Allah Ka Shukar

اللہ کا شکر

انسان کو ہر لمحہ شعوری اور لاشعوری طور پر شکر ادا کرتے رہنا چاہئے۔

جمعہ جولائی

Allah ka shukar
کیپٹن(ر)لیاقت علی ملک
انسان نا شکرا ہے اور کم نصیحت پکڑتا ہے۔انسان کو ہر لمحہ شعوری اور لاشعوری طور پر شکر ادا کرتے رہنا چاہئے۔شکر ان سب نعمتوں کا جو اللہ نے ہمیں عطا کیں مگر بہت سے لوگوں کو ان سے معذو ر رکھا۔تاکہ ہم ان کو دیکھ کر عبرت پکڑیں کہ ہم بھی ایسے ہو سکتے تھے اور مزید شکر ادا کریں۔اخلاص کے ساتھ۔عقیدت کے ساتھ۔
اسی طرح شکر ان نعمتوں کا جن سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں بچا لیا اور دوسروں کو عطا کیں اور وہ ان کے لئے وبال اور امتحان کا باعث بن گئیں۔کیونکہ اگر ہم بھی ان نعمتوں سے نوازے جاتے جس کی خواہش فطرتاً جلد باز انسان اکثر بلا سوچے سمجھے کرتا رہتا ہے تو ہم بھی اسی دکھ تکلیف رنج الم اور اذیت کا شکار ہوتے۔
شکر ہے اس ذات کا جس نے کمزور انسان کو اپنی رحمت سے بھاری امتحان سے بچا لیا جس کے بوجھ کا ادراک انسان کو نہ تھا اور وہ ظالم اس بوجھ کو اٹھانے کے کئے گردن آگے کئے بیٹھا تھا یہ جانے بغیر کہ بوجھ کتنا ہے وزن کتنا ہے اور اس میں اٹھانے اور برداشت کے سکت ہے بھی کہ نہیں۔

شکر بے پناہ اس ذات کریم کا جو انسان کی جہالت کو برداشت کرتی ہے اور اس پر اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتی حالانکہ انسان اس ذات پر اعتبار نہیں کرتا اور اپنی عقل کی برتری پر ناز کرکے رسوا ہونے کی پوری کوشش میں ہر وقت لگا رہتاہے۔مگر وہ ذات انسان کو خاک سے اٹھا کر افلاک کی طرف کی جانے میں مگن رہتی ہے۔انسان کم علمی میں دامن جھٹکتا رہتا ہے اور وہ انسان بالکل اسی طرح پکڑتا ہے جس طرح ماں ضدی بچے کی بد تمیزی کے باوجود اس سے لاڈ پیار کرتی ہے۔

اگر اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کو برابر پیدا کرتا سب کے ناک کان آنکھیں ہاتھ پاؤں درست پیدا کرتا تو ہمیشہ کا ناشکرا اور جاہل وگمراہ انسان دوسروں کو دیکھ کر نصیحت نہ پکڑ سکتا۔معذور انسان پیدا کر کے اللہ نے انسان کو اور عقل والوں کو نشانیاں اور آسانیاں دی ہیں۔شکر ادا کرنے کی۔اور جس انسان کا جو حصہ معزور ہے اس کے لئے قیامت کے دن کا فائدہ ہے کہ وہ عضو گواہی دے گا کہ میں تو معزور تھا اس لئے مجھ میں استطاعت نہیں تھی غلط کاری کی۔
اور وہ گناہ سے بچانے کا سبب اور میزان میں دائیں ہاتھ کے پلڑے کو بھاری رکھنے کا باعث بنے گا۔
اللہ شکر گزار بندہ بننے کی توفیق دے۔اور تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔تم کفر کرتے کرتے تھک جاؤ گے وہ عطا کرتے نہیں تھکے گا۔انسان خطا کے لئے اور رحمن عطا کے لئے ۔اے اللہ اپنی بے شمار نعمتوں کے ساتھ شکر کرنے کی نعمت سے سر فراز فرما۔آمین یا رب العالمین۔

Your Thoughts and Comments