80 سال بعد بھی پاکستان میں نظامِ حکومت اور جمہوریت کی افادیت پر سوالات ہیں، غریدہ فاروقی

آج بھی ملک میں یہ بحث جاری ہے کہ کیا جمہوریت نے پاکستان کو کچھ ڈیلیور کیا، عوام کو جمہوری نظام سے کیا فائدہ ہوا؟ اور کیا موجودہ نظام ملک کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ ٹی وی پروگرام میں گفتگو

Faizan Hashmi فیضان ہاشمی جمعہ 14 اگست 2026 12:10

80 سال بعد بھی پاکستان میں نظامِ حکومت اور جمہوریت کی افادیت پر سوالات ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 اگست 2026ء)  تجزیہ کار غریدہ فاروقی نے کہا ہے کہ پاکستان کو آزاد ہوئے 80 سال گزر چکے ہیں، لیکن آج بھی ملک میں یہ بحث جاری ہے کہ کیا جمہوریت نے پاکستان کو کچھ ڈیلیور کیا، عوام کو جمہوری نظام سے کیا فائدہ ہوا؟ اور کیا موجودہ نظام ملک کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟۔ یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ پاکستان میں نئے صوبے بننے چاہئیں، نئے انتظامی یونٹس تشکیل دیے جانے چاہئیں یا ملک کو کسی اور طریقے سے بہتر انداز میں چلایا جا سکتا ہے۔

ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے گزشتہ 80 برسوں کے دوران پاکستان کی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو اقتدار اور حکمرانی میں آزمایا جا چکا ہے۔ کچھ جماعتوں کے ادوار طویل رہے جبکہ کچھ کو مختصر عرصے کے لیے اقتدار ملا۔

(جاری ہے)

اس دوران ملک میں مارشل لا بھی آیا، مختلف ڈکٹیٹرز بھی آزمائے گئے اور صدارتی نظام بھی نافذ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج پھر یہ بنیادی سوال موجود ہے کہ 80 سال میں موجودہ جمہوری نظام، جسے جمہور کا نظام کہا جاتا ہے، نے عوام کو حقیقی معنوں میں کیا فائدہ پہنچایا اور کیا اگلے 80 سال بھی یہی بحث جاری رہے گی کہ پاکستان کے لیے کون سا نظام بہتر ہے۔

تجزیہ کار نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ معیشت کا نظام ہے جو مؤثر انداز میں نہیں چل رہا۔ تاہم دیگر معاملات میں، خصوصاً خارجہ محاذ پر، موجودہ حکومت کی کارکردگی کو انہوں نے بہترین اور قابل ذکر قرار دیا۔ ان کے مطابق گزشتہ سال معرکۂ حق میں پاکستان نے اپنے اصل دشمن بھارت کو جس طرح شکست دی، اس کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کا وقار مسلسل بلند ہو رہا ہے۔

غریدہ فاروقی نے کہا کہ اسی منظرنامے اور پس منظر میں حال ہی میں مکہ دفاعی معاہدہ بھی ہوا ہے۔ ان کے مطابق دفاعی معاہدے اور دفاعی معاملات خارجہ امور کا حصہ ہیں اور ڈیفنس اینڈ ڈپلومیسی کے حوالے سے پاکستان اس وقت بہت اچھا کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ملک کے اندرونی حالات، معیشت اور سماجی ڈھانچے کا جائزہ لیا جائے تو صورتحال مختلف نظر آتی ہے۔

پاکستان میں نوجوانوں کی بہت بڑی آبادی ہے اور 60 سے 65 فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان نوجوانوں کو پاکستان کے مستقبل اور اپنے مستقبل سے کوئی امید وابستہ نظر آتی ہے؟ 
غریدہ فاروقی کے مطابق اس سوال کا جواب نفی میں ملتا ہے۔ تجزیہ کار نے سیاسی ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ آج 13 اگست کو پاکستان تحریک انصاف نے اپنے بانی عمران خان سے ملاقات کی کوشش کی، تاہم ملاقات نہیں ہو سکی۔

ان کا کہنا تھا کہ یومِ آزادی کے موقع پر اگر عمران خان کے خاندان یا وکلا میں سے کسی کو ملاقات کی اجازت دے دی جاتی تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں تھا، بلکہ اس اقدام سے سیاسی ہم آہنگی کو فروغ ملتا اور حکومت کے کھاتے میں یہ ایک مثبت پیش رفت کے طور پر شامل ہوتی کہ اس نے یومِ آزادی کے قریب ملاقات کی اجازت دی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پشاور سے چل کر اڈیالہ جیل پہنچے، وہاں موجود رہے اور ملاقات کی اجازت کے لیے اپیل کرتے رہے۔

ان کے مطابق وزیراعلیٰ نے گارنٹی بھی دی کہ ملاقات کے بعد کوئی شخص باہر آکر سیاسی بیان بازی نہیں کرے گا اور حکومت سے اپیل کی کہ کسی نہ کسی کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ غریدہ فاروقی نے کہا کہ ایک طرف یہ صورتحال موجود ہے جبکہ دوسری جانب سیاسی جماعتوں کے اندر بھی بہت سے فِشرز، خلیجیں اور دراڑیں موجود ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان اس وقت سیاسی عدم اعتماد کی فضا سے دوچار ہے، جس کے باعث ملک کے اندر سیاسی ہم آہنگی پیدا کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔