Live Updates

پاکستان - ایران معاشی روڈ میپ کو عملی شکل دینے کے لیے تیز رفتار اقدامات ناگزیر ہیں،میاں زاہد حسین

پیر 29 جون 2026 17:16

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 جون2026ء) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، ایف پی سی سی آئی کے پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے سربراہ اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے حالیہ دورہ پاکستان کو پاک ایران تعلقات کے تسلسل، اعتماد سازی اور معاشی تعاون کے پہلے سے طے شدہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے خطے میں امن، معاشی رابطوں اور سفارتی توازن کے لیے ایک فعال اور ذمہ دار کردار ادا کیا ہے، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے علاقائی سلامتی، سرحدی استحکام اور امن اقدامات میں مثر کردار نے پاکستان کی سٹریٹجک اہمیت کو مزید اجاگر کیا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، ثقافتی، مذہبی اور جغرافیائی قربت کو اب عملی معاشی شراکت داری میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دوطرفہ تجارت، توانائی تعاون، سرحدی رابطوں اور نجی شعبے کے اشتراک کو حقیقی بنیادوں پر وسعت دی جا سکے۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے 2025 کے دورہ پاکستان کے دوران دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں 12 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں کا تبادلہ کیا تھا، جبکہ دوطرفہ تجارت کو تقریبا 3 ارب ڈالر سے بڑھا کر 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف بھی طے کیا گیا تھا۔ حالیہ ایران امریکہ جنگ کے بعد موجودہ دورے نے اس معاشی روڈ میپ کو نئی سفارتی اہمیت دی ہے اور اس بات کا واضح پیغام دیا ہے کہ دونوں ممالک محض اعلانات تک محدود رہنے کے بجائے تجارت، گیس پائپ لائن، سرمایہ کاری، سرحدی سہولت کاری، توانائی، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مواصلات اور عوامی رابطوں کو عملی شکل دینے کے خواہاں ہیں۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کو جلد حتمی شکل دینا دونوں ممالک کی تاجر برادری کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔ تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے صرف سیاسی عزم کافی نہیں بلکہ نان ٹیرف رکاوٹوں کے خاتمے، بینکنگ اور ادائیگیوں کے متبادل قابل عمل طریقہ کار، کسٹمز کوآرڈینیشن، معیار و سرٹیفکیشن کے باہمی اعتراف، ویزا سہولتوں اور ٹرانسپورٹ لاجسٹکس پر فوری عملی اقدامات ضروری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب تک تجارت کے زمینی مسائل حل نہیں ہوں گے، 10 ارب ڈالر کا ہدف حاصل کرنا مشکل رہے گا۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ گبد-ریمدان، مند-پشین اور دیگر سرحدی مقامات پر بارڈر مارکیٹس اور سرحدی تجارتی سہولتوں کو مضبوط بنانے سے قانونی تجارت میں اضافہ، اسمگلنگ میں کمی، مقامی آبادی کے لیے روزگار کے قانونی مواقع اور سرحدی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ مل سکتا ہے۔

میاں زاہد حسین نے ایف بی آر کی جانب سے تفتان ریلوے اسٹیشن کو لینڈ کسٹمز اسٹیشن قرار دینے کے فیصلے کو بھی خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے ریل کے ذریعے درآمدات و برآمدات کی کلیئرنس میں سہولت، ٹرانسپورٹ لاگت میں کمی، کسٹمز کے عمل میں تیزی اور پاک ایران سرحدی تجارت کو منظم انداز میں فروغ ملے گا۔ میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ بارٹر ٹریڈ یا اشیا کے تبادلے کی تجارت دونوں ممالک کے لیے ایک قابل عمل راستہ ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب بین الاقوامی ادائیگیوں، کرنسی کے تبادلے اور بینکنگ چینلز کے مسائل تجارت کی رفتار کو متاثر کرتے ہیں۔

اس نظام کے ذریعے چاول، گوشت، زرعی مصنوعات، لائیو اسٹاک، خوراک، توانائی اور صنعتی خام مال کے شعبوں میں باہمی تجارت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو توانائی کے بحران، بلند پیداواری لاگت، مہنگی بجلی اور صنعتی دبا جیسے مسائل کا سامنا ہے، جبکہ ایران توانائی، پیٹرولیم مصنوعات، سرحدی بجلی، ٹرانزٹ ٹریڈ اور علاقائی رابطوں کے حوالے سے پاکستان کے لیے ایک اہم شراکت دار بن سکتا ہے۔

اس تعاون کو شفاف، قانونی اور پائیدار طریقے سے آگے بڑھایا جائے تو پاکستانی صنعت، زراعت اور برآمدی شعبے کو بڑا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ خطے کی موجودہ جغرافیائی و سیاسی صورتحال میں پاکستان اور ایران کا باہمی تعاون پہلے سے زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ سرحدی امن، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی، انٹیلی جنس شیئرنگ، تجارتی گزرگاہوں کی حفاظت اور علاقائی استحکام دونوں ممالک کی مشترکہ ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطی کے درمیان ایک قدرتی تجارتی پل کی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے گوادر اور چاہ بہار کو مسابقت کے بجائے علاقائی رابطے، ٹرانزٹ ٹریڈ اور معاشی اشتراک کے تناظر میں دیکھنا زیادہ فائدہ مند ہوگا۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ 22ویں پاک ایران جوائنٹ اکنامک کمیشن میں ہونے والی پیش رفت اور طے پانے والے پروٹوکولز کو بھی تیزی سے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی وزارتوں، ریگولیٹری اداروں، کسٹمز حکام، چیمبرز آف کامرس، بینکنگ ماہرین، لاجسٹکس کمپنیوں اور نجی شعبے کے نمائندوں پر مشتمل مستقل ورکنگ میکانزم بنایا جائے تاکہ فیصلوں پر عمل درآمد کی رفتار کو مانیٹر کیا جا سکے۔میاں زاہد حسین نے حکومت پاکستان پر زور دیا کہ ایرانی صدر کے حالیہ دورے اور گزشتہ دوروں میں طے پانے والے معاشی ایجنڈے کو مربوط انداز میں آگے بڑھایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ 10 ارب ڈالر کا دوطرفہ تجارتی ہدف ایک حقیقت بن سکتا ہے، بشرطیکہ اعلانات کو عملی اقدامات، ٹائم لائنز، نجی شعبے کی شمولیت اور سرحدی تجارت کی سہولت کاری سے جوڑا جائے۔ اس عمل کے معاشی ثمرات براہ راست عوام، تاجروں، صنعت کاروں، سرحدی علاقوں کے رہائشیوں اور ملکی خزانے تک پہنچ سکتے ہیں۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات