آزاد کشمیر میں جاری بحران کا پرامن حل نکالا جائے، سردار اسد ابراہیم
انسانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے،کشمیری رہنماء کی نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس
پیر 22 جون 2026 21:50
(جاری ہے)
انہوں نے یاد دلایا کہ 19 جولائی 1947 کو سردار محمد ابراہیم خان کی رہائش گاہ سری نگر میں قرارداد الحاق پاکستان منظور کی گئی تھی، جس نے کشمیری عوام کی سیاسی سمت کا تعین کیا۔سردار اسد ابراہیم نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک بنیادی طور پر آٹے، بجلی اور دیگر بنیادی حقوق کے مطالبات سے شروع ہوئی تھی، تاہم حکومت کی جانب سے معاملات کو سنجیدگی سے حل نہ کرنے کے باعث صورتحال پیچیدہ ہوتی گئی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ماضی میں ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدے بھی کیے اور بعد ازاں انہی عناصر کو کالعدم اور دہشت گرد قرار دینا شروع کر دیا، جو افسوسناک طرز عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی فرد نے قانون شکنی کی ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے، لیکن عوامی حقوق کے لیے نکلنے والے تمام لوگوں کو دہشت گرد قرار دینا مناسب نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات سے پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں، جس سے دشمن قوتوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔سردار اسد ابراہیم نے کہا کہ آزاد کشمیر کی حکومت پر موجودہ بحران کے حل کی بنیادی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران سیاسی عدم استحکام، بار بار حکومتوں کی تبدیلی اور غیر سنجیدہ سیاسی رویوں نے عوام کا اعتماد متاثر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر کے تعلقات تاریخی، نظریاتی اور جذباتی بنیادوں پر قائم ہیں اور انہیں کسی صورت نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے بعض حلقوں کی جانب سے آنے والے ایسے بیانات پر بھی تشویش کا اظہار کیا جن سے آزاد کشمیر کے آئینی تشخص اور مسئلہ کشمیر کے بین الاقوامی موقف پر سوالات اٹھتے ہیں۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جموں کشمیر پیپلز پارٹی کے مرکزی صدر سید فضل کریم ایڈووکیٹ نے کہا کہ ضلع پونچھ سمیت مختلف علاقوں میں غذائی قلت اور اشیائے خورونوش کی ترسیل میں رکاوٹوں کی اطلاعات تشویشناک ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام کو درپیش مشکلات کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ عوامی حقوق کی تحریک کے نام پر پاکستان مخالف بیانیہ اختیار کرنا قابل مذمت ہے، جبکہ دوسری جانب طاقت کے استعمال اور تصادم کی سیاست بھی مسائل کا حل نہیں۔ تمام فریقین کو تحمل، بردباری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیے۔جموں کشمیر پیپلز پارٹی کے رہنماو?ں نے اس امید کا اظہار کیا کہ آنے والے چند روز میں حکومت اور متعلقہ فریقین کے درمیان مذاکرات کے ذریعے بحران کا پرامن حل نکال لیا جائے گا تاکہ آزاد کشمیر میں معمولات زندگی بحال ہوں اور عوام کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔مزید قومی خبریں
-
سوات میں طالب علم کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنانے اور ویڈیو بنانے کے الزام میں 3 ملزمان گرفتار
-
نئے سروس رولز سے طے شدہ سنیارٹی متاثر نہیں کی جا سکتی، سپریم کورٹ
-
حمزہ شہبازشریف کی ملتان آمد،مسلم لیگ ن کے رہنماؤں احسان الدین قریشی اور مرید عباس لنگاہ کے انتقال پر اہل خانہ سے اظہار تعزیت
-
گھوڑوں کی ریس پر آن لائن جوا کھیلنے والے 6 ملزمان گرفتار
-
واپڈا کی دریاؤں اور آبی ذخائرمیں پانی کی آمد و اخراج بارے رپورٹ جاری
-
گورنرخیبرپختونخوا کابلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
-
پنجاب بھرمیں کوڑا ٹیکس کی وصولی شروع
-
پاکستان میں 8 ماہ کے دوران 18.66 ملین موبائل ہینڈ سیٹس اسمبل کیے
-
چیچہ وطنی : نجی سولرکمپنی سے45 لاکھ سے زائد کا سامان چوری ، مقدمہ درج
-
زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری حکومت کی معاشی پالیسیوں، مالی نظم و ضبط اور بیرونی شعبے کے بہتر انتظام کا نتیجہ ہے، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری
-
غلط مالی فائدہ وقت گزرنے سے قانونی حق نہیں بن جاتا‘لاہور ہائیکورٹ
-
سعودی عرب کے دفاع کے لیے تمام دستیاب وسائل فراہم کریں گے،خواجہ آصف
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.