اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی قید تنہائی سے متعلق درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا

منگل 30 جون 2026 22:43

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 30 جون2026ء) اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے منگل کے روز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل میں مبینہ طور پرقید تنہائی میں رکھنے کے خلاف دائر درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔جسٹس خادم حسین سومرو نے عمران خان کی بہن علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کی صاحبزادی مبشرہ خاور مانیکا کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت کی، جن میں دونوں کی مبینہ تنہائی کی قید کو چیلنج کیا گیا تھا۔

سماعت کے دوران جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دئیے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے مقدمات میں سزا یافتہ افراد کے لیے قید تنہائی کی بطور سزا مقرر نہیں ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ عدالت نے دونوں فیصلوں کا جائزہ لیا ہے اور ان میں کہیں بھی قید تنہائی کی سزا نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت پہلے یہ طے کرے گی کہ آیا یہ درخواستیں قابلِ سماعت ہیں یا نہیں، اس کے بعد ہی جیل حکام کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے پر غور کیا جائے گا۔

درخواست گزاروں کے وکیل، بیرسٹر سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو کئی ماہ سے جیل قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کا پہلے صرف پس منظر کے طور پر ذکر کیا گیا تھا، تاہم اسے علیحدہ قانونی چیلنج کے طور پر کبھی عدالت کے سامنے نہیں لایا گیا۔بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم کے بعد انہیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت ملی، لیکن گزشتہ سات ماہ سے انہیں بشریٰ بی بی سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کو روزانہ تقریباً 22 گھنٹے تنہائی میں رکھا جاتا ہے، جبکہ بشریٰ بی بی کو چوبیس گھنٹے مکمل طور پر الگ تھلگ رکھا گیا ہے۔نیب کے پراسیکیوٹر رفیع مقصود نے درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ علیمہ خان اور مبشرہ خاور مانیکا اس معاملے میں متاثرہ فریق نہیں ہیں، اس لیے انہیں قانونی طور پر درخواست دائر کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔

انہوں نے اس الزام کی تردید کی کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی کی قید میں رکھا گیا ہےاور کہا کہ دونوں کی تحویل سزا یافتہ قیدیوں کے لیے نافذ جیل قوانین کے مطابق ہے۔ انہوں نے مزید مؤقف اپنایا کہ درخواست گزاروں نے آئینی درخواست دائر کرنے سے قبل جیل حکام سے رجوع بھی نہیں کیا۔وفاقی حکومت، نیب اور اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل نے بھی عدالت سے درخواست کی کہ ان درخواستوں کو ناقابلِ سماعت قرار دے کر مسترد کیا جائے۔ دونوں جانب کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔