Live Updates

محرم الحرام میں امن وامان کے قیام میں حکومت ،ریاستی اداروں اور علماء ا کرام کی کاوشیں قابل تحسین ہیں،ڈاکٹر عبدالغفور راشد

منگل 30 جون 2026 19:35

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 30 جون2026ء) نائب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث اور السراج اسلامک فاو نڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالغفور راشد کی زیر صدارت اتحاد امت کانفرنس میں مقررین نے مذہبی مسلکی ہم آہنگی اورمقدس شخصیات کے احترام پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک مزیدکسی فرقہ واریت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔لاہور پریس کلب میں ہونے والی اتحاد امت کانفرنس سے جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا امجد خان، ہدیتہ الہادی کے سربراہ پیر سیدہارون علی گیلانی، مرکزی مسلم لیگ کے سیکرٹری اطلاعات مزمل ہاشمی، عثمان ظہیر،پروفیسر محمود غزنوی،عثمان راشد، ڈاکٹر ابراہیم سلفی، حافظ ممتاز حسین اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

مقررین نے کہا کہ استحکام پاکستان کا تقاضہ ہے کہ تمام مکاتب فکر کے درمیان طے شدہ معاملات پر کاربند رہا جائے ،ایسی گفتگو نہ کی جائے کہ جس سے مخالف فرقے کی دل آزاری ہو۔

(جاری ہے)

سوشل میڈیا پر اس وقت جو فضا بن چکی ہے وہ قابل افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے لگام سوشل میڈیا پر پیدا ہونے والی سنسنی خیزی اوربدتمیزی کو روکنا ہوگا، جبکہ مقررین کو بھی گفتگو میں احتیاط کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان مشترکات بہت زیادہ ہے،فقہی اور تاریخی اختلافات کی بنیا د پر ایسی فضا قائم نہ کی جائے کہ جس سے حالات خراب ہوں اور ملک میں بد امنی پیدا ہو ۔ انہوں نے محرم الحرام میں حکومت ،ریاستی اداروں اور علمائے کرام کی امن وامان برقرار رکھنے میں انتظامات اورکاوشوںکو سراہا اورواضح کیا ہے کہ اسلام میں مختلف فرقے ہیں ، ہر کسی کو اپنا نظریہ رکھنے کا اختیار ہے اور آئین اس کی اجازت دیتا ہے لیکن کسی کو دوسرے مسلک پر تنقید کا حق حاصل نہیں ہے کہ وہ دوسروں کی دل آزاری کرے یا مقدس شخصیات پر تنقید کرے ، ان پر آوازیں کسے ،یقینا ایسے اقدامات سے امن و استحکام کو نقصان پہنچتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم بطور مسلمان کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتے ہوں،اسلامی شخصیات خاص طور پر خاتم الانبیاحضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھ جڑی ہوئی نسبتیں ہمارے لیے قابل احترام ہیں، ازواج مطہرات، آپ کی بیٹیاں، اہل بیت اطہار اوراصحاب ذی وقار رضوان اللہ علیہم اجمعین سب ہمارے لیے مقدس اور قابل احترام ہیں ۔ اسی طرح سے آئمہ دین، عمائدین شیوخ الاحادیث و تفسیراور فقہاہمارے لیے قابل احترام ہیں۔

مقررین نے کہا کہ کہ اگر ایک فرقہ کسی امام کو محترم سمجھتا ہے تو دوسرے کو حق حاصل نہیں کہ تنقید کرے یا فتوے جاری کرے یا ان کی تکفیر کرے تو اس کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ مختلف مکاتب فکر کے نمائندہ علمانے اس موقع پر ملک کے بڑے نشریاتی ادارے پر نشر ہونے والے ویڈیو مواد پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیاہے کہ ہو سکتا ہے کہ انتظامیہ کی نیت ایسی نہ ہو، اس پر بحث نہیں کی جا سکتی لیکن جو چیزیں سامنے آئی ہیں، اس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔

پیمرا کی فوری کارروائی اور نجی چینل کی انتظامیہ کی طرف سے ہونے والی معذرت قابل تحسین ہے کہ انہوں نے اپنی غلطی کو تسلیم کیا۔ امید ہے کہ باقی نشریاتی ادارے بھی اس غلطی سے سبق حاصل کریں گے کہ ایسا کوئی مواد نشر نہ کیا جائے جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہو اور ایسے مسائل بھی نہ چھیڑے جائیں ،جس سے اختلافات پیدا ہوں،یا مجموعی طور پرتمام مسلمانوں یا کسی ایک فرقے کی دل آزاری ہو۔

انہوں نے کہا کہ علمائے کرام نے ملک میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی شدید مذمت کی اور افواج پاکستان رینجرز کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ ہماری بہادرمسلح افواج نے معرکہ حق میں ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان بہترین اور مضبوط ترین ملک ہے، صرف یہی نہیں پاکستان کی قیادت عالمی جنگ کو روکنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ مقررین نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں ثالثی کا جوکردار ادا کیا ہے ،اسے پوری دنیا سراہتی ہے اور ہم اس عمل میں شامل تمام قوتوں کا شکریہ ادا کرتے اور سراہتے ہیں۔

انہوں ے کہا کہ ریاست، حکومت اور دیگر مقتدر ذمہ دار شخصیات کی کاوشیں بھی قابل تحسین ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ ذاتی اغراض کو ایک طرف رکھتے ہوئے حکومت اور ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں تاکہ مضبوطی کے ساتھ دفاع پاکستان ،دفاع نظریہ پاکستان ،دفاع اسلام اور دفاع مقدس شخصیات کے لیے ہم شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات