جموں وکشمیر میں چھاپے ،گرفتاریاں،اظہاررائے کی آزادی پرپابندیاں مزید سخت، مسلسل پابندیوں سے سیاسی، اقتصادی مسائل مزید سنگین رخ اختیارکررہے ہیں

اتوار 9 اگست 2026 16:42

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 09 اگست2026ء) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر تسلط جموں وکشمیر میں بھارتی فورسز اور ایجنسیوں نے چھاپوں، گرفتاریوں ، نگرانی اور اظہار رائے کی آزادی پر پابندیوں سمیت اپنی ظالمانہ کاروائیوں کا سلسلہ مزید تیز کردیا ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی فورسز اور تحقیقاتی ایجنسیوں نے ضلع بارہمولہ کے سوپور اور ملحقہ علاقوں میں جماعت اسلامی کے کارکنوں کے خلاف کالے قانون''یو اے پی اے'' کے تحت درج جھوٹے مقدمات کے سلسلے میں 26مقامات پرچھاپے مارے اور تلاشیاں لیں۔

چھاپوں کے دوران مکینوں کو سخت ہراساں کیا گیا اور دینی کتب کے علاوہ موبائل فون ، لیب ٹاپ وغیرہ ضبط کیے گئے۔ بھارتی پولیس نے ضلع بڈگام کے ایک رہائشی کو سوشل میڈیا پوسٹ پر گرفتارکر لیا جو علاقے میں اظہار رائے کی آزادی کے حق پر پابندی کی ایک اور مثال ہے۔

(جاری ہے)

گرفتار شخص کو بعدازاں عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا گیا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بھارت کی بی جے پی حکومت کو اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ متنازعہ علاقے جموں و کشمیر میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی سے روکے۔

حریت کانفرنس نے کشمیر کاز کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل اور مسلسل حمایت کو سراہتے ہوئے اسے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث قرار دیا۔ پھلوں کے کاشتکاروں نے فصلوں کی کٹائی کے موسم میں سرینگر جموں شاہراہ کی بار بار بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فوج کے قافلوں اور امرناتھ یاترا کے ٹریفک کو ترجیح دی جاتی ہے جبکہ پھلوں سے لدے ٹرک سڑک پر پھنس کررہ جاتے ہیں جس سے علاقے کی باغبانی کی صنعت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے علاقے کی ریاستی حیثیت کی بحالی میں مسلسل تاخیر پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وعدے پورے نہ کرنے سے جموں و کشمیر کے عوام کادہلی پر اعتماد ختم ہوگیا ہے دریں اثنا جموں و کشمیر سول سوسائٹی فورم نے جموں و کشمیر میں نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک اہم سماجی اور معاشی مسئلہ قرار دیا ہے۔