ملک میں آئین و قانون کی بالادستی نہیں، معیشت تباہ اور قرضے 81 ہزار ارب تک پہنچ گئے، وزیراعلیٰ کے پی

حکومتی پالیسیاں ناکام، احتجاج ہی واحد راستہ ہے، حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے، محمد سہیل آفریدی

منگل 12 مئی 2026 22:10

ملک میں آئین و قانون کی بالادستی نہیں، معیشت تباہ اور قرضے 81 ہزار ارب ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 12 مئی2026ء) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے منگل کے روز راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان کو سنگین مسائل کا سامنا ہے، ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی نظر نہیں آ رہی جبکہ معیشت تباہ حالی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اندرونی و بیرونی قرضے بڑھتے بڑھتی81 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں اور ملک دن بدن قرضوں میں ڈوبتا جا رہا ہے۔

دوسری طرف مسلط شدہ حکمرانوں کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے خیبرپختونخوا میں دہشتگردی میں اضافہ ہو رہا ہے، بائیس بڑے اور 14 ہزار سے زائد چھوٹے ملٹری آپریشنز کے باوجود صورتحال قابو میں نہیں آ سکی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومتی پالیسیاں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں۔

(جاری ہے)

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ نوجوان ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں جبکہ سرمایہ کار بھی پاکستان سے جا رہے ہیں، لیکن ان تمام تر مسائل اور نازک صورتحال کے باوجود حکومت کو عوامی مسائل کی بجائے صرف اس بات کی فکر ہے کہ عمران خان صاحب سے ان کی بہنوں کی ملاقات نہ ہو، انہیں ڈاکٹر تک رسائی نہ دی جائے اور ان کا علاج ذاتی ڈاکٹروں اور اہل خانہ کی موجودگی میں نہ ہونے دیا جائے۔

وزیراعلیٰ نے بعض حلقوں کی جانب سے مذاکرات یا کسی ڈیل سے متعلق خبریں چلائے جانے سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا "اگر ایسی باتیں کرنے والے خود کو سینئر صحافی کہتے ہیں تو پھر انہیں زمینی حقائق کا علم ہی نہیں"۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی صحت متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب عوام کے سامنے ہے، حکومت آئین اور قانون نہ مانتی ہو، اداروں کو مفلوج کر چکی ہو اور اپنے راستے کی ہر رکاوٹ ختم کرنے کے لیے غیر آئینی ترامیم کرے، وہاں انصاف کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ جب عدالتیں بھی مفلوج ہو جائیں تو پھر عوام انصاف کے لیے کہاں جائیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ 26 نومبر کو پرامن مظاہرین پر گولیاں چلائی گئیں، شہریوں کو شہید کیا گیا، مریدکے، اسلام آباد، آزاد کشمیر اور کراچی سمیت مختلف مقامات پر احتجاج کرنے والوں کے خلاف طاقت استعمال کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار بچانے کے لیے یہ لوگ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ حالات میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں، جب تمام آئینی اور قانونی راستے بند کر دیے جائیں تو پھر پرامن احتجاج ہی واحد راستہ رہ جاتا ہے، اور پاکستان تحریک انصاف اسی آئینی و جمہوری راستے پر چلے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جو کارکن جیلیں کاٹ رہے ہیں، سختیاں برداشت کر رہے ہیں، وہ ثابت قدم ہیں اور تمام تر مشکلات اور ظلم و جبر کے باوجود پرعزم ہیں۔ ہم اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے، حق اور آئین کی بالادستی کی جدوجہد جاری رہے گی