فواد چوہدری اور شیریں مزاری نے مصطفی کمال سے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا

بچوں کی وارڈ میں آتشزدگی سے بچوں کی جان جانے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر صحت استعفی دیں. سابق وفاقی وزرا کا مطالبہ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ 26 اگست 2026 13:35

فواد چوہدری اور شیریں مزاری نے مصطفی کمال سے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔26 اگست ۔2026 ) پاکستان کے سابق وفاقی وزرا فواد چوہدری اور شیریں مزاری نے پمز ہسپتال واقعے پر وفاقی وزیرصحت مصطفی کمال سے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا ہے فواد چوہدری نے” ایکس “پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ بچوں کی وارڈ میں آتشزدگی سے بچوں کی جان جانے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر صحت مصطفیٰ کمال کو استعفی دیں.

(جاری ہے)

ان کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے اور اندوہناک واقعہ کی ذمہ دار انتظامیہ کے خلاف سخت کاروائی ہونی چاہیے، صرف معطلی اور ٹرانسفر کوئی سزا نہیں ہو گی ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر اس واقعہ پر بری الذمہ قرار نہیں دیے جا سکتے شیریں مزاری نے فواد چوہدری کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہاں ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے. ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں ہونے والے ٹرین حادثات کو ہی یاد کر لیجیے تاہم یہ واقعہ انتہائی ہولناک ہے ان کا کہنا ہے کہ پمز اور چلڈرنز ہسپتال شدید غفلت، بدانتظامی اور ابتری کا شکار ہیں شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ چلڈرن ہسپتال کے لیے ”فرینڈز آف چلڈرنز ہسپتال“ کے نام سے ایک بہت فعال گروپ موجود تھا جو حکومتی فنڈنگ کی کمی سے پیدا ہونے والی خلا‘ کوپر کرنے میں مدد کرتا تھا لیکن مجھے یقین نہیں کہ وہ اب بھی فعال ہے یا نہیں.

ادھر پمز ہسپتال کی دستاویز کے مطابق چلڈرن وارڈ میں 15 بچے داخل تھے جن میں سے صرف ایک کو بچایا جا سکا ہے اس سے قبل پمز ہسپتال کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عمران سکندر اور ہسپتال کی ترجمان ڈاکٹر انیزہ جلیل نے واقعے میں 14 بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی.