پی ٹی آئی کا لانگ مارچ 5 اکتوبر تک موخر کرنے کی تجویز ، محمود اچکرزئی کا لانگ مارچ کی کال برقر ار رکھنے پر زور

اپوزیشن جماعتوں کو ہمارے ساتھ احتجاج میں شرکت پر آمادہ کرلیا جائے تو احتجاج کا اثر زیادہ ہوگا، اراکین کی تجویز پر اتفاق ، اندرونی کہانی میچ فکس نہیں، اس بار ضرور جیتیں گے،حکومت خوفزدہ ہے، اسلام آباد کو کنٹینر سٹی میں تبدیل کردیا گیا ، ہم نے گولی یا بندوق کی سیاست نہیں کرنی،سہیل آفریدی تحریکِ انصاف لانگ مارچ کیلئے مکمل تیار ہے،لانگ مارچ پرامن ہوگا ، سرکاری وسائل استعمال نہیں کیے جائیں گے، شوکت یوسفزئی مارچ ختم کر نے کی تردید

جمعہ 25 ستمبر 2026 19:35

اسلام آباد /پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 ستمبر2026ء) پاکستان تحریک انصاف نے لانگ مارچ 5 اکتوبر تک موخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پشاور میں پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی اجلاس ہوا جس میںتجویز دی گئی کہ 27 ستمبر کا لانگ مارچ موخر کر کے 5 اکتوبر کو کیا جائے ۔ذرائع نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بیرسٹر گوہر کو درخواست کی کہ وہ دونوں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو فون کریں۔

ذرائع نے بتایا کہ بیرسٹر گوہر نے سہیل آفریدی کو کہا کہ فون آپ خود کریں،اجلاس میں محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو سہیل آفریدی کی جانب سے کال کرنے پر اتفاق ہوا ۔ دریںثناء وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا، ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی نے محمود خان اچکزئی سے لانگ مارچ کے حوالے سے ہدایات لیں، سہیل آفریدی نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنمائوں کا مشورہ ہے کہ لانگ مارچ ملتوی کیاجائے۔

(جاری ہے)

ذرائع نے بتایا کہ محمود اچکزئی نے سہیل آفریدی سے کہا کہ 27 ستمبر لانگ مارچ کال برقرار رکھی جائے، 27 ستمبر کے لائحہ عمل سے متعلق مزید مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے۔اس سے قبل سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی خیبر پختونخوا شوکت یوسفزئی نے کہا کہ لانگ مارچ ختم کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ تحریکِ انصاف لانگ مارچ کے لیے مکمل تیار ہے،لانگ مارچ پرامن ہوگا اور اس میں سرکاری وسائل استعمال نہیں کیے جائیں گے۔

شوکت یوسفزئی نے کہا کہ وفاقی حکومت مذاکرات کرے تو لانگ مارچ سے متعلق کچھ فیصلہ ہوسکتا ہے، تاہم اس بار کچھ حاصل کیے بغیر لانگ مارچ ختم نہیں ہو گا۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہمیں کنٹینرز ہٹا کر راستے کھولنے کی ضرورت نہیں، جہاں راستہ بند ہو گا وہیں دھرنا دیا جائے گا۔ دریں اثناء پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی جس کے مطابق سیاسی کمیٹی کا اجلاس شروع ہوا تو ابتدائی طور پر وزیراعلیٰ سمیت تمام پارٹی رہنماں نے اب تک کے لانگ مارچ سے متعلق بننے والی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی اور راستے کی رکاوٹوں، بالخصوص موٹروے پر موجود رکاوٹوں کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں ابتدائی طور پر صوابی سے تعلق رکھنے والے ایک رکن نے تجویز دی کہ فی الحال مارچ کو ملتوی کر دینا چاہیے کیونکہ مختلف اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے، دیگر اپوزیشن جماعتوں کو ہمارے ساتھ احتجاج میں شرکت پر آمادہ کرلیا جائے تو احتجاج کا اثر زیادہ ہوگا۔ اس تجویز پر پارٹی اجلاس میں موجود کئی دیگر ارکان نے بھی اتفاق کیا۔

بیرونِ ملک مقیم ایک پارٹی رہنما نے اجلاس میں تجویز دی کہ اگر فی الحال مارچ ملتوی کرنا ہے تو کر دیا جائے تاہم تاریخ کا اعلان نہ کیا جائے جس پر اجلاس میں موجود ایک رہنما نے اعتراض کیا کہ اگر تاریخ نہیں دی جائے گی تو کارکن مشتعل ہوں گے جس کی دیگر ارکان نے بھی حمایت کی۔اجلاس میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ 4 اکتوبر کو صوابی کیلئے روانہ ہوا جائے گا اور 5 اکتوبر کو صوابی سے اسلام آباد کے لیے روانگی ہوگی، اس تجویز پر تمام ارکان نے اتفاق کیا تاہم پارٹی اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ باضابطہ اعلان اس وقت تک نہیں کیا جائے گا جب تک محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر کو اعتماد میں نہ لے لیا جائے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں رہنماں کو اعتماد میں لینے کے بعد وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا مارچ ملتوی کرنے کا باضابطہ اعلان کریں گے جبکہ پارٹی کی جانب سے اس حوالے سے اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کو فنڈز کے معاملے کا بھی سامنا ہے جو لانگ مارچ کی راہ میں ایک رکاوٹ بن رہا ہے۔ ماضی میں علی امین گنڈاپور پارٹی کے ساتھ مالی طور پر تعاون کرتے رہے ہیں تاہم اس بار پارٹی کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر بھی ایک جلسے میں پارٹی کو درپیش مالی مشکلات کا اظہار کرچکے ہیں اور انہوں نے تمام ارکانِ اسمبلی سے مالی تعاون کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ذرائع کے مطابق گزشتہ کئی دنوں سے مارچ کے حوالے سے پارٹی کے اجلاس جاری تھے اور گزشتہ اجلاسوں میں بھی مارچ کی تاریخ تبدیل کرنے کی رائے سامنے آ چکی تھی۔ دریں اثناء وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میچ فکس نہیں، اس بار ضرور جیتیں گے، کوئی نہ ڈرے، میں کارکنان کے ساتھ کھڑا ہوں۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا وفاقی حکومت تحریک انصاف کیکارکنان سے خوفزدہ ہے، اسلام آباد کو کنٹینر سٹی میں تبدیل کردیا گیا۔ سہیل آفریدی بولے ہم نیگولی یا بندوق کی سیاست نہیں کرنی، ہم پرامن رہیں گے، پرامن تحریک چلائیں گے۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا پنجاب میں جعلی وزیراعلی ہیں، پنجاب کی جعلی وزیر ہمیں دہشتگرد سمجھتی ہیں۔