Barkaat E Madina

برکات مدینہ

”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں کا دستور تھا کہ جب وہ درخت پر نیا پھل دیکھتے تو اس کو لا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے

جمعہ اگست

Barkaat e Madina
مولانا حافظ اسعدعبیدالازھری
”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں کا دستور تھا کہ جب وہ درخت پر نیا پھل دیکھتے تو اس کو لا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو قبول فرما کر اس طرح دعا فرماتے :اے اللہ!ہمارے پھلوں میں اور پیداوار میں برکت دے،اور ہمارے شہر مدینہ میں برکت دے ،اور ہمارے صاع میں اور مد میں برکت دے ،الٰہی!ابراہیم علیہ السلام تیرے خاص بندے اور تیرے خلیل اور تیرے نبی تھے اور میں بھی تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں۔
انہوں نے مکہ کے لیے تجھ سے دعا کی تھی اور میں تجھ سے مدینہ کے لیے ویسی ہی دعا کرتا ہوں اور اس کے ساتھ اتنی ہی مزید ،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی چھوٹے بچے کو بلاتے اور نیا پھل اس کو دے دیتے۔

“(صحیح مسلم)
پھلوں اور پیداوار میں برکت کا مطلب تو ظاہر ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیداوار ہواور فصل بھر پورہو اور شہر مدینہ میں برکت کا مطلب یہ ہے کہ خوب آباد ہو اور اس کے رہنے والوں پر اللہ کا فضل ہو اور صاع اور مد پیمانے ہیں۔

اس زمانہ میں غلہ وغیرہ کی خریدوفروخت ان پیمانوں ہی سے ہوتی تھی،ان میں برکت کا مطلب یہ ہے کہ ایک صاع ایک مد جتنے آدمیوں یا جتنے دنوں کے لیے کافی ہوتی تھی اس سے زیادہ دنوں کے لیے کافی ہو۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا کا ذکر ہے جو آپ علیہ السلام نے اپنی بیوی بچے کو مکہ کی غیر آباد اور بے آب و گیا ہ وادی میں بسا کر اللہ سے ان کے لیے کی تھی۔
”اے اللہ!تو اپنے بندوں کے دلوں میں ان کی محبت ڈال دے،اور ان کی ضرورت کا رزق اور پھل وغیرہ پہنچا،اور یہاں ان کے لیے امن اور سلامتی مقدر فرما۔“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بطور نظیر اس ابراہیمی دعا کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ سے مدینے کے لیے وہی دعا،بلکہ مزید اضافے کے ساتھ کرتے تھے۔اس دعا کا یہ ثمرہ بھی ظاہر ہے کہ دنیا بھر کے جن ایمان والوں کو مکہ سے محبت ہے ان سب کو مدینہ سے بھی محبت ہے اور اس محبوبیت میں تو اس کا حصہ مکہ سے یقینا زیادہ ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دعا میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ کا بندہ،اس کا نبی اور اس کا خلیل کہا ہے اور اپنے کو صرف بندہ اور نبی کہا،حبیب ہونے کا ذکر نہیں کیا،یہ تواضع اور کسر نفسی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مستقل مزاج تھا۔
باکل نیا اور درخت کا پہلا پھل چھوٹے بچے کو بلا کر دینے میں یہ سبق ہے کہ ایسے مواقع پر چھوٹے معصوم بچوں کو مقدم رکھنا چاہیے،اس کے علاوہ نیا پھل اور کمسن بچے کی مناسبت بھی ظاہر ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک مدینہ اپنے فاسد اور خراب عناصر کو اس طرح باہر نہ پھینک دے گا جس طرح لوہار کی بھٹی لوہے کے میل کو دور کر دیتی ہے۔(صحیح مسلم)
یعنی قیامت آنے سے پہلے مدینہ کی آبادی کو ایسے خراب عناصر سے پاک صاف کر دیا جائے گا جو عقائد وافکار اور اعمال واخلاق کے لحاظ سے گندے ہوں گے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ کے راستوں پر فرشتے مقررہیں اس میں طاعون اور دجال داخل نہیں ہو سکتا۔(صحیح بخاری وصحیح مسلم)صحیحین ہی کی بعض دوسری حدیثوں میں مدینہ طیبہ کی برکات میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ کے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور اس کے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں مقدس و مبارک شہروں کے لیے کی تھی۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ”جو اس کی کوشش کر سکے کہ مدینہ میں اس کی موت ہوتو اس کو چاہیے کہ وہ اس کی کوشش کرے اور مدینہ میں مرے۔میں ان لوگوں کی ضرورشفاعت کروں گا جو مدینہ میں مریں گے۔(اور وہاں دفن ہوں گے)۔(مسند احمد ،جامع ترمذی)ظاہر ہے کہ یہ بات کہ موت فلاں جگہ آئے ،کسی کے اختیار میں نہیں ہے تاہم بندہ اس کی آرزو اور دعا کر سکتا ہے اور کسی درجہ میں اس کی کوشش بھی کر سکتا ہے ۔
مثلاً یہ کہ جس جگہ مرنا چاہے وہیں جا کر پڑ جائے،اگر قضاء وقدر کا فیصلہ خلاف نہیں ہے تو موت وہیں آئے گی،بہر حال حدیث کا مدعا یہی ہے کہ جو شخص یہ سعادت حاصل کرنا چاہے وہ اس کے لیے اپنے امکان کی حد تک کوشش کرے،اخلاص کے ساتھ کوشش کرنے والوں کی اللہ تعالیٰ بھی مدد کرتا ہے۔
یحییٰ بن سعیدرحمة اللہ علیہ انصاری تابعی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے قبرستان میں تشریف فرما تھے اور کسی میت کی قبر کھودی جارہی تھی،ایک صاحب نے قبر میں جھانک کر دیکھا اور اس کی زبان سے نکلا کہ مسلمان کے لیے یہ اچھی آرامگاہ نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہاری زبان سے نہایت ہی بری بات نکلی۔(کہ ایک مسلمان کو مدینہ میں موت اور قبر نصیب ہوئی اور تم کہتے ہو کہ مسلمان کے لیے یہ آرام گاہ اچھی نہیں)۔ان صاحب نے بطور معذرت عرض کیا:حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرا مطلب یہ نہیں تھا(کہ مدینہ میں موت اور قبر اچھی نہیں)بلکہ میرا مقصد راہ خدا میں شہادت سے تھا(یعنی میں عرض کرنا چاہتا تھا کہ یہ مرنے والے بھائی اگربستر پر مرنے اور قبر میں دفن ہونے کی بجائے جہاد کے کسی میدان میں شہید ہوتے اور ان کی لاش وہاں خاک وخون میں تڑپتی تو اس قبر میں دفن ہونے سے زیادہ اچھا ہوتا)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا راہ خدا میں شہید ہونے والوں کے برابر تو نہیں(یعنی شہادت کا مقام تو بے شک بہت بلند ہے لیکن مدینہ میں مرنا اور اس کی خاک میں دفن ہونا بھی بڑی سعادت ہے)روئے زمین پر کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں اپنی قبر کا ہونا مجھے مدینہ سے زیادہ محبوب ہو۔
یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین(3)دفعہ ارشاد فرمائی(موطاامام مالک)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ شہادت فی سبیل اللہ کی فضیلت وعظمت بے شک مسلم ہے اور بستر پر مرنا اور میدان جہاد میں اللہ تعالیٰ کے لیے سر کٹنا برابر نہیں،لیکن مدینہ میں مرنا اور یہاں دفن ہونا بھی بڑی خوش قسمتی ہے ،جس کی خود مجھے چاہت اور آرزو ہے۔

امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے اپنی جامع صحیح بخاری میں کتاب الحج کے بالکل آخر میں مدینہ طیبہ کے فضائل کے سلسلہ کی حد یثیں ذکر کرنے کے بعد اس بیان کا خاتمہ امیر المومنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی اس مشہور دعا پر کیاہے کہ :ترجمہ”اے اللہ!مجھے اپنی راہ میں شہادت بھی دے اور اپنے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک شہر میں مرنا اور دفن ہونا بھی نصیب فرما۔

اس دعا کا واقعہ ابن سعد نے صحیح سند کے ساتھ یہ روایت کیا ہے کہ عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خواب میں دیکھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ شہید کر دےئے گئے ہیں انہوں نے یہ خواب حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بڑی حسرت سے کہا:ترجمہ”مجھے شہادت فی سبیل اللہ کیسے نصیب ہو سکتی ہے جب کہ میں جزیرة العرب کے درمیان مقیم ہوں(اور وہ سب دارالاسلام بن چکا ہے)اور میں خود جہاد نہیں کرتا اور اللہ کے بندے ہر وقت میرے آس پاس رہتے ہیں۔

پھر خود ہی کہا :ترجمہ”مجھے شہادت کیوں نصیب نہیں ہو سکتی اگر اللہ چاہے تو انہی حالات میں مجھے شہادت سے نواز دے گا۔“
اس کے بعد وہ دعا کی جو اوپر درج کی گئی ہے ۔آپ رضی اللہ عنہ کی زبان سے یہ دعا سن کر آپ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا:”یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ راہ خدا میں شہید بھی ہوں اور موت مدینہ میں بھی ہو؟“آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:”اللہ چاہے گا تو یہ دونوں باتیں ہو جائیں گی۔
“اس سلسلہ کی روایات میں یہ بھی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اس دعا کو سن کر سب کو تعجب ہوا تھا اور سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہ دونوں باتیں کس طرح ہو سکتی ہیں ؟جب ابو لولو نے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی محراب میں آپ رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا،تب سب نے سمجھا کہ دعا کی قبولیت اسی طرح مقدر تھی۔بے شک جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو اس چیز کو واقع کرکے دکھاتا ہے جس کے امکان میں بھی انسانی عقلیں شبہ کریں۔۔۔

Your Thoughts and Comments