کے لیے خصوصاً کالاش علاقے میں "ذمہ دار سیاحت"مہم بھی شروع کی گئی ہے۔تاہم، سیکیورٹی کے خدشات اب بھی چیلنج ہیں کیونکہ غیر ملکی سیاحوں کو چترال آنے سے قبل (این او سی) حاصل کرنا ضروری ہے۔سینیٹر طلحہ محمود نے چترال میں سیاحتی انفراسٹرکچر کی بدتر حالت پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی سیاحت کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے،جدید سیاحت میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی رسائی ناگزیر ہے جو اس علاقے میں تقریباً دستیاب نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ کالاش کلچر اور شندور پولو فیسٹیول کی عالمی اہمیت کے باوجود ہزاروں سیاحوں کے لیے سہولیات ناکافی ہیں۔ رہائش، خوراک اور ایمرجنسی طبی نگہداشت میں شدید کمی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ چترال کے ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی شدید قلت ہے، یہاں تک کہ آپریشن کے لیے پانی بھی دستیاب نہیں ہوتا۔ انہوں نے ضلع بھر میں فعال ڈائیلاسز مشینوں کی عدم موجودگی پر سوال اٹھایا اور بتایا کہ لوئر چترال کی مشینیں بھی غیر فعال ہیں۔

سینیٹر طلحہ محمود نے سڑکوں کی حالت پر بھی تشویش ظاہر کی اور انہیں خطرناک قرار دیا۔ دریاؤں اور پہاڑوں کے درمیان تنگ راستے ہیں جن کی وجہ سے مہلک حادثات کا خطرہ ہے۔ انہوں نے گاڑیاں دریاؤں میں گرنے کے واقعات کا ذکر کیا اور بتایا کہ چترال جانے والے راستے سال کے کئی مہینوں تک بند رہتے ہیں۔ لواری ٹنل کے باوجود سفر میں مشکلات برقرار ہیں جبکہ پروازیں محدود ہیں، اس لیے ہوائی اڈہ بھی قابلِ بھروسہ متبادل نہیں۔

شندور پہنچنے کے لیے 10 سے 12 گھنٹے کا مشکل سفر درکار ہوتا ہے۔ انہوں نے غیر ملکی سیاحوں کے لیے این او سی کی شرط کو بڑی رکاوٹ قرار دیا اور اجراء میں تاخیر پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے قومی شاہراہ اتھارٹی، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور وزارت داخلہ کے افسران کو طلب کرنے کا مشورہ دیا تاکہ انفراسٹرکچر اور سیکیورٹی کے مسائل حل کیے جا سکیں۔

ترکیہ سے موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاحت سے اربوں ڈالر کا ریونیو حاصل کیا جا سکتا ہے، مگر پاکستان اس حوالے سے غیر ملکی زر مبادلہ کیوں نہیں کما سکا۔سینیٹر ایمل ولی خان نے ان خدشات کی تائید کی اور ملک بھر میں سیاحت کی ترقی کے عدم توازن کی نشاندہی کی۔ انہوں نے چترال اور شمالی علاقوں کا موازنہ مری، نتھیا گلی اور ناران کاغان سے کیا اور خوبصورت علاقوں میں بھی سڑکوں، ہسپتالوں اور بنیادی انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی پر افسوس کا اظہار کیا۔

انہوں نے ترقی کے اس عدم توازن کو سنگین مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ بنیادی سہولیات کے بغیر سیاحت کی ترقی کے دعوے بے اثر ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی، صحت کی سہولیات، رہائش اور ایندھن کی دستیابی سیاحت کے لیے لازمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی آبادی کو بھی بنیادی خدمات میسر نہیں، خواتین دور دراز سے پانی لاتی ہیں۔ انہوں نے کالام جیسے سیاحتی مقامات پر ناقص منصوبہ بندی اور گنجائش سے زیادہ لوگوں کے جمع ہونے پر تنقید کی اور مجموعی طور پر سیاحت کے نقطۂ نظر کو ناکافی قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر سنجیدگی سے کام کیا جائے تو سیاحت قومی آمدنی کا بڑا ذریعہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے سیکیورٹی کے تاثرات اور اسلاموفوبیا کو بھی بین الاقوامی سیاحت کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا۔کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر دلاور خان نے صوبائی سطح پر سیاحت کی کارکردگی کا جامع جائزہ پیش کرنے کی ہدایت کی، جس میں گزشتہ برسوں کی رپورٹس بھی شامل ہوں۔

انہوں نے ہم آہنگ کوششوں اور بہتر انفراسٹرکچر کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ چترال کی ترقی اور سیاحت کے امکانات پر خصوصی اجلاس بلایا جائے گا۔ اس میں تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو طلب کیا جائے گا، جن میں چیئرمین پی ٹی اے، وزارت داخلہ، وزارت پاور، وزارت پٹرولیم، خیبر پختونخوا کے صحت اور پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹس، وزارت مواصلات، سول ایوی ایشن اتھارٹی، آبپاشی کے محکمے، نیشنل ہائی وے اتھارٹی، ڈی آئی جی کے پی اور ڈی پی او مالاکنڈ ضلع شامل ہیں۔

قومی ہاکی ٹیم کے آسٹریلیا کے دورے کے دوران درپیش چیلنجز، اخراجات کی ادائیگی، 2023 کے ایونٹس کی الاؤنسز کی عدم ادائیگی اور آفیشل پروٹوکول کی عدم فراہمی پر بریفنگ، موور کی عدم موجودگی کی وجہ سے ملتوی کر دی گئی۔وزارت بین الصوبائی ہم آہنگی نے نیشنل انٹرن شپ پروگرام کی تجدید اور سنٹرلائز کرنے کی تجویز پیش کی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پروگرام کو پبلک سیکٹر کے تمام اداروں میں ضم کیا جائے تاکہ شفافیت، یکساں پالیسی اور وسائل کے موثر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔

متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد نئی نفاذ کی منصوبہ بندی تیار کی جائے گی۔کمیٹی کو گن اینڈ کنٹری کلب کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ یہ 2002 میں 2004 کے سیف گیمز کے لیے شوٹنگ فیسیلیٹی کے طور پر قائم کیا گیا تھا، جو بعد میں مکمل تفریحی کمپلیکس میں تبدیل ہو گیا۔ افسران نے اس کی سپورٹس، ہیلتھ اینڈ ویلنس، ڈائننگ اور فیملی ایریاز کی سہولیات سے آگاہ کیا۔

سیکرٹری آئی پی سی نے رکنیت اور فیس کے ڈھانچے کے بارے میں بتایا کہ فی الحال کلب کے تقریباً 2,000 ممبران ہیں۔ اسلام آباد کلب سے موازنہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ گن اینڈ کنٹری کلب کی فیس نسبتاً کم ہے۔افسران نے بتایا کہ کوئی خصوصی رعایتیں نہیں دی جا رہی ہیں البتہ سہولیات بہتر کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں جدید آلات کی تنصیب، توسیعی منصوبے اور بہتر مینجمنٹ شامل ہیں تاکہ سروس کے معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔

اجلاس کا اختتام سیاحتی انفراسٹرکچر میں ساختہ خامیوں کو دور کرنے، بین الادارہ ہم آہنگی بڑھانے اور مختلف شعبوں میں احتساب یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے ہوا۔ کمیٹی نے دوبارہ واضح کیا کہ چترال عالمی سطح کا سیاحتی مقام بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، بشرطیکہ دیرینہ مسائل حل کرنے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں۔