آزاد کشمیر حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 44 میں سے 24 مطالبات پورے کر دیے، 16 پر عمل جاری: پیش رفت رپورٹ

اتوار 7 جون 2026 19:02

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 07 جون2026ء) حکومتِ آزاد جموں و کشمیر نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر عمل درآمد میں نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے 44 میں سے 24 مطالبات مکمل طور پر پورے کردیئے ہیں۔پیش رفت رپورٹ کے مطابق 16 مزید مطالبات پر جزوی عمل درآمد ہو چکا ہے یا ان پر کام جاری ہے جبکہ صرف 4 مطالبات ایسے ہیں جن پر تعطل برقرار ہے یا انہیں قابلِ عمل نہیں سمجھا گیا۔

رپورٹ میں حکومتی اصلاحات اور عوامی ریلیف کے حوالے سے اہم کامیابیوں کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ بعض باقی ماندہ سیاسی مطالبات کو آزاد کشمیر کے جمہوری عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق جے اے اے سی کا قیام ستمبر 2023 میں تین بنیادی معاشی مطالبات کی بنیاد پر عمل میں آیا تھا جن میں سبسڈی والا آٹا، بجلی کے نرخوں میں کمی اور مراعات یافتہ طبقے کی سہولیات میں کمی شامل تھیں۔

(جاری ہے)

تنظیم کے قیام کے بعد آزاد کشمیر میں مئی 2024 کے دوران احتجاج، شٹر ڈاؤن ہڑتالیں، پہیہ جام ہڑتالیں، تشدد اور جھڑپوں کے واقعات پیش آئے۔ بعد ازاں ستمبر 2025 میں جے اے اے سی نے اپنے مطالبات کو وسعت دیتے ہوئے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈز پیش کیا جس کے ساتھ مزید احتجاجی سرگرمیاں بھی ہوئیں۔ اس کے نتیجے میں اکتوبر 2025 میں حکومتِ آزاد کشمیر اور جے اے اے سی کے درمیان باقاعدہ امن معاہدہ طے پایا۔

تاہم معاہدے پر خاطر خواہ عمل درآمد کے باوجود حالیہ دنوں میں دوبارہ احتجاج اور لانگ مارچ کی کال دی گئی۔ 11 مئی 2026 کو جے اے اے سی نے مزید 8 مطالبات پیش کیے، جبکہ 5 جون 2026 کو تنظیم پر پابندی عائد کر دی گئی۔رپورٹ کے مطابق بعض غیر حل شدہ مطالبات موجودہ جمہوری، آئینی اور سیاسی نظام کے لیے چیلنج تصور کیے جا رہے ہیں۔ ان میں بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں کو ووٹ کا حق دینے کا مطالبہ شامل ہے، جسے غیر عملی قرار دیا گیا ہے جبکہ مہاجر نشستوں کے خاتمے کے مطالبے کو مسئلہ کشمیر کے مؤقف کو کمزور کرنے کی کوشش سمجھا جاتا ہے۔

دیگر آئینی اور سیاسی مطالبات بھی تاحال زیرِ غور ہیں۔عمل درآمد رپورٹ کے مطابق 177 مقدمات (ایف آئی آرز) واپس لے لیے گئے ہیں، البتہ 15 ایسے مقدمات برقرار ہیں جن کا تعلق ہلاکتوں سے ہے۔ معطل کیے گئے تمام ملازمین کو بحال کر دیا گیا ہے، جبکہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں گرفتار کشمیری مظاہرین کو بھی رہا کر دیا گیا ہے۔حکومت نے وزارتی کابینہ کا حجم کم کرکے 20 وزراء تک محدود کر دیا ہے۔

بلدیاتی حکومت ایکٹ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی سے منظور ہو چکا ہے اور فنڈز کی منتقلی کا عمل جاری ہے۔ علاوہ ازیں احتساب بیورو اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو ضم کر دیا گیا ہے۔متاثرہ خاندانوں کو معاوضوں کی مکمل ادائیگی کر دی گئی ہے، جس کے تحت 7 جاں بحق افراد کے ورثا کو 7 کروڑ روپے اور 48 زخمی افراد کو 4 کروڑ 80 لاکھ روپے دیے گئے۔ احتجاج کے دوران جاں بحق ہونے والے آذر کے بھائی کو سرکاری ملازمت بھی فراہم کی گئی۔

معاشی اور عوامی ریلیف کے اقدامات کے تحت گندم کی فراہمی کے اقدامات نافذ کیے جا چکے ہیں اور 30:70 تناسب کے معاملے پر حکومتِ پاکستان سے رابطہ کیا گیا ہے۔ بجلی کے میٹروں کی خریداری کو ای ٹینڈرنگ کے ذریعے شفاف بنایا گیا ہے۔ اسکولوں اور کالجوں کے لیے 5 کلو واٹ لوڈ چارجز ختم کر دیے گئے ہیں، جبکہ منگلا ڈیم متاثرین کے واجبات بھی ادا کر دیے گئے ہیں۔

صحت کارڈ پروگرام نافذ کیا جا چکا ہے، تعلیمی اداروں میں اوپن میرٹ کو یقینی بنایا گیا ہے اور دو نئے تعلیمی بورڈز قائم کیے گئے ہیں۔ کچرا اٹھانے کے نظام اور ڈڈیال کشمیر کالونی واٹر سپلائی اسکیم کو سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔ رحمان پل کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے، جبکہ جائیداد منتقلی ٹیکس سے متعلق مسودہ قانون ساز اسمبلی کو بھجوا دیا گیا ہے۔

جے اے اے سی اور پولیس کے درمیان تصادم کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام کی تجویز کو قانونی رکاوٹوں کا سامنا ہے کیونکہ آزاد کشمیر ہائی کورٹ نے کمیشن کی تشکیل کی منظوری نہیں دی۔ اب حکومت ایک ریٹائرڈ جج کو نامزد کرنے پر غور کر رہی ہے۔دریں اثنا، کئی اہم منصوبوں پر کام جاری ہے جن میں موبائل انٹرنیٹ سروسز کی توسیع، منگلا ڈیم متاثرین کے مسائل کے حل کا فریم ورک، میرپور ایئرپورٹ کی فزیبلٹی اسٹڈی ،کہوٹہ۔آزاد پتن روڈ کی تعمیرِ نو، آئیسکو کے ذریعے بجلی کے نظام کی اپ گریڈیشن اور سی ٹی اسکین و ایم آر آئی مشینوں کے لیے فنڈنگ شامل ہیں۔