Giri Pari Cheez Uthany Ka Hukam

گری پڑی چیز اٹھانے کا حکم

لقطہ ز مین پر گری ہوئی چیز پکڑنے کو کہتے ہیں اس کی تین صورتیں ہیں۔

بدھ مئی

giri pari cheez uthany ka hukam
مُبشّر احمد رَبّاَنی
لقطہ ز مین پر گری ہوئی چیز پکڑنے کو کہتے ہیں اس کی تین صورتیں ہیں۔
1۔وہ چیز بالکل معمولی سی ہو اور کھانے کے کام آنے والی ہو۔اس کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ اسے اٹھا کر صاف کرکے تناول کر لیا جائے جیسا کہ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گری ہوئی کھجور کے پاس سے گزرے تو فرمایا:اگر یہ صدقہ کی نہ ہوتی تو میں اسے کھالیتا۔

”ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:(کبھی)جب میں اپنے گھر پلٹتا ہوں تو اپنے بستر پر پڑی ہوئی کھجور کو دیکھتا ہوں اور کھانے کے لئے اس کو اٹھا لیتا ہوں لیکن پھر خوف ہوتا ہے کہ کہیں یہ صدقہ کی نہ ہو اس لئے اسے پھینک دیتا ہوں۔


اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر راستے میں کوئی ایسی گری پڑی چیز مل جائے جو معمولی ہواور کھانے کے قابل ہوتو اٹھا کر کھاسکتے ہیں۔


حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
یہ حدیث راستے میں پڑی ہوئی حقیرچیزوں کو اٹھا کر کھالینے کے جواز میں ظاہر ہے اس لئے کہ نبی
صلی اللہ علیہ وسلم نے جوذکر کیا ہے کہ انہیں اس کھجور کے کھانے میں صرف یہ چیز مانع ہوئی کہ کہیں یہ صدقہ کہ نہ ہو جو آپ پر حرام کیا گیا ہے نہ کہ اس کا راستہ میں فقط گرا پڑا ہونا۔لہٰذا معمولی سی کھانے والی چیز گری پڑی مل جائے تو اسے اٹھا کر کھاسکتے ہیں ۔
اس کا اعلان کرنے کی حاجت نہیں ۔“
2۔دوسری صورت یہ ہے کہ وہ چیز ہوتو معمولی نوعیت کی مگر کھانے کے کام آنے والی نہ ہو جیسے چھڑی کوڑا‘رسی چاقو وغیرہ اس کے بارے میں متعدد اقوام ہیں کہ تین دن تک لوگوں کے اجتماع میں اعلان کرتا رہے یا انتی دیر اعلان کرے کہ اسے یقین ہو جائے کہ اس کا مالک اس کے بعد اسے تلاش نہیں کرے گا۔
سید سابق رحمة اللہ فرماتے ہیں:
”حقیر سی چیز کا سال بھر اعلان نہ کیا جائے بلکہ اتنی دیر اعلان کیا جائے کہ یقین ہو جائے کہ اس کا مالک اس کے بعد اسے تلاش نہیں کرے گا۔
ایسی چیز کو اٹھانے والا اس سے نفع حاصل کر سکتا ہے جب اس کا مالک معلوم نہ ہو۔“
اس کی دلیل بعض روایات وآثار سے ملتی ہے ۔جیسا کہ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں لاٹھی‘کوڑا‘رسی اور اس جیسی اشیاء میں رخصت دی ہے کہ اگر کوئی آدمی ایسی چیز گری پڑی اٹھالے تو وہ اس سے نفع حاصل کر سکتا ہے ۔

حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:”وفی اسنادہ ضعف“اس کی سند میں کمزوری ہے (فتح الباری 85/5)
امام بیہقی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:
اس حدیث کے مرفوع ہونے میں شک ہے اور اس کی سند میں کمزوری ہے ۔امام ابو داؤد نے بھی اس بات کی طرف اشارہ کر دیا ہے کہ راجح بات یہ ہے کہ حدیث موقوف ہے ‘مرفوع نہیں ۔اور مرفوع وموقوف دونوں صورتوں میں علت یہ ہے کہ اس کی سند میں ابو الزبیرمدلس راوی ہیں اور انہوں نے اپنے استاد سے سننے کی وضاحت نہیں کی۔
(ارواء الغلیل15/6)
علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں حدیث ہے کہ انہیں بازار سے ایک دینار ملا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہا تین دن تک اس کا اعلان کر ۔انہوں نے ایسا ہی کیا تو کوئی شخص ایسا نہ ملا جو اس دینار کو پہچاننے والا ہو۔تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرکے آپ کو خبر دی ۔آپ نے انہیں کہا‘ اسے کھالو‘نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ایک دینار کو 12درھم میں توڑا اس میں سے 3درھم کی کھجوریں‘ایک درھم کا زیتون خریدا․․․․الغرض ان کے پاس 3درھم باقی بچ گئے ۔
جب انہوں نے ان اشیاء میں سے کچھ حصہ استعمال کر لیا تو اس دینار کا مالک آ گیا ۔علی رضی اللہ عنہ نے اسے کہا مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کھالینے کا حکم دیا تھا وہ اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور یہ بات بیان کی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا‘اس کا دینار اسے ادا کردو۔انہوں نے کہا ہمارے پاس کھانے کے لئے کچھ نہیں ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب ہمارے پاس کوئی چیز آئے گی تو ہم اسے ادا کردیں گے۔

امام بزارفرماتے ہیں ‘اس کی سند میں ابوبکر ابن ابی سبرة ہے ۔وہ لین الحدیث ہے ۔علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ابوبکر بن ابی سبرة وضاع ہے۔(مجمع الزوائد169/4)رقم(6849)
لیکن حافظ ضیاء مقدسی فرماتے ہیں کہ یہ ابوبکر بن ابی سبرة کے علاوہ ہے اور اس حدیث کو انہوں نے احادیث مختارہ میں ذکر کیا ہے۔واللہ اعلم
یعلی بن مرہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جو شخص کوئی ہلکی سی چیز گری پڑی اٹھالے جیسے درھم یارسی یا اس جیسی کوئی اور چیز تو وہ تین دن تک اس کا اعلان کرے ۔
اگر اس سے اوپر ہوتو ایک سال تک اس کا اعلان کرے۔“
مسند احمد کے مطبوعہ نسخے میں اس حدیث کے آخر میں ایک سال کا ذکر ہے جب کہ مجمع الزوائد 4/169میں ”فلیعرفہ ستة ایام“کے الفاظ ہیں یعنی چھ دن تک اس کا اعلان کرے۔مسند احمد کے اطراف 470/5میں بھی اسی طرح ان الفاظ کو ضبط کیا گیا ہے اور محقق نے مسند احمد کے ترکی اور ہندی مخطوطے سے بھی اسی طرح ثبت کیا ہے اور یہی صحیح معلوم ہوتا ہے یعنی ایسی چیز کا اعلان تین یا چھ دن تک کرے۔
اگر مالک نہ آئے تو استعمال کرلے لیکن اس کی سند میں عمر بن عبداللہ بن یعلی کمزور راوی ہے ۔
مذکورہ بالاروایات میں اگر چہ ضعف ہے لیکن ان کی تائید میں آثار صحیحہ موجود ہیں جیسا کہ اسماعیل بن امیہ سے روایت ہے کہ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
جب تو کوئی گری پڑی چیز پائے تومسجد کے دروازے پر تین دن تک اس کا اعلان کر۔اگر تو اس کو پہچاننے والا آجائے تو اس کے حوالے کراور اگر نہ آئے تو اسے استعمال کر لے۔
اس لقطہ کو معمولی سی چیز پر ہی محمول کیا جائے گا۔
جیسا کہ عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک اور اثر میں ہے کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا جس کو ایک ستو کی تھیلی ملی تو عمر رضی اللہ عنہ نے اسے حکم دیا کہ وہ تین دن تک اس کا اعلان کرے ۔پھر وہ تین دن کے بعد آیا اس نے کہا:اس کو پہچاننے والا کوئی نہیں تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا‘اے غلام اسے پکڑلے۔
یہ اس سے بہتر ہے کہ اسے درندے لے جائیں یا ہوائیں اڑادیں۔(عبدالرزاق143/10)
لہٰذا جب کوئی معمولی سی چیز ملے جو کھانے کے کام نہ آنے والی ہوتو اس کا تین دن تک یا اتنے دن تک اعلان کرے کہ یقین ہو جائے کہ اس کا مالک اسے تلاش نہ کرے گا اس کے بعد استعمال کر سکتا ہے۔
3۔تیسری صورت یہ ہے کہ وہ چیز قیمتی ہو ۔اس کا سال بھر اعلان کرتا رہے ۔عصر حاضر میں اخبارات ریڈیو‘بڑے بڑے جلسوں میں اعلان کرایا جا سکتا ہے اور اگر سال تک مالک نہ آئے تو اسے اپنے تصرف میں لا سکتا ہے اگر مالک آجائے تو اسے وہ چیز واپس کرنی پڑے گی اگر وہ استعمال کر چکا ہو اور اصل چیز موجودنہ ہوتو اتنی قیمت ادا کردے۔
اور چیز جب ملے تو اس کی علامات اور نشانیاں اچھی طرح ذہن نشین کرلے یا نوٹ کرلے۔
لقطہ اگر حیوان ہوتو اس کی دو صورتیں ہیں ۔یا تو ایسا ہو گا جو اپنا دفاع خود کر سکتا ہو گا جیسے اونٹ ’بیل وغیرہ تو ایسے حیوان کو نہ پکرا جائے اورا گر ایسا حیوان ہو کہ وہ اپنا دفاع خود نہ کر سکتا ہوتو اسے پکڑ لیا جائے جیسے بکری وغیرہ ۔اس کی دلیل یہ ہے کہ زید بن خالد جھنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے گری پڑی چیز کے بارے میں پوچھا‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اس کا ڈاٹ اور تسمہ خوب پہچان لے پھر سال پھر اس کا اعلان کرتا رہے ۔
پھر اگر اس کا اصل مالک آجائے تو اس کے سپرد کردوورنہ جو چاہو کرو۔پھر اس نے گم شدہ بکریوں کے بارے میں پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وہ تیرے لئے ہے یا تیرے بھائی کے لئے یا بھیڑ ئے کے لیے۔پھر اس نے گم شدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا:
”تجھے اس سے کیا سروکار اس کا پانی‘اس کے جوتے اس کے پاس ہیں گھاٹ پر آکر پانی پی لے گا۔

درختوں کے پتے کھائے گا یہاں تک کہ اس کا مالک اس کے پاس پہنچ جائے گا۔“
اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ لفظ اگر قیمتی چیز ہو یا جانور بکری وغیرہ کی مثل ہوتو اس کو پکڑ لے اس کی علامات ونشانیاں اچھی طرح ذہن نشین کرلے ۔سال بھر اس کا اعلان کرتا رہے اگر اس کا مالک سال بھراعلان تک نہ آئے تو اسے اپنے استعمال میں ضمانت وذمہ داری کے ساتھ لے آئے اور اگر اس کا مالک بعد میں آجائے تو اس کی ملکیت باقی رہتی ہے اور اسے وہ چیز واپس کرنی پڑے گی اور اگر ایسا حیوان ہوجو اپنا دفاع کر سکتا ہوتو اسے نہیں پکڑ نا چاہئے۔
گری پڑی چیز جس شخص کو مل جائے اسے وہ چیز غائب یا چھپانی نہیں چاہئے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہ کے بارے سوال کیا گیا آپ نے فرمایا:
”اس کی شناخت کی جائے اور اسے غائب نہ کیا جائے اور نہ چھپا یاجائے۔اگر اس کا مالک آجائے تو اس کے حوالے کردو اور اگر نہ آئے تو وہ اللہ کا مال ہے جسے چاہتا ہے دے دیتا ہے۔“
شناخت وپہچان کا حکم اس لئے ہے کہ اس کے جعلی دعویدار پیدا نہ ہوں بلکہ جو شخص صحیح علامات بیان کر دے اس کے حوالے کی جائے۔واللہ اعلم بالصواب
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل کتاب نمبر 3)
(مُبشّر احمد رَبّاَنی)

Your Thoughts and Comments