سوات،ملاکنڈ ڈویژن پر ٹیکس نفاذ کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر، حکومت کو سول نافرمانی کی دھمکی

اتوار 5 جولائی 2026 20:35

سوات(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 جولائی2026ء) ملاکنڈ ڈویژن کی خصوصی آئینی و قانونی حیثیت کے خاتمے اور خطے میں ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف نشاط چوک مینگورہ میں ہزار وں افراد نے نشاط چوک مینگورہ میں احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں تاجروں، صنعتکاروں، سیاسی جماعتوں، وکلا، ہوٹل ایسوسی ایشن، جرگہ ممبران اور سول سوسائٹی نے شرکت کی۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مامیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا شمالی عنایت اللہ خان ، لاکنڈ ڈویژن ٹریڈ فیڈریشن کے صدر حاجی عبدالرحیم، سوات چیمبر آف کامرس کے صدر نور محمد خان،رکن صوبائی اسمبلی فضل حکیم ، تاجر رہنما ڈاکٹر خالد محمود،جے یو آئی کے جنرل سیکرٹری اعجاز خان، قومی وطن پارٹی کے چیئرمین شیرزادہ بہادر خان ،ہوٹلز ایسوسی ایشن کے حاجی زاہد خان، اے این پی سوات کے صدر شیر شاہ خان، مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر ایڈووکیٹ قوی خان،پیپلزپارٹی کے اختر حسین اور دیگر مقررین نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن دہشت گردی، زلزلوں، سیلاب، معاشی تباہی اور انفراسٹرکچر کی بربادی کا سب سے زیادہ شکار رہا، لیکن متاثرین کو ریلیف دینے کے بجائے ان پر ٹیکس مسلط کیے جا رہے ہیں۔

(جاری ہے)

مقررین نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا، ملکی استحکام کے لیے قربانیاں دیں اور قومی خزانے میں بھرپور حصہ ڈالا، مگر آج انہی عوام کو معاشی بوجھ تلے دبایا جا رہا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ موجودہ احتجاج صرف تحریک کا آغاز ہے، اگر ٹیکس واپس نہ لیا گیا تو دھرنوں، جلسوں، جلوسوں، عدالتوں اور سول نافرمانی سمیت ہر آئینی و قانونی آپشن استعمال کیا جائے گا۔

احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے متعدد رہنماں نے اسمبلی اراکین سے استعفوں کا مطالبہ کیا، جبکہ بعض مقررین نے بجلی و گیس کے بلوں کے بائیکاٹ اور ایف بی آر دفاترکیقیام کی صورت میں مزاحمت کا عندیہ بھی دیا۔ ایم پی اے فضل حکیم نے کہا کہ اگر عوامی مفاد میں استعفوں کی ضرورت پڑی تو وہ فوری استعفی دینے کے لیے تیار ہیں، جبکہ عنایت اللہ خان نے اعلان کیا کہ جب تک ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کو مفت تعلیم، بہتر صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں، اس وقت تک ٹیکس قبول نہیں کیا جائے گا۔

مظاہرے کے اختتام پر ایکشن کمیٹی کے آئندہ لائحہ عمل کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے شرکا نے عزم ظاہر کیا کہ ملاکنڈ ڈویژن کی خصوصی حیثیت کی بحالی اور ٹیکسوں کے خاتمے تک احتجاجی تحریک مزید شدت کے ساتھ جاری رکھی جائے گی۔