Deen E Islam - Amaan Ka Paigham

دین اسلام․․․․․ امن کا پیغام

دین حنیف اندھیرے سے روشنی کا سفر ہے

جمعرات ستمبر

Deen e Islam - Amaan Ka Paigham

خالد حسین رضا
دین اسلام کا سورج طلوح ہونے سے قبل ہر جانب ظلم وبربریت کا دور تھا۔کہیں رنگ ونسل کے نام پر تو کہیں زبان وتہذیب کے نام پر اور کہیں قومیت کی آڑ میں دو مظالم ڈھائے جاتے تھے کہ انسانیت خود چیخ پڑتی تھی ۔صرف اہل عرب ہی نہیں بلکہ پوری دنیا تہذیبی ،اخلاقی اور معاشرتی برائیوں کا شکار تھی۔اس کی ایک وجہ یہ تھی دین کو علمائے یہودونصاریٰ نے اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔

عرب کے صحراؤں میں انسان نما جانور بستے تھے جن کے اندر انسانیت نامی چیز نہیں ہوتی تھی۔
جب دین اسلام کا جھنڈا لہرانے لگا اور ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچے دین کا درس دینا شروع کیا اور دنیا کہ سامنے ایک مکمل ضابطہ اخلا ق اور مکمل نظام زندگی اور ابدی دین فطرت پیش کیا جس کا نام اسلام تھا جس کامطلب ہی امن وسلامتی ہے۔


دین اسلام کے درس کے بعد سسکتی ہو انسانیت کی ڈھارس بندھ گئی ،تشنہ کاموں کی سیرابی کا انتظام ہو گیا۔دین اسلام نے مضبوط اور باعمل بنیادوں پر امن وسلامتی کے ایک نئے باب کا آغاز کیا۔دین اسلام نے سارے مذاہب کی خوبیوں کو اپنے اندر سمو لیا۔اللہ پاک نے قرآن شریف میں آیت نازل فرمادی(مفہوم)”آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام دین کے طور پر پسند کیا۔

اسلام سے قبل انسانیت کا وہ احترام جو دین اسلام نے دیا کبھی سوچا بھی نہ تھا۔انسانی جان کی قیمت ایک جانور سے بھی کم تھی لیکن دین اسلام نے وہ احترام بخشا کہ رب کائنات نے قرآن پاک میں فرمایا:(مفہوم)”جو شخص کسی انسانی جان کو بغیرکسی جان کے بدلے یا زمینی فساد برپا کرنے کے علاوہ کسی اور سبب سے قتل کرے گویا اس نے ساری انسانیت کا قتل کیا اور جس نے کسی انسانی جان کو بچایا اس نے گویا پوری انسانیت کو نئی زندگی بخشتی۔

دین اسلام میں امن کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے ولادت (حرم شریف)مکہ مکرمہ کو امن کا گہوارہ قرار دیا گیا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے اس کی حدود میں داخل ہونے والا ہر شخص امان میں ہو گا۔اسلام امن وسلامتی کا علمبردار اور محبت وخیر سگالی کو فروغ دینے والا مذہب ہے جس میں ظلم وتشدد کی کوئی گنجائش نہیں ہے،دہشت اور خوف کا کوئی تصور نہیں ہے،رنگ ونسل اور ذات پات کی بنیاد پر تفریق کا بالکل جو از نہیں ہے۔
اسلام عدل وسچائی اور امن پسندی کا دین ہے۔
یہ دین اسلام کی تعلیمات کا ہی فیضان ہے کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے راستے اور سکھائے گئے عمل سے پوری دنیا میں اس مذہب کو امن وسلامتی والا مذہب گردانا جاتا ہے ۔غرض یہ کہ اسلام کا وجود وظہور انسانی تاریخ کا سب سے اہم اور انتہائی قابل قدر دین ہے جس نے انسانی زندگی کے دھارے کو شر سے خیر کی طرف اور اندھیرے سے روشنی کی طرف پھیر دیا۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام مسلم ممالک ایک ہو کر پوری دنیا کو یہ سمجھائیں کہ دین اسلام امن و سلامتی والا مذہب ہے اور مسلمان دہشتگردنہیں بلکہ دہشتگردی کا شکار ہیں۔

Your Thoughts and Comments