اس وقت صدر آصف زرداری پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ استعفیٰ دیں یا پھر اس معاملے پر لڑائی کی طرف آئیں، سینئر صحافی محسن بیگ

دونوں صورتوں میں مزید سیاسی عدم استحکام آئے گا، پیپلزپارٹی کو مائنس کرکے صوبے بنائے گئے تو بڑی خرابی کا باعث بنے گا، اس وقت ایک تناؤ کا ماحول ہے

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ 11 ستمبر 2026 19:11

اس وقت صدر آصف زرداری پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ استعفیٰ دیں یا پھر ..
لاہور (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 11 ستمبر 2026ء ) سینئر صحافی محسن بیگ کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے معاملے پر ان دنوں مختلف حلقوں میں بحث ہورہی ہے، اس وقت صدر آصف زرداری پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ استعفیٰ دیں یا پھر اس معاملے پر لڑائی کی طرف آئیں، دونوں صورتوں میں مزید سیاسی عدم استحکام آئے گا۔

ایکس پر محسن بیگ کے ٹویٹ کے مطابق نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے معاملے پر ان دنوں مختلف حلقوں میں بحث ہورہی ہے صوبے ضرور بننے چاہیے اور بہت پہلے بن جاتے تو زیادہ اچھا تھا لیکن اب جس طرح نئے صوبوں کا اعلان کیا گیا ہے اس پر کئی سیاسی جماعتوں کو تحفظات ہیں سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کو Push کردیا گیا اور انہوں نے سندھ کی تقسیم کے خلاف اپنی صوبائی اسمبلی میں نئی قرارداد بھی پاس کی ۔

(جاری ہے)

اس وقت ایک تناؤ کا ماحول ہے جن لوگوں نے اب یہ مہم شروع کی ہے انہوں نے سوائے پیغام کے کچھ نہیں کیا کیونکہ ان کا اس معاملے پر اثرورسوخ اور عبور نہیں ہے ۔
نئے صوبے 1973 کے آئین کے مطابق ہی بنیں گے اور آئین میں صوبے بنانے کا طریقہ کار درج ہے، اگر اس سے ہٹ کر زبردستی سے نئے صوبے بنانے کی کوشش کی گئی تو یہ مزید خرابی کا باعث بنے گا اور اگر پیپلز پارٹی کو مائنس کرکے نئے صوبے بنائے گئے تو یہ تو بہت  بڑی خرابی کا باعث بنے گا اس وقت صدر آصف زرداری پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ استعفیٰ دیں یا پھر اس معاملے پر لڑائی کی طرف آئیں دونوں صورتوں میں مزید سیاسی عدم استحکام آئے گا۔

اس وقت خیبر پختونخوا،بلوچستان اور آزاد کشمیر میں پہلے ہی حالات بہت خراب ہیں امن وامان کی صورتحال انتہائی دگرگوں ہے بغیر بحث اور اتفاق رائے کے صوبے بنائے گا تو یہ عدم استحکام سینٹرل پاکستان تک پہنچ جائے گا اس لیے ضروری ہے کہ صوبوں کے معاملے پر تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے بحث کی جائے مذاکرات کیے جائیں پھر فیصلہ کیا جائے۔

اس وقت صوبے بنانے کی بات ہورہی ہے لیکن یہ نہیں بتایا جارہا کہ صوبے یا انتظامی یونٹس کا فارمولا کیا ہوگا؟ کس فارمولا کے تحت ان کو چلایا جائے گا؟ وسائل کی تقسیم کیسے ہوگی؟ حد بندی کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ انتظامی یونٹس کے بعد اگر بلدیاتی نظام لایا جاتا ہے تو وہ کیسے چلے گا یہ سب وہ سوالات ہیں جن کا پہلے جواب ملنا بہت ضروری ہے اس کے بعد قومی اتفاق رائے سے صوبے یا انتظامی یونٹس بنائے جائیں۔