ضلعی اقتصادی کمشنر کی تقرری سے تجارت کو فروغ حاصل ہوگا، میاں زاہد حسین
بدھ 15 جولائی 2026 22:03
(جاری ہے)
میاں زاہد حسین نے کہا کہ 3,785 مربع کلومیٹر پر پھیلے لورالائی کی آبادی تقریباً 2 لاکھ 72 ہزار ہے، جس کا تقریباً 78 فیصد حصہ دیہی علاقوں میں آباد ہے۔ ضلع کی معیشت بڑی حد تک باغبانی، لائیو اسٹاک، کان کنی اور نیشنل ہائی وے این 70 کے ذریعے ہونے والی تجارت پر منحصر ہے۔
لورالائی بلوچستان کو پنجاب، خیبر پختونخوا، افغانستان اور مستقبل میں وسطی ایشیائی منڈیوں سے ملانے کی جغرافیائی صلاحیت رکھتا ہے، مگر اس صلاحیت کو استعمال کرنے کے لیے مربوط حکومتی حکمت عملی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ لورالائی کی 62 فیصد سے زیادہ آبادی 20 سال سے کم عمر ہے۔ یہ افرادی قوت مناسب تعلیم، فنی تربیت اور روزگار کی فراہمی کی صورت میں بلوچستان کی بڑی معاشی طاقت بن سکتی ہے، لیکن مواقع کی عدم دستیابی اسے بے روزگاری، غربت، غیر رسمی تجارت اور جرائم کی طرف دھکیل رہی ہے۔ ضلع کی شرح خواندگی تقریباً 43 فیصد جبکہ خواتین کی شرح خواندگی تقریباً 31 فیصد ہے، جو انسانی وسائل کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ حکومت کو لورا لائی میں فنی تعلیم، خواتین کی تربیت، ڈیجیٹل تعلیم، معدنی مشینری، سولر ٹیکنالوجی، فوڈ پروسیسنگ اور ہیوی ٹرانسپورٹ سے متعلق کورسز شروع کرنے چاہئیں۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ لورالائی کے زیتون، بادام، سیب اور خوبانی ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں میں نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ لورالائی کے زیتون کے تیل کو 2025 میں نیویارک انٹرنیشنل اولیو آئل کمپیٹیشن میں سلور ایوارڈ ملنا اس علاقے کی زرعی مصنوعات کے اعلیٰ معیار کا ثبوت ہے۔ تاہم کولڈ اسٹوریج، گریڈنگ، پیکنگ، سرٹیفکیشن، برانڈنگ اور جدید ٹرانسپورٹ کی سہولتیں نہ ہونے سے کسانوں کو مناسب قیمت نہیں ملتی اور بڑی مقدار میں زرعی پیداوار ضائع ہو جاتی ہے۔ ضلع میں مربوط ایگرو پروسیسنگ زون، کولڈ چین، پھل خشک کرنے، زیتون کا تیل نکالنے اور عالمی معیار کی پیکنگ کے مراکز قائم کیے جانے ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لورالائی میں فلورائٹ، ماربل، کوئلہ اور دیگر معدنی ذخائر موجود ہیں، مگر معدنیات کو خام شکل میں باہر بھیجنے سے مقامی معیشت کو انتہائی محدود فائدہ پہنچتا ہے اس لیے فلورائٹ پروسیسنگ، ماربل کٹنگ و پالشنگ، معدنی درجہ بندی اور دیگر ویلیو ایڈڈ یونٹس قائم کیے جائیں تاکہ روزگار، حکومتی ٹیکس آمدن اور برآمدات میں اضافہ ہو۔ ماربل سٹی اور معدنی پروسیسنگ کلسٹر کے منصوبوں کو جلد مکمل کیا جائے جبکہ معدنی رائلٹی کا مناسب حصہ ضلع کی سڑکوں، ہسپتالوں، تعلیم، پانی اور کان کنوں کی حفاظت پر خرچ کیا جائے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ لورالائی کی معاشی ترقی کو امن و امان کی صورتحال سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ضلع کا وسیع اور دشوار گزار دیہی علاقہ لیویز فورس جبکہ شہری علاقوں کا انتظام پولیس کے پاس ہے، تاہم محدود وسائل، ناکافی اور ناکارہ گاڑیاں، کمزور مواصلاتی نظام اور دور دراز علاقوں تک رسائی میں مشکلات قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہیں۔ این 70، کان کنی کے علاقوں، تجارتی مراکز اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کی سکیورٹی بہتر نہ ہونے سے ٹرانسپورٹ کا خرچ، انشورنس پریمیم اور کاروباری خطرات بڑھتے ہیں جبکہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار ہچکچاہٹ کا شکار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لورالائی شہر میں مؤثر سیف سٹی منصوبہ، داخلی و خارجی راستوں پر جدید نگرانی، این 70 نیشنل ہائی وے پر مربوط چیک پوسٹیں، سی سی ٹی وی نیٹ ورک، فوری ردعمل کی اہل گاڑیاں اور پولیس و لیویز کے درمیان ڈیجیٹل رابطہ قائم کیا جائے۔ معدنی علاقوں اور اہم تجارتی راستوں پر انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کی جائیں اور اسمگلنگ، شاہراہوں پر جرائم، غیر قانونی اسلحے اور کاروباری تنازعات کی روک تھام کے لیے ریاستی عمل داری مضبوط بنائی جائے۔ تاہم سکیورٹی کا پائیدار حل صرف کارروائیوں میں نہیں بلکہ دور دراز علاقوں کو سڑکوں، تعلیم، صحت، روزگار اور رسمی معیشت سے منسلک کرنے میں ہے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ نیشنل ہائی وے این 70 لورالائی سمیت پورے شمال مشرقی بلوچستان کی معاشی شہ رگ ہے۔ اس شاہراہ کو محفوظ، کشادہ اور ہر موسم میں قابل استعمال بنانے، جدید ٹرک ٹرمینلز، ریسکیو مراکز، ویئرہاؤسنگ، کولڈ اسٹوریج اور مال بردار سہولتیں قائم کرنے سے پنجاب اور بلوچستان کے درمیان تجارت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ شاہراہ کی بندش، قبائلی تنازعات، حادثات یا سکیورٹی کے مسائل سے زرعی پیداوار، معدنیات اور دیگر سامان کی ترسیل متاثر ہوتی ہے، جس کا نقصان کسان، تاجر، ٹرانسپورٹر اور صارف سب کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لورالائی کی زراعت کا زیادہ تر انحصار زیر زمین پانی اور ٹیوب ویلوں پر ہے، جبکہ مسلسل نکاسی سے پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہو رہی ہے۔ ڈرپ اریگیشن، بارشی پانی کو محفوظ کرنے، زیرِ زمین پانی کی سطح بحال کرنے والے چھوٹے آبی ذخائر کی تعمیر اور مؤثر آبپاشی نظام کو فروغ دیا جائے۔ بے قابو سولر ٹیوب ویلوں سے پانی کے زیادہ استعمال کو روکنے کے لیے نگرانی اور مؤثر ضابطہ بندی بھی ضروری ہے۔میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ لورالائی کے لیے ایک بااختیار ضلعی اقتصادی کمشنر مقرر کیا جائے جو ضلعی انتظامیہ، پولیس، لیویز، ایف پی سی سی آئی، صوبائی حکومت، مالیاتی اداروں، سرمایہ کاروں، قبائلی قیادت اور مقامی کاروباری برادری کے درمیان صنعت و تجارت کے فروغ کے لیے روابط قائم کرے۔ جامع اقتصادی منصوبہ بندی، مضبوط ریاستی عمل داری اور مقامی آبادی کی شمولیت سے لورالائی کو بلوچستان کا اہم زرعی، معدنی، تجارتی اور برآمدی مرکز بنایا جا سکتا ہے جس کے ذریعے سالانہ ایک ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے۔مزید تجارتی خبریں
-
امریکہ کی آزادی سالگرہ پر پاک امریکہ اقتصادی شراکت داری مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، عاطف اکرام شیخ
-
انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 3 پیسے کا اضافہ
-
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی برقرار ، کے ایس ای 100 انڈیکس میں 2837.78 پوائنٹس کا اضافہ
-
ملک بھر میں سونے کی قیمت میں 400 روپے اضافہ ریکارڈ
-
بین الاقوامی منڈی میں خام تیل، سونے اور اجناس کی قیمتوں میں کمی
-
برائلرگوشت کی قیمت میں 21 روپے فی کلو کمی
-
ضلعی اقتصادی کمشنر کی تقرری سے تجارت کو فروغ حاصل ہوگا، میاں زاہد حسین
-
چاندی کی قیمت میں اضافے کے بعد وفاقی حکومت نے دیت کی رقم میں بھی اضافے کا فیصلہ
-
دو روز مسلسل سستا ہونے کے بعد سونا پھر مہنگا ہو گیا
-
ملک بھر میں سونے کی قیمت میں 900 روپے اضافہ ،فی تولہ 4 لاکھ 25 ہزار 36 روپے کا ہوگیا
-
برائلر گوشت کی قیمت میں مزید29روپے کلو اضافہ
-
عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں مزید کمی
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.