حوثیوں کی جانب سے سعودی مملکت پر3 بیلسٹک میزائلوں سے حملہ

سعودی فضائیہ کی جانب سے تینوں میزائلوں کو ہدف پر پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ ستمبر 10:29

حوثیوں کی جانب سے سعودی مملکت پر3 بیلسٹک میزائلوں سے حملہ
جدہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین،4ستمبر، 2019 ء) سعودی عرب کو گزشتہ روز ایک بارپھر بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، تاہم یہ میزائل اپنے ہدف پر پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیئے گئے۔ یمن کے لیے تشکیل کردہ عرب فوجی اتحاد کے ترجمان کرنل تُرکی المالکی نے بتایا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے ایک بار پھر منگل کے روز سعودی عرب کے علاقے نجران پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا گیا، تاہم ان مہلک میزائلوں کو اپنے ہدف پر پہنچنے سے پہلے ہی فضاء میں تباہ کر دیا گیا۔

جس کے باعث یہ اپنے نشانے پر پہنچ کر تباہی نہ پھیلا سکے۔ کرنل تُرکی المالکی نے مزید بتایا کہ اس سے قبل حوثی ملیشیا نے یمن کے علاقے ’عمران‘ سے بھی سعودی عرب پر ڈرون حملے کی کوشش کی تھی، مگر عرب اتحاد کے موٴثر اور مضبوط دفاعی نظام کے باعث یہ حملے بھی ناکامی سے دوچار ہو گئے۔

(جاری ہے)

کرنل المالکی نے مزید کہا کہ حوثی ملیشیا یمنی عوام میں یہ گمراہ کن پراپیگنڈہ کر رہی ہے کہ سعودی افواج کی جانب سے یمن کے شہر صنعا میں عوامی مقام پر نشانہ بنایا گیا جو کہ سراسر جھوٹ ہے۔

سعودی عرب اور اس کی اتحادی افواج نے صنعا میں کسی عوامی مقام پر حملہ نہیں کیا بلکہ حوثیوں کے ڈرونز اور بیلسٹک میزائل سے بھرے ہوئے گودام پر حملہ کر کے اسے تباہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ اتحادی افواج یمن کے ان غاروں پر بھی حملے کر رہی ہے جہاں سے حوثی باغی سعودی عرب میں تباہی پھیلانے کی غرض سے ڈرونز بھیجتے ہیں۔ حوثیوں کی جانب سے اب تک سعودی عرب پر 232 میزائل حملے کیے جا چکے ہیں اس کے علاوہ 77109 گولے بھی سعودی مملکت پر داغے گئے ہیں۔

لیکن پے در پے ناکامیوں کے بعد اب وہ گمراہ کن پراپیگنڈے پر اُتر آئے ہیں۔ انہیں مختلف محاذوں پر بھاری جانی اور مالی نقصان اُٹھانا پڑ رہا ہے۔ سعودی افواج شبوہ پہنچ گئی ہیں۔ جس کے بعد حوثی اپنے بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کسی اور مقام پر منتقل کرنے کی کوششوں میں ہیں۔ایک سعودی قیدی کو حوثیوں کی قید سے آزاد بھی کروا لیا گیا ہے۔

جدہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments