اگر کشمیر کے حالیہ انتخابات کو سیاہ ترین دھبہ قرار دیا جائے تو بے جا نہیں ہوگا،سینیٹر پلوشہ خان

پیر 10 اگست 2026 20:10

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 10 اگست2026ء) پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنماؤں سینیٹر پلوشہ خان، شہلا رضا اور شرمیلا فاروقی نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی، پولنگ کے عمل میں رکاوٹوں اور تشدد کے واقعات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کے شفاف ہونے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ اگر کشمیر کے حالیہ انتخابات کو سیاہ ترین دھبہ قرار دیا جائے تو بے جا نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اراکین مبینہ دھاندلی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں اور انتخابات کو پرامن قرار دینا سفید جھوٹ ہے۔پلوشہ خان نے کہا کہ پولنگ کے عمل کو روکنا اور پھر اسے معمولی واقعہ قرار دینا حکومتی رویے کی عکاسی کرتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ (ن) کو پہلے ہی انتخابی نتائج کا علم تھا اور اس کے بعد پارٹی نے اپنی فتح کا اعلان کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر میں پیدا کیے جانے والے موجودہ حالات مزید کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں اور اس کا مسئلہ کشمیر پر بھی منفی اثر پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض حلقوں میں 96 سے 99 فیصد تک ٹرن آؤٹ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس پر سوالات اٹھتے ہیں۔سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ عوام کی یادداشت کمزور نہیں اور پیپلزپارٹی نے ہمیشہ عوام کے درمیان رہتے ہوئے مشکلات کا سامنا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی عہدے مستقل نہیں ہوتے اور اقتدار کسی کو ہمیشہ کے لیے نہیں دیا جاتا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی حکومت کی اتحادی ضرور ہے، تاہم کسی کی غلام نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اگر آزاد کشمیر میں حکومت بناتی ہے تو وہ ایک متنازع حکومت ہوگی اور پیپلزپارٹی انتخابی بے ضابطگیوں کو نظر انداز نہیں کرے گی۔پریس کانفرنس میں شہلا رضا نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں ووٹ کو جو عزت دی جا رہی ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ممکنہ طور پر گلگت بلتستان جیسی صورتحال سے بچنے کے لیے بعض نشستوں پر دھاندلی کی گئی۔شہلا رضا کے مطابق ایک بجے سے قبل الیکشن کمیشن کو متعدد شکایات موصول ہو چکی تھیں، جبکہ پولنگ کے دوران بعض مقامات پر مبینہ طور پر پولیس سے انتخابی مواد چھیننے اور فائرنگ کے واقعات بھی سامنے آئے۔ انہوں نے ایک رکن قومی اسمبلی کو گولیاں لگنے کے واقعے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

شرمیلا فاروقی نے اپنے خطاب میں پنجاب میں خواتین اور بچوں کے تحفظ کے حوالے سے حکومتی دعوں پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پنجاب میں جرائم اور بچوں کے ساتھ مبینہ زیادتی کے واقعات پر مؤثر کارروائی نہیں کی جا رہی۔انہوں نے پنجاب اور سندھ کے تقابل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی صوبے کی ترقی اور صفائی ستھرائی کے دعووں سے بڑھ کر شہریوں، بالخصوص خواتین اور بچوں، کا تحفظ اہم ہے۔

شرمیلا فاروقی نے مسلم لیگ(ن)کے انتخابی دعوں اور نشستوں کے حوالے سے پیش گوئیوں پر بھی تنقید کی۔شہلا رضا نے کہا کہ پیپلزپارٹی انتخابی بے ضابطگیوں کا حساب مانگتی ہے اور اگر حکومت یا مسلم لیگ(ن)کی جانب سے اس معاملے پر کوئی ردعمل سامنے آیا تو پیپلزپارٹی بھی اسی کے مطابق اپنا سیاسی ردعمل دے گی۔پیپلزپارٹی رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات سے متعلق تمام شکایات کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور انتخابی عمل میں سامنے آنے والی مبینہ بے ضابطگیوں کا فوری نوٹس لیا جائے۔