ای ایس جی پرعملدرآمد میں بڑا خلا ہے، شیری رحمان
ماحولیاتی، سماجی اور انتظامی امور پر بات صرف ماحولیات تک محدود نہیں ،سیاست اور قانون کو بھی ساتھ دیکھنا ہوگا، نائب صدر پیپلزپارٹی
پیر 5 اکتوبر 2026 22:03
(جاری ہے)
شیری رحمان نے کہا کہ تمام لسٹڈ کمپنیوں کے لیے ماحولیاتی، سماجی اور انتظامی امور کی رپورٹنگ لازمی بنانے کا مرحلہ وار نظام متعارف کرایا گیا ہے، یکم جولائی 2029 سے 25 ارب روپے سے زائد کاروبار، ایک ہزار سے زائد ملازمین یا 12.5 ارب روپے سے زائد اثاثوں والی کمپنیوں پر رپورٹنگ لاگو ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ یکم جولائی 2030 سے 12.5 ارب روپے سے زائد کاروبار، 500 سے زائد ملازمین یا 6.25 ارب روپے سے زائد اثاثوں والی مزید بڑی کمپنیوں پر رپورٹنگ لاگو ہوگی، یکم جولائی 2031 سے تمام باقی لسٹڈ کمپنیوں اور عوامی مفاد کی غیر لسٹڈ کمپنیوں کے لیے بھی رپورٹنگ لازمی ہوگی۔نائب صدر پیپلز پارٹی نے کہا کہ 2026 سے 2027 کے دوران جرمانوں کے ساتھ کمپنیوں کے لیے مراعات شامل کرنے والے قانون پر کام ہوگا، نجی شعبے پر پہلے ہی ٹیکسوں کا بڑا بوجھ ہے، نئی ماحولیاتی پالیسی کمپنیوں پر غیر ضروری مالی بوجھ نہیں ڈالنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان گرین ٹیکسانومی کاروباری اداروں اور مختلف شعبوں کو پائیداری کے لیے مشترکہ زبان فراہم کرے گی اور اسے عالمی ماحولیاتی قوانین و یورپی یونین کے کاربن بارڈر نظام سے ہم آہنگ کرنا ہوگا، صرف جرمانوں پر مبنی قانون کا کوئی فائدہ نہیں، مراعات، واضح عملی طریقہ کار اور کاروباری شعبے کی شمولیت ضروری ہے۔شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان میں مینوفیکچرنگ بڑھانے کے ساتھ صاف اور ماحول دوست پیداوار کو بھی فروغ دینا ہوگا، صاف ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری، اخراج میں کمی، توانائی کی بچت اور بہتر فضلہ انتظام کے لیے کمپنیوں کو مثر مراعات دینا ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی قوانین کی پابندی صرف کاغذی کارروائی رہی تو زمینی سطح پر حقیقی تبدیلی نہیں آئے گی، پاکستان نے آلودگی کے باعث اپنے لیے نیا ماحولیاتی بحران پیدا کر لیا ہے، لاہور کئی بار دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں سرفہرست رہا، ہوا کی آلودگی ہمارے اپنے اقدامات کا نتیجہ ہے، اس کی ذمہ داری بھی ہمیں خود اٹھانا ہوگی۔نائب صدر پیپلز پارٹی نے کہا کہ ماحولیاتی پالیسی کے لیے قوانین کے ساتھ واضح حکمت عملی، اہداف اور قابلِ پیمائش نتائج مقرر کرنا ہوں گے، پاکستان میں شمسی توانائی کا انقلاب عوام کی اپنی ضرورت اور فیصلوں سے آگے بڑھا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برس میں پاکستان میں 50 گیگا واٹ سے زائد سولر پینلز درآمد کیے گئے جن کی مالیت تقریبا 18 ارب ڈالر بتائی گئی ہے، پاکستان کی سولر منتقلی نے ملک کے توانائی کے منظرنامے کو نمایاں طور پر تبدیل کر دیا ہے، اب اسے قومی توانائی منصوبہ بندی سے جوڑنا ہوگا۔شیری رحمان نے کہا کہ شمسی توانائی کے ساتھ گرڈ، بیٹری اسٹوریج، تقسیم شدہ توانائی اور توانائی کی طلب کو بھی پالیسی میں شامل کرنا ہوگا، نیٹ میٹرنگ نے شمسی توانائی کو فروغ دیا لیکن اب اسے پائیدار اور منصفانہ انداز میں بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا فوسل ایندھن پر انحصار کم کر رہی ہے، پاکستان کو بھی صاف توانائی، توانائی خودکفالت اور ماحولیاتی لچک کے اہداف مقرر کرنا ہوں گے، پائیداری کے لیے صرف رپورٹنگ نہیں بلکہ واضح حکمت عملی، اہداف، کارکردگی کے پیمانے اور عملی نتائج ضروری ہیں۔شیری رحمان نے کہا کہ قانون سازی سے پہلے کاروباری شعبے کو اپنی تکنیکی تیاری مکمل کرکے حکومت اور پارلیمنٹ کے سامنے قابلِ عمل حل پیش کرنا چاہیے، قانون سازی سے پہلے کم از کم تین قابلِ عمل پالیسی آپشنز اور ان کے ممکنہ نتائج سامنے لائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ پائیداری کے لیے سیاسی، عوامی اور کاروباری عزم کے ساتھ ماہرین، مقامی برادریوں اور سول سوسائٹی کی شمولیت بھی ضروری ہے، کاروباری شعبے کو حکومت اور پارلیمنٹ سے قانون آنے کا انتظار کرنے کے بجائے خود پائیداری کے لیے قیادت کرنا ہوگی۔نائب صدر پیپلز پارٹی نے کہا کہ ماحولیاتی لچک صرف حکومت سے نہیں بلکہ عوام سے پیدا ہوتی ہے، ای ایس جی قانون سازی کو پاکستان کی صنعتی ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار کے اہداف سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان میں ای ایس جی کا مستقبل صرف رپورٹنگ نہیں بلکہ قابلِ پیمائش کارکردگی، شفاف اعداد و شمار اور عملی نتائج سے جڑا ہونا چاہئے۔مزید اہم خبریں
-
ایف بی آئی پر بڑے سائبر حملے کے الزام میں اردن کا نوعمر نوجوان گرفتار
-
لاہورہائی کورٹ:عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی درخواست سماعت کے لیے مقرر ہوگئی
-
حکومت نے مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی‘ کسی کی وفاداری مشکوک نہیں، ہم سب پاکستانی ہیں. مولانا فضل الرحمان
-
عمران خان نے کوئی جرم نہیں کیا، وہ جیل میں اس لیے ہے کہ طاقتور قوتوں کو ’’ایبسلوٹلی ناٹ‘‘ کہا، سہیل آفریدی
-
حکومت اور اپوزیشن غیرمشروط مذاکرات شروع کرکے امن و استحکام کو ایک موقع دیں، خواجہ سعد رفیق
-
خیبرپختونخوا میں کارکنان اور پولیس میں تصادم نہیں ہوگا لیکن سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریاں ضرور ہوں گی، شیر افضل خان مروت
-
ایران اورامریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششیں بدستورجاری ہیں.قطر
-
لانگ مارچ ایسا نہیں کہ کوئی بہت بڑا سیلاب آگیا ہے اوراسے کنٹرول نہیں کیا جاسکتا.راجہ ناصر عباس
-
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی عدم موجودگی کے باعث خیبر پختونخوا میں سرکاری امور اور فیصلہ سازی متاثر ہونے لگی
-
ایسٹ ویسٹ پائپ لائن سے یومیہ 58 لاکھ بیرل تیل کی پمپنگ بحال کردی ہے.سعودی وزیر توانائی
-
خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی لگائی گئی تو تحریک انصاف اسمبلیوں سے مستعفی ہو جائے گی. جنید اکبرخان
-
مذاکرات کے دوران ہم نے ایک بار بھی لانگ مارچ ملتوی کرنے کا نہیں کہا.طارق فضل چوہدری
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.