کراچی پولیو کے خاتمے کے قریب، افواہیں اور غلط معلومات اب بھی سب سے بڑا چیلنج ہیں، شہریار میمن

سے 25 مئی تک کراچی کی 89 ہائی رسک یونین کونسلز میں پولیو بوسٹر ڈوز مہم چلائی جائے گی،کوآرڈی نیٹرسندھ ایمرجنسی آپریشن سینٹر

جمعہ 8 مئی 2026 20:40

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 مئی2026ء) سندھ ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی)کے کوآرڈینیٹر شہریار میمن نے کہا ہے کہ کراچی پولیو کے خاتمے کے قریب پہنچ چکا ہے، تاہم افواہیں اور غلط معلومات اب بھی انسدادِ پولیو مہم کی راہ میں سب سے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے والدین، میڈیا، علما، اساتذہ، سول سوسائٹی اور تمام متعلقہ اداروں کا مشترکہ کردار ناگزیر ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی پریس کلب میں پولیو بوسٹر ڈوز مہم کے حوالے سے منعقدہ میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ بریفنگ میں سندھ انسدادِ پولیو پروگرام ٹیم، ماہرینِ صحت، بچوں کے ڈاکٹرز، صحافیوں اور کراچی پریس کلب کے عہدیداران نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

میڈیا بریفنگ میں بتایا گیا کہ کراچی کی 89 ہائی رسک یونین کونسلز میں 12 سے 25 مئی تک خصوصی پولیو بوسٹر ڈوز مہم چلائی جائے گی، جس کے دوران 10 سال تک کی عمر کے بچوں کو اضافی پولیو ویکسین دی جائے گی تاکہ بچوں کی قوتِ مدافعت مزید مضبوط ہو سکے اور پولیو وائرس کی منتقلی کو روکا جا سکے۔

والدین کا اعتماد بڑھانے اور ویکسین کے محفوظ ہونے کے حوالے سے یقین دہانی کروانے کے لیے ای او سی کوآرڈینیٹر شہریار میمن اور تقریب میں شریک متعدد صحافیوں نے پولیو بوسٹر ڈوز بھی لگوائی۔شہریار میمن نے کہا کہ سندھ بھر میں پولیو ویکسین کی کوریج میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ انکاری والدین کی تعداد میں بھی مسلسل کمی آ رہی ہے، جو آگاہی مہمات اور کمیونٹی انگیجمنٹ کا مثبت نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا، ہم پولیو وائرس کی آخری قسم کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں اور ہر ویکسین شدہ بچہ ہمیں پولیو فری کراچی اور پولیو فری پاکستان کے مزید قریب لے جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مہم کو کامیاب بنانے اور افواہوں کا مثر مقابلہ کرنے کے لیے میڈیا، علمائے کرام، اساتذہ، سول سوسائٹی اور دیگر بااثر حلقوں کو فعال کردار ادا کرنے کی دعوت دی گئی ہے تاکہ والدین میں پائے جانے والے خدشات اور غلط فہمیوں کو دور کیا جا سکے۔

بریفنگ میں شریک ماہرینِ صحت اور بچوں کے ڈاکٹرز نے پولیو بوسٹر ڈوز حکمت عملی کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ہائی رسک علاقوں میں بچوں کو اضافی خوراک دینا قوتِ مدافعت کو مضبوط بنانے اور وائرس کے پھیلا کو روکنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او)سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر سندیپ نے کہا کہ پولیو بوسٹر ڈوز مہم بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ مہم کے دوران 10 سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو ویکسین دی جائے گی۔انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور اپنے بچوں کو پولیو بوسٹر ڈوز ضرور دلوائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیو بوسٹر ڈوز مفت، محفوظ اور ہر بچے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ڈاکٹر سندیپ نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر پولیو کیسز میں نمایاں کمی کے باوجود کراچی اب بھی پولیو کے حوالے سے ہائی رسک زون تصور کیا جاتا ہے، اس لیے مربوط اور مثر ویکسینیشن اقدامات ناگزیر ہیں۔

حکام نے بتایا کہ مہم کے لیے فرنٹ لائن ورکرز کی تربیت مکمل کر لی گئی ہے جبکہ محفوظ ویکسینیشن کے ساتھ ساتھ کمیونٹی انگیجمنٹ اور عوامی آگاہی پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔میڈیا بریفنگ کے اختتام پر تمام شرکا نے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں اور عوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہر بچے کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ بنانے کے لیے انسدادِ پولیو مہم کو ہر صورت کامیاب بنایا جائے گا۔