سعودی خاتون رُکن شُوریٰ سے بدکلامی کرنے والے نوجوان نے معافی مانگ لی

عدالت نے الزام ثابت ہونے پر نوجوان سے کہا تھا کہ وہ ٹویٹر اکاؤنٹ پر کوثر الاربش سے معافی مانگے

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ جولائی 13:20

سعودی خاتون رُکن شُوریٰ سے بدکلامی کرنے والے نوجوان نے معافی مانگ لی
دمام(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 10جولائی 2019ء ) سعودی مملکت کی خاتون رُکنِ پارلیمنٹ کوثر الاربش کے بارے میں ٹویٹر پر نامناسب کلمات ادا کرنے والے نوجوان نے اُن سے معافی مانگ لی۔ تفصیلات کے مطابق سعودی نوجوان نے کوثر الاربش کے بارے میں اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر غیر اخلاقی کلمات لکھ کر اُنہیں بدنام کرنے کی کوشش کی تھی۔ جس پر کوثر الاربش نے نوجوان کے خلاف دمام کی عدالت میں مقدمہ درج کرایا تھا۔

عدالت نے الزام ثابت ہونے پر نوجوان کو حکم دیا کہ وہ اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے کوثر سے معافی معانگے۔ جس پر نوجوان نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہے۔ اُس کی جانب سے کوثر الاربش کی جو حق تلفی ہوئی ہے، وہ اس پر معافی مانگتا ہے۔ اور جو کچھ اُس نے کیا وہ اُس کی نادانی اور نا مناسب حرکت تھی۔

(جاری ہے)

جس پر کوثر الاربش نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے بدکلام نوجوان کو معاف کر دیا۔

واضح رہے کہ کوثر الاربش شُوریٰ کی ممبر ہونے کے علاوہ شاعرہ اور مصنفہ بھی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ تجریدی آرٹ کی مصورہ بھی ہیں۔ اُن کے کالم سعودی عرب سے شائع ہونے والے اخبار ’الجزیرہ‘ کے صفحات کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ اُنہوں نے شاہ فیصل یونیورسٹی سے بزنس مینجمنٹ میں ڈگری حاصل کی۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ کوثر کا بیٹا محمد العیسیٰ مئی 2015ء میں دمام کی ایک مسجد میں بم حملے کے نتیجے میں شہید ہو گیا تھا۔

اس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی جس میں محمد العیسیٰ کے علاوہ تین اور افراد بھی لقمہٴ اجل بنے تھے۔ ٹویٹر صارفین نے کوثر کی جانب سے معافی دیئے جانے کو بہت سراہا۔ تاہم ایک صارف کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہتکِ عزت کے دعویٰ سے دستبر ہو کر اچھا نہیں کیا کیونکہ ا س سے بدزبانوں کا حوصلہ بڑھتا ہے۔ انہیں سزا مِلنا ہی دُوسروں کے لیے نصیحت کا باعث بنتا ہے۔

الدمام میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments