سعودی عرب: تعلیمی اداروں میں خواتین اور بچوں کی تصویریں اُتارنے پر قانونی کارروائی ہو گی

سعودی پراسیکیوشن جنرل نے خبردار کیا ہے کہ ایسی خلاف قانون حرکت پر قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل ستمبر 10:22

سعودی عرب: تعلیمی اداروں میں خواتین اور بچوں کی تصویریں اُتارنے پر ..
جدہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین،3 ستمبر، 2019ء) سعودی عرب میں تعلیمی اداروں میں خواتین اور بچوں کی تصویریں اُتارنا قانون کے خلاف سرگرمی ہے جس پر قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ یہ بات سعودی پراسیکیوشن جنرل کی جانب سے کی گئی ہے۔ سعودی نیوز ویب سائٹ عاجل نے پراسیکیوشن جنرل کا بیان شائع کیا ہے جس کے مطابق کسی بھی شخص کی نجی زندگی کو عام کرنا قانون شکنی کے زمرے میں آتا ہے۔

خصوصاً اگر کوئی شخص انجان خواتین اور بچوں کی تصاویر اور ویڈیوزاُن کی اجازت کے بغیر بناتا ہے، تو اس کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا۔ پراسیکیوشن جنرل کی جانب سے مزید بتایا گیا ہے کہ اکثر افراد سعودی عرب میں تعلیمی اداروں میں خواتین اور بچوں کی تصاویر کھینچ کر انہیں سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیتے ہیں، چاہے اس کا مقصد اصلاحی ہی کیوں نہ ہو، یہ حرکت خلاف قانون ہے۔

(جاری ہے)

جس پر 5 برس قید یا پھر 30 لاکھ ریال تک کا جرمانہ عائد ہو سکتا ہے۔ جبکہ بعض صورتوں میں دونوں سزائیں اکٹھی بھی سُنائی جا سکتی ہیں۔اس کا فیصلہ عدالت کی جانب سے جُرم کی نوعیت کو سامنے رکھ کر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی شخص کے پاس سے غیر متعلقہ خواتین اور بچوں کی تصاویر بھی برآمد ہوتی ہیں چاہے اُس نے اُنہیں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ نہ بھی کیا ہو، تب بھی اس پر سائبر کرائم قانون کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا۔

سعودی عرب میں مقیم مقامی اور غیر مُلکی لوگوں کی نجی زندگی کو محفوظ بنانے کے لیے موٴثر قانون سازی کی گئی ہے۔ جبکہ سائبر کرائم کنٹرول یونٹ بھی سوشل میڈیا پر لوگوں کی شہرت کو داغدار کرنے، ان کی نجی زندگی کو متاثر کرنے اور توہین آمیز کمنٹس یا پوسٹ کرنے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کر رہا ہے۔

جدہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments