Live Updates

پاکستان کی قیام امن کے لئے پر خلوص کوششوں کے بار آور ہونے پر پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے،وزیراعظم

افہام و تفہیم اور پر امن سفارتکاری کی حکمت عملی ہی اسلامی اسلوب اور اسوہ حسنہ کی تعلیم ہے، نئے سال کے آغاز پر دنیا بھر کے مصیبت زدہ بالخصوص فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمان بھائیوں کے حقوق کی حمایت میں ثابت قدم رہنے کے عزم کی تجدید کرتے ہیں، شہبازشریف

منگل 16 جون 2026 20:10

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 جون2026ء) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہاہے کہ پاکستان کی قیام امن کے لئے پر خلوص کوششوں کے بار آور ہونے پر پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے،افہام و تفہیم اور پر امن سفارتکاری کی حکمت عملی ہی اسلامی اسلوب اور اسوہ حسنہ کی تعلیم ہے۔ نئے اسلامی سال 1448 ہجری کے آغاز یکم محرم الحرام پر اپنے پیغام میں انہوںنے کہاکہ تمام اہلیان وطن اور مسلم امہ کو نئے اسلامی سال 1448 ہجری کے آغاز کی خوشیاں مبارک ہوں۔

انہوںنے کہاکہ اللہ تعالی کے حضور دعا گو ہیں کہ یہ نیا سال نہ صرف عالم اسلام بلکہ تمام انسانیت کے لئے امن و خوشحالی کی نوید لے کر آئے۔انہوںنے کہاکہ 1448ہجری کا ہر دن دنیا بھر میں امن و سلامتی ،رواداری ، باہمی آہنگی، پر امن بقائے باہمی اور تحفظ انسانیت کا ضامن ہو۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ یہ امر باعث مسرت ہے کہ اسلامی سال کا مبارک آغاز دنیا میں ایران امریکہ بڑے تنازعہ کے پر امن حل کی خبر سے ہورہا ہے، پاکستان کی قیام امن کے لئے پر خلوص کوششوں کے بار آور ہونے پر پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے، افہام و تفہیم اور پر امن سفارتکاری کی حکمت عملی ہی اسلامی اسلوب اور اسوہ حسنہ کی تعلیم ہے۔

انہوںنے کہاکہ نیا ہجری سال اپنے آغاز کی روایتی نسبت سے ہجرتِ نبوی ؐ کے عظیم الشان واقعے کی یاد دہانی ہے، ہجرتِ نبوی ؐ کے نمایاں ثمرات میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مثالی معاشرت اور ریاست کی بنیاد ہے،اس مثالی ریاست نیتاریخِ انسانیت کا رخ بدل دیا اور ایمان، عدل، مساوات، اخوت اور خدمتِ انسانیت کی اساس پر مبنی ریاست کی بنیاد رکھی۔

انہوںنے کہاکہ ہجرتِ نبوی ؐ نے اخوت، ایثار، باہمی اعتماد، نظم و ضبط، عدل و انصاف اور اجتماعی ذمہ داری کا درس دیا،انہی اصولوں اور اسوہ حسنہ کی مکمل رہنمائی میں ہی مسائل کا دائمی حل پوشیدہ ہے۔ انہوںنے کہاکہ محرم الحرام کا آغاز معرکہ کربلا کی بھی یاد دلاتا ہے جس میں نواسہ رسولؐحضرت امام حسینؓنے اپنے جانثار ساتھیوں سمیت جبر و استبداد کے خلاف غیر متزلزل یقین اور جرات سے قربانی کی تاریخ رقم کی۔

انہوںنے کہاکہ نئے سال کے آغاز پر دنیا بھر کے مصیبت زدہ بالخصوص فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمان بھائیوں کے حقوق کی حمایت میں ثابت قدم رہنے کے عزم کی تجدید کرتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ نئے ہجری سال کے آغاز پر آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں دیانت داری، محنت، باہمی احترام و رواداری اور قومی یکجہتی کو فروغ دیں گے، اور اپنے کردار و عمل سے پاکستان کی ترقی، استحکام اور خوشحالی میں اپنا مثبت کردار ادا کریں گے۔اللہ تعالیٰ نئے سال کو پاکستان، عالمِ اسلام اور پوری دنیا کے لیے خیر، برکت، امن اور خوشحالی کا پیامبر بنائے۔آمین!
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات