Farid Ud-Din Attar Qist 2 - Article No. 3520

فرید الدین عطار قسط 2 - تحریر نمبر 3520

اگر دونوں جہانوں کی سلطنت اس کے قبضے میں ہو اور اس سے یہ چھین لی جائے

ہفتہ اکتوبر

Farid Ud-Din Attar Qist 2
مسعود مفتی
دوسرا پردہ یہ ہے کہ اگر دونوں جہانوں کی سلطنت اس کے قبضے میں ہو اور اس سے یہ چھین لی جائے․․․․اسے اپنی محرومی پر افسوس نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ غیض و غضب اور غصے کی علامت ہے اور ایسے انسان کو اذیت سے دو چار کیا جاتا ہے۔
تیسرا پردہ یہ کہ اسے کسی تعریف سے گمراہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ایسا انسان ایک کمینی روح کا حامل ہوتا ہے اور اسے حقیقت سچائی سے محروم رکھا جاتا ہے․․․․․ایک زائر کو اعلیٰ دماغ کا حامل ہونا چاہیے۔
(عطار)
عطار کسی بھی صوفی سلسلے کے ساتھ منسلک نہ تھے لیکن وہ ایک صوفی شاعر تھے ان کی نظموں سے سچائی حقیقت کی نہ ختم ہونے والی تلاش اور خدا کا قرب حاصل کرنے کی شدید خواہش کی جھلک دکھائی دیتی ہے،اور ان کی شاعری اخلاقی اور صوفیانہ اصولوں پر بنیاد کرتی ہے۔

وہ اعتدال پسند تھے اور دیگر مذاہب کے لئے قوت برداشت کا مظاہرہ کرنے کا درس دیتے تھے۔

انہوں نے سوچ کا ایک نیا نظام تخلیق نہ کیا تھا بلکہ ایک ایسے اعتدال پسند راستے کی پیروی سر انجام دی تھی جو ایمان اور استدلال دونوں کو باہم ملاتا تھا۔عطار نے ادب اور دیگر مذہبی سائنسوں میں نیشاپور میں تعلیم وتربیت حاصل کی تھی جو اسلامی تہذیب کا ایک اہم ترین مرکز تھا۔عظیم شاعر اور عظیم صوفی بزرگ اس مقام پر مقیم تھے اور انہوں نے روحانی ثقافت کی ایک عظیم روایت قائم کی تھی اور عطار نے اس کی آبیاری اپنی روح اور شاعری دونوں سے سر انجام دی۔
عطار نے اسلامی قوانین کی تابعداری کا درس دیا تھا۔وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے شدید محبت کرتے تھے۔
اپنے تذکرہ الاولیاء میں․․․․فرید الدین عطار نے عظیم درویشوں اور بزرگوں کے اقوال تحریر کیے ہیں۔وہ ان درویشوں اور بزرگان دین کی عزت و توقیر اور احترام سر انجام دیتے تھے۔
چند مثالیں درج ذیل ہیں!
رابعہ بصری نے دعا کی کہ:۔

”میرے دشمنوں کو دنیاوی مال و دولت اور اسباب سے نواز اور میرے دوستوں کو وہ سب کچھ عطا فرما جو تو مجھے آخرت میں عطا فرمائے گا“ (رابعہ بصری جن کا حوالہ عطار نے پیش کیا)”میں خدا کی عبادت دوزخ کے خوف یا جنت کی امید پر نہیں کرتی۔میں محض اس لئے اس کی عبادت کرتی ہوں کہ وہ عبادت کے لائق ہے“(رابعہ بصری جن کا حوالہ عطار نے پیش)
عطار کے بقول جو انسان خدا سے ڈرتا ہے․․․․․تمام چیزیں اس سے ڈرتی ہیں اور جو انسان خدا سے نہیں ڈرتا وہ تمام چیزوں سے ڈرتا ہے۔

اس سلسلے میں جلال الدین رومی کا اقتباس پیش کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ:۔
”جو انسان دوسروں میں برائیاں دیکھتا ہے وہ حقیقت میں اس کی اپنی برائیوں کا عکس ہوتا ہے۔تم برائیاں سر انجام دینے والے ہو․․․․․اور تم وہ ضربیں اپنی ہی ذات پر لگاتے ہو۔
یہ تمہاری اپنی ذات ہے جسے تم اس لمحے اپنی لعن طعن کا نشانہ بنا رہے ہوتے ہو۔
تم اپنے من میں چھپی برائی کو واضح طور پر نہیں دیکھتے وگرنہ تم اپنی روح کی گہرائیوں سے اپنے آپ سے نفرت کرنے لگو۔

عطار دھول نن مصری سے متعلق ایک حکایت پیش کرتے ہیں!جوں ہی رات کی تاریکی چھا گئی وہ(دھول نن مصری)ایک ایسی عمارت میں داخل ہوئے جو کھنڈر بن چکی تھی جہاں پر انہیں سونے اور جواہرات سے بھرا ہوا ایک مرتبان ملا۔اس کے ڈھکن پر خدا کا نام لکھا ہوا تھا۔ان کے دوستوں نے سونا اور جواہرات آپس میں تقسیم کر لئے لیکن دھول نن مصری نے کہا کہ:۔
”مجھے یہ ڈھکن دے دو اس پر میرے محبوب کا نام لکھا ہوا ہے“
اور وہ تمام دن اس نام کو چومتے رہے اور اپنے اس عمل کی وجہ سے انہوں نے راتوں رات وہ درجہ حاصل کر لیا․․․․وہ مقام حاصل کر لیا کہ ایک رات انہوں نے ایک خواب دیکھا اور ایک آواز سنی جو یہ کہہ رہی تھی کہ!
”اے دھول نن․․․․․دوسرے لوگ سونا اور جواہرات لے کر خوش ہو گئے لیکن تم میرے نام سے خوش ہوئے․․․․․لہٰذا میں نے تم پر عمل اور حکمت کے دروازے کھول دئیے ہیں“۔

مشہور معروف منطق الطیار(پرندوں کی گفتگو)کے مصنف․․․․․کچھ لوگ عطار کی وجہ شہرت ان کی شاعری کو تصور کرتے ہیں اور بالخصوص ان کی مثالی مجازی نظم․․․․․منطق الطیار․․․․․․یہ فارسی ادب کی ایک مقبول ترین کتاب ہے۔
عطار کے تحریری کام
قرون وسطیٰ کے سوانح نگار کہتے ہیں․․․․․عطار نے 114کتب تحریر کی تھیں۔
قرآن پاک پر ایک سورت کے لئے ایک کتاب ان کے بقول عطار 45000شعروں کے بھی مصنف ہیں اور اس کے علاوہ انہوں نے نثر کی ایک کتاب بھی تحریر کی تھی جو دو بڑی جلدوں میں شائع کی گئی ہے۔

جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا جا چکا ہے ان کی مشہور معروف کتاب منطق الطیار ہے جسے فٹز گیرانڈ”پرندوں کی پارلیمنٹ“ کہتا ہے․․․․ان کا مختصر لیکن ماہرانہ خلاصہ․․․․․لب لباب․․․․․ایک چھوٹی چیز جو بڑی چیز کا نمونہ ہے۔
”الٰہی نامہ“ایک ایسے بادشاہ کی داستان بیان کرتا ہے جس کے چھ بیٹے تھے ایک روز اس نے اپنے بیٹوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا وہ اسے اپنی اپنی دلی خواہشات کے بارے میں بتائیں․․․․ان خواہشات کے بارے میں بتائیں جو انہیں بے حد عزیز ہیں۔
ہر ایک بیٹے نے اپنی دلی خواہش کا اظہار کیا۔
پہلے شہزادے نے پریوں کے بادشاہ کی بیٹی سے شادی کرنے کی خواہش کا اظہار کیا دوسرے بیٹے نے جادو کی سائنس کا تمام تر علم حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
تیسرے شہزادے نے جمشید کے دنیا منکشف کرنے والے کپ کا مالک بننے کی خواہش کا اظہار کیا۔
چوتھے شہزادے نے آب حیات دریافت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

پانچویں شہزادے نے سلیمانی انگوٹھی کے حصول کی خواہش کا اظہار کیا۔
چھٹے شہزادے نے کیمیا گری کے فن کے حصول کی خواہش کا اظہار کیا تاکہ وہ سونا بنا سکے۔تمام بیٹوں کے لئے بادشاہ کا جواب ایک ہی تھا اگر چہ اسے کئی اقسام کی حکایات کے تحت پیش کیا گیا تھا․․․․․وہ جواب یہ تھا کہ ان کے دل مادی اشیاء کے حصول کے لئے دھڑک رہے تھے جبکہ حقیقی خوشی روحانیت کے تعاقب سے حاصل ہوتی ہے اس کے علاوہ عطار خسرہ․․․․․نامہ(Khusraw-Nama)کے بھی مصنف ہیں اپنی والدہ کی وفات کے کچھ ہی دیر بعد انہوں نے پیش کیا․․․․․مختارنامہ․․․․․یہ مجموعہ 2000سے زائد رباعیوں قطعات پر مشتمل ہے اور اس کے 50عنوانات ہیں․․․․․اس کے علاوہ پانڈ نامہ(Pand-Nama)بھی ہے اور 10,000شعروں پر مشتمل ایک دیوان بھی ہے۔

عطار نے مسلمان بزرگوں اور صوفیا کرام کی سوانح عمریاں اور اقوال بھی تحریر کیے تھے اور یہ کاوش انہوں نے اپنی نثری تحریر کے تحت سر انجام دی تھی جسے انہوں نے تذکرہ اولیاء کے عنوان کے تحت پیش کیا تھا۔یہ ایک انتہائی گراں قدر اور مفید کتاب ہے اور اس کتاب کی بدولت ابتدائی صوفی ازم کا بخوبی مطالعہ سر انجام دیا جا سکتا ہے۔منگول حملہ آوروں نے 26اپریل1230کو عطار کو ہلاک کر دیا تھا۔

Your Thoughts and Comments