نئے پاکستان کا منشور 29 اپریل کے جلسے میں دوںگا، ہم طبقاتی نظام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، عمرا ن خان

دونہیں ایک پاکستان ، ہم سب کا نیاپاکستان ہمار ا سلوگن ہے ، 2018 ء کا الیکشن پاکستان کی تقریر بدلنے کے لئے الیکشن ہوگا پہلے جیلوں میںغریب جاتا تھا امیروں کو کوئی نہیں پوچھتا تھا، ایک طرف کرپٹ ٹولہ ہے جو پاکستان کے ادارے تباہ کررہا ہے غریب عوام ہیں جو پاکستان کو بچاناچاہتے ہیں 2013 ء سے جو بھی جدوجہد ہوئی 29 اپریل کے جلسے میں اجاگر کریںگے تحریک انصاف کی تاریخ دو اہم جلسے ہوئے ہیں ایک 29 اپریل 2011 ء کا جلسہ تھا، دوسرا 2016 ء میں رائے ونڈکا جلسہ تھا جس کی کامیابی سے نوازشریف کہہ رہا ہے مجھے کیوں نکالا، اجلاس سے خطاب

جمعرات اپریل 23:31

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ جمعرات اپریل ء) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کاکہناہے کہ نئے پاکستان کا منشور 29 اپریل کے جلسے میں دوںگا، ہم طبقاتی نظام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، دونہیں ایک پاکستان ، ہم سب کا نیاپاکستان ہمار ا سلوگن ہے ، 2018 ء کا الیکشن پاکستان کی تقریر بدلنے کے لئے الیکشن ہوگا، پہلے جیلوں میںغریب جاتا تھا امیروں کو کوئی نہیں پوچھتا تھا، ایک طرف کرپٹ ٹولہ ہے جو پاکستان کے ادارے تباہ کررہا ہے جبکہ دوسری غریب عوام ہیں جو پاکستان کو بچاناچاہتے ہیں، 2013 ء سے جو بھی جدوجہد ہوئی 29 اپریل کے جلسے میں اجاگر کریںگے، تحریک انصاف کی تاریخ دو اہم جلسے ہوئے ہیں ایک 29 اپریل 2011 ء کا جلسہ تھا، دوسرا 2016 ء میں رائے ونڈکا جلسہ تھا جس کی کامیابی سے نوازشریف کہہ رہا ہے مجھے کیوں نکالا، ان خیالات کا اظہار چیئرمین عمران خان نے فلیٹیز ہوٹل میں لوگو اینڈ ٹیگ لائن کی انائوسمنٹ اور رائل پام میںچیئرمین ، وائس چیئرمین ، کونسلرز ، وومن ، یوتھ ،آئی ایس ایف ، ورکروں اور سٹیک ہولڈروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ " دو نہیںایک پاکستان ،ہم سب کا نیا پاکستان -" چاہتے ہیں، اس موقع پر جہانگیر خان ترین، شفقت محمو د ،چوہدری سرور ،عبدالعلیم خان ،ڈاکٹر وسیم شہزاد، میاں محمود الرشید، سیدصمصام علی بخاری، ڈاکٹریاسمین راشد ، اعجازاحمدچوہدری ، شعیب صدیقی،میاں اسلم اقبال ،ڈاکٹر مراد راس، ڈاکٹر شاہدصدیق ،عمر سرفراز چیمہ جمشید اقبال چیمہ،،شوکت بھٹی، سہیل ظفرچیمہ، عائشہ چوہدری، راناندیم ، فواد رسول بھلر ، حافظ فرحت عباس ، آجاسم شریف ،منشاء سندھو،ز بیر نیازی ،سعدیہ سہیل، عندلیب عباس، ڈاکٹر نوشین حامدمعراج ،عالیہ حمزہ ملک،مسرت جمشیدچیمہ،ندیم قادر بھنڈر، تنزیلہ عمران، سارہ احمدسمیت دیگر رہنمائوں ، ورکروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے ارکان اسمبلی بکے، اگر ایم پی ایز ہمیںمطمئن نہ کرسکے تو ان کے نام نیب کو دیںگے، 2013 ء میں بھی دونوں جماعتوں نے نگران حکومت بنائی تھی اور اگراب 2018 ء کے الیکشن میں بھی (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی ملکر نگران حکومت بناتے ہیں تو ہمارے خیال میں الیکشن شفاف نہیں ہو گا، چیف جسٹس شہریوں کے مسائل کی ٹھیک نشاندہی کررہے ہیں، لیکن ہمارا مطالبہ ہے کہ چیف جسٹس خیبرپختونخوا کی کارکردگی کا موازنہ دوسرے صوبوں سے کریں، کوئی اگر کے پی کے تحریک عدم اعتماد لانا چاہتا تو ضرور لائے، پہلی دفعہ کسی جماعت نے ضمیر فروشی پر ایکشن لیا ہے ، ہم دیکھیں گے کیا دیگر جماعتیں بھی اپنے ضمیر بیچنے والوں نمائندوں کے خلاف ایکشن لیںگی، ہم شاہد خاقان عباسی سے بھی کہتے وہ بھی اپنے ضمیر فروش ارکان کو سامنے لائیں، چوہدری نثار نے غیر کے باعث مریم نواز کا حکم نہیں مانا ، چوہدری نثار ایک غیر مند انسان ہے اسی لئے مریم نوازکے آگے جھکنے سے انکار کیا ،چوہدری نثار کو پارٹی میںدعوت دیتے ہیں، 2018 ء کے الیکشن کے بارے میں اجلاس سے خطاب کیا ، ہر چیزمیں دو پاکستان بنے ہوئے ، عام آدمی کے لئے اردومیڈیم اور امیر کے انگلش میڈیم سکول ہیں ،اسی طرح ہسپتالوں کا حال ہے غریب کے لئے کوئی سہولت نہیںاور امیر کے لئے علاج معالجے کے لئے کوئی مسئلہ نہیں، ، وہ انشاء اللہ 29 کے جلسے کے اندر بیان کروں گا، دو نہیں ایک پاکستان ہم سب کانیا پاکستان ، اصل میں نیا پاکستان ، ایشو کیا ہے کہ ہماری پارٹی نے کس نے پیسے لے کر ہمارے سینٹر کو ووٹ نہیں ، پیسے کس نے دیئے یہ علیحدہ ایشو ہے ،میں ان ارکان کوکہتا ہوں کہ آپ کے پاس موقع ہے ہمارے پاس آئیں انکوائری کے لئے ، اگر یہ ہمیں مطمئین نہ کر سکے تو ہم ان کے نام نیب میں دیںگے، سب جماعتوں کو پتہ تھا کہ سینٹ میںووٹ بکتا ہے اسی لئے 2015 ء کو ہم نے کہاکہ تھاکہ قانون میں ترمیم کریں یہ دونوں جماعتیں نہیں مانی تھیں، ساری پارٹیوں کے سربراہوں چپ کرکے تماشا دیکھتے رہے ، ہم نے الیکشن کے پہلے کہا کہ قانون تبدیل کرو، پارلیمنٹ کی الیکشن کی ریفارم کمیٹی نے مسترد کردیا، مجھے 45 کروڑ کی آفر ہوئی سینٹ الیکشن کے لئے ،سینٹ کے الیکشن میں اوپر تک پیسہ جاتا تھا، دیکھیں میں یہ چیز آپ کو واضح کردوں ( )ن لیگ اور پی پی نے بڑا ظلم کیا ہے دونوں ملکر کیئر ٹیکربناتی ہیں ، الیکشن کمیشن کاسربراہ ، چیرمین نیب مل کربنائیں، 2013 کا الیکشن میں 22 پارٹیوں نے کہاکہ دھاندلی ہوئی تھی، لہذا اس دفعہ صاف اور شفاف الیکشن کروانا چاہتے ہیں،عمران خان نے کہاکہ چیف جسٹس بالکل ٹھیک کررہے ہیں لیکن کے پی کی کارکردگی باقی صوبوں سے کمپئیر کریں ان کے حالات بہتر ہوئے ہیں کہ نہیں ، پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ کے پی کے کی حکومت کو خطرے میں ڈال کر ان کے خلاف ایکشن لیا ہے ، شاہد خان عباسی باتیں کررہا ہے ، چوہدری نثارکو میرا پرانا دوست بھی ہے ، چوہدری نثار سب سے زیادہ خوشی ہوئی نے کم ازکم اپنی غیر ت دکھائی ، مریم نواز کے آگے جھک کر کھڑا ہونا گوارہ نہیں کیا، ایک پاکستان کا منشور29 اپریل کے جلسے میں بتائوں گا، ن لیگ اور پی پی نے نگران حکومت کے نام پر ظلم کیا، چیف جسٹس کے پی کے کی کارکردگی کا دوسرے صوبوں سے موازنہ کریں، 30سالوں سے لوگ سینٹ الیکشن میں بک رہے ہیں، مجھے بھی سینٹ الیکشن میں 45 کروڑ کی آفر ہوئی تھی، چیف جسٹس بالکل ٹھیک کام کررہے ہیں، تحریک انصاف کی جتنی بھی 2013 ء کے بعد جدوجہد ، دھرنا ، ریلیاں ، جلسے ہوئے ان میں خواتین کی زبردست شرکت رہی ہے ، پہلے دو جلسے بڑی اہمیت کے حامل رہے ہیں، 29 اکتوبر 2011 ء میں تحریک انصاف کو اٹھایا، دوسرا رائے ونڈکاجلسہ جس نے پورے پاکستان میں تحریک انصاف کو اٹھایا، اگر جلسہ کامیاب نہ ہوتا تو نوازشریف یہ کہہ رہا ہوتا کہ مجھے کیوں نکالا ، اس جلسے کی پریشر کے وجہ سے سپریم کورٹ کویہ کیس سننا پڑا،29 اپریل کو لاہور میں جلسہ کرنے جا رہے ہیں دو نہیں ایک پاکستان ، ہم سب کا نیا پاکستان ، ایک طاقتور کا پاکستان ایک امیر کا ایک غریب ، پہلی دفعہ ایک طاقتور کا ہماری عدالتوں نے پہلی مرتبہ احتساب کیا، جیلوں میں غریب نظر آئیںگے، طاقتو ر صدر بن جاتا ، ہمارا انصاف کا نظام طاقتور لوگوں کو نہیں پکڑتا ، نوازشریف کہتا ہے کہ میں طاقتور ہوں مجھے کیوں نکالا ، تو آپ نے سب نے پوری کوشش کرنی ہے کہ جلسے سے پہلے ہم نے مشعل بردار جلوس نکالنے ہیں ، لاہور کا فیصلہ ہوتا تو پنجاب کافیصلہ اور پنجاب کا فیصلے پاکستان فیصلہ ہوتا ہے ، میرا مقصد آپ کو بتانے کا یہ ہے کہ 29 اپریل کتنی اہمیت کا حامل جلسہ ہوگا ، ہمیں پاکستان کی عوام کے ساتھ کھڑے ہو 29 کو ثابت کرنا ہے کہ عوام سپریم کورٹ اور عدلیہ کے ساتھ ہے ، کرپٹ مافیا اداروں کو کنٹرول کرتاہے الیکشن میں دھاندلی کرکے بار بار اقتدار میں آتے ہیں، انشاء اللہ 29 اپریل کو آپ کی کوششوں سے ثابت کرینگے کہمینارپاکستان کا جلسہ تاریخ کا سب سے بڑاجلسہ ہوگا اور یہ پاکستان کی تاریخ بدلے گا،عمران خان کاکہنا تھا کہ ووٹ کو عزت دو سمیٹ میں ایسے لوگ بیٹھے ہوئے جو نوازشریف کی چوری کو بچانے کے لئے اکٹھے ہوئے تھے ، پہلی دفعہ ایک اتنے طاقتو گاڈفادر کاعدلیہ نے احتساب کیا،عمرا ن کاکہنا تھاکہ پیپلزپارٹی کی جب بھی حکومت آتی آصف زرداری آزاد اور جب ان کی حکومت ختم ہوتی تو یہ جیل میںہوتے تھے ، اقتدار میں آتے تھے سارے کیسز ختم، پولیس ، نیب اوردیگراداروںمیں اپنے لوگ بٹھائے ہوئے ہیں، انہو ں نے کہاکہ جب ہماری حکومت آئی تو ملک میں رول آف لاء لے کر آئیں گے ، مغر ب رول آف لاء کی وجہ سے آگے نکل گئے ، اسرائیل کے وزیرکو پولیس تفتیش کررہی ہے ،(ن) لیگ اداروں اور فوج ، نیب کو اٹیک کر رہی ہے ، انشاء اللہ ہمیں موقع ملاتو ہم ملک میںرول آف لاء کو نافذ کر کے دکھائیں گے ۔

بعدازاں چیئرمین عمران خان نے عبدالعلیم خان کی زیرصدارت وسطی پنجاب کے اضلاع کے اہم رہنمائوں سے ملاقات کی اور 29 اپریل کے جلسے کے بارے میںمشاورت کی ، جلسے کو کامیاب بنانے کے لئے حکمت عملی بھی زیرغور آئی ، عمرا ن خان نے کہاکہ مینارپاکستان کا جلسہ تاریخی ہوگا او ریہ آدھا الیکشن ہے اسی سے مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔

Your Thoughts and Comments