Hafez Shirazi - Article No. 3521

حافظ شیراز - تحریر نمبر 3521

انہوں نے اسے لسان غائب (غائب کی زبان) کا خطاب دیا تھا اور ترجمان الاسرار کا بھی خطاب دیا تھا

پیر نومبر

hafez shirazi
مسعود مفتی
ہم فردوسی کی شان و شوکت کی حامل پر جلال اور باجمال زبان کی قدر کرتے ہیں اور سعدی کو معلم اخلاق تسلیم کرتے ہوئے ان کی بھی قدر کرتے ہیں لیکن دیوان حافظ اس سے بھی بڑھ کر قدر و منزلت کا مستحق ہے۔اس میں ہم اہل فارس کی ذاتی زندگی کی جھلک دیکھتے ہیں․․․․ اس کا ذہنی رحجان دیکھتے ہیں اور اس کی سوچ کا انداز دیکھتے ہیں۔

خواجہ شمس الدین محمد حافظ نے 14ویں صدی کے آغاز میں شیراز میں جنم لیا تھا اور وہ اس وقت حیات تھے جب امیر تیمور نے سلطنت کے آخری سلطان شاہ منصور کو شکست دی تھی۔
دولت کہتے ہیں کہ حافظ دانش وروں کا بادشاہ اپنے دور کا ایک عجوبہ تھا۔لوگ انہیں لسان غائب (غائب کی زبان) کہتے تھے۔جامی (898الہجری1492/ بعد از مسیح)کہتے ہیں کہ!
”میں اس صوفی پیر کو نہیں جانتا جس سے حافظ نے روحانی تعلیم و تربیت حاصل کی تھی لہٰذا میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا کہ ان کا تعلق کس مذہبی سلسلے سے تھا لیکن اس کے کلام کے پیش نظر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ ایک ممتاز صوفی تھا“
انہوں نے اسے لسان غائب (غائب کی زبان) کا خطاب دیا تھا اور ترجمان الاسرار کا بھی خطاب دیا تھا یعنی اسرار اور بھیدوں کی تشریح سر انجام دینے والا کیونکہ ان کی شاعری بے ساختہ اور کسی تکلیف کے بغیر بہتی تھی جیسے وہ کسی دوسری دنیا سے آئی ہو۔

حافظ نے 1389 بعد از مسیح (791 الہجری) میں وفات پائی تھی۔انہوں نے شیراز میں وفات پائی تھی جہاں پر زائرین ان کے مزار کی زیارت کرتے ہیں۔ان زائرین میں ہر عمر کے لوگ شامل ہوتے ہیں۔
رضا قلی بیان کرتے ہیں کہ”پیر“ جنہوں نے حافظ کی رہنمائی سر انجام دی وہ مولانا شمس الدین شیرازی تھے۔وہ مزید کہتے ہیں کہ شیراز سے تقریباً چار میل کے فاصلے پر ایک جگہ ہے جیسے ”پیر سبز“ کہا جاتا ہے یہ مقام ایک پہاڑی پر واقع ہے جسے بابا کو ہی کہا جاتا ہے۔
آئیڈیا یہ تھا کہ کسی بھی نوجوان کو سوئے بغیر 40مسلسل راتیں اس مقام پر گزارنی تھیں اور جو نوجوان یہ کام کرنے میں کامیاب ہو جاتا وہ ایک شاندار شاعر بن سکتا تھا۔حافظ اس وقت نوجوان تھے اور انہوں نے یہ عہد کیا کہ وہ یہ کام سر انجام دیں گے۔پیر سبز پر 41ویں صبح ایک معمر شخص (خصر) سبز لیاس میں ان کے پاس آئے اور انہیں حیات جادوانی کے پانی کا پیالہ عطا کیا۔

ان کی شاعری پر قوت تخیل کی حامل ہے۔وہ عالی شان ہے۔وہ دنیا کی جھوٹی شان کی بات کرتے ہیں․․․․․گناہ کی طاقت اور قوت کی بات کرتے ہیں․․․․․خالق کی عظمت کی بات کرتے ہیں․․․․․․نوجوانی کی مسرتوں کی بات کرتے ہیں․․․․․اس دنیا سے لطف اندوزی کی بات کرتے ہیں․․․․․․عالمگیر بھلائی اور خیر خواہی کی بات کرتے ہیں․․․․․ضمیر کی آزادی کی بات کرتے ہیں۔

نوجوان ان کی شاعری کو نوجوانی اور مسرت کا وقت گزارنے کی اتھارٹی تصور کرتے ہیں․․․․․دانا اور دانشور ان کے مذہبی خوش․․․․․جذبے․․․ اور ولولے کو خدا کی عطا سمجھتے ہیں ان کے صوفیانہ کلام کو بطور دعا بروئے کار لاتے ہیں۔شیخ اور صوفیا کرام․․․․تمام کے تمام دیوان حافظ کو کاملیت کی کلید تصور کرتے ہیں۔
جب امیر تیمور نے سلطان زین العابدین کی سلطنت کو تہہ وبالا کیا․․․․تب شیراز کے لوگوں کو عام معافی عطا کی۔
حافظ بھی اسی شہر کے باسی تھے۔شہر میں وہ ایک عدد مکان کے مالک بھی تھے لہٰذا ان کا نام ان لوگوں کی فہرست میں شامل تھا جنہیں تاوان جنگ ادا کرنا تھا۔ٹیکس کلکٹر کو واضح ہدایات دی گئیں کہ وہ حافظ سے اس قدر رقم وصول کرے۔اس صورتحال میں حافظ نے امیر تیمور سے ملاقات کی اور اپنے آپ کو دیوالیہ اور کنگال ظاہر کیا․․․․․امیر تیمور نے کہا کہ!
تم وہ شخص ہو جس نے یہ شعر کہا تھا کہ:۔

اگر آں ترک شیرازی بدست آرد دل مارا
نجال نیدوش بچشم سمر قند و بخارا
ترجمہ:۔
اگر ترک کی وہ شیراز میرا دل اپنے ہاتھ میں تھام لے میں اس کے سیاہ تل پر سمر قند اور بخارا نچھاور کر سکتا ہوں
تیمور نے کہا کہ:۔
”جو شخص ایک تل کے عوض بخارا اور سمر قند نچھاور کرنے پر تیار ہو وہ دیوالیہ نہیں ہو سکتا“
خواجہ حافظ نے کہا کہ:۔

”اے دنیا کے شہنشاہ․․․․․․میں اپنی اسی فیاضی اور فضول خرچی کی بنا پر قابل رحم حالت کا شکار ہوا ہوں“
امیر تیموریہ یہ جواب سن کر خوش ہوا اور تاوان کی رقم معاف کر دی اور حافظ کو رہا کر دیا گیا۔اس کے علاوہ امیر تیمور نے اسے اشرفیوں کی ایک تھیلی بھی دی اور اس کی پشت پر تھپکی بھی دی۔
جونہی حافظ بڑھاپے کے دور میں داخل ہوئے․․․․․کہا جاتا ہے کہ وہ بہت زیادہ مذہبی فلاسفر کے روپ میں ڈھل گئے اور ان کی شاعری اس قدر مجازاً اور اصطلاحاً تھی کہ ان کی زبان کو مسلمان اسراروں یا بھیدوں کی زبان کہنے لگے تھے۔

ان کی وفات کے بعد سید قاسم انور جو حافظ کے پیروکار تھے انہوں نے ان کے منظوم کلام کو ایک دیوان کی شکل عطا کی اور یہ دیوان:۔
”دیوانہ خواجہ حافظ“
کہلایا
ان کی فہم و فراست اور ذہانت کو دنیا بھر میں تسلیم کیا گیا ہے اور سراہا گیا ہے مرزا مہدی خان کہتے ہیں کہ:۔
”تورس (Tauris) کے خلاف اپنی مہم پر روانہ ہونے سے قبل نادر شاہ نے دیوان حافظ کی جانب رجوع کیا۔
کتاب کو کھولا گیا اور کھولنے کی جگہ سے پیچھے کی جانب سات لائنیں شمار کی گئیں․․․․․انگلی جس جگہ پر آئی وہ یہ تھی کہ:۔
عراق و فارس گرفتی بشعر خود حافظ
بیا کہ نوبت بغداد و وقت تبریز است“
ترجمہ
حافظ اپنی شاعری کی بدولت
اگرچہ”عراق اور فارس“ جیت چکا ہے
اب باری ہے
بغداد اور تبریز کا وقت ہے
لہٰذا نادرہ شاہ مہم کیلئے روانہ ہوا اور کامیاب ہوا۔

چارلس اسیٹورڈ کہتا ہے کہ:۔
”حافظ اپنی پارسائی․․․․پرہیز گاری․․․․زہد و تقویٰ کیلئے مشہور تھے وہ اپنا زیادہ تر وقت گوشہ نشینی میں گزارتے تھے۔انہوں نے اپنے آپ کو خدا کی خدمت کیلئے وقف کر رکھا تھا۔ان کے ہم وطن انہیں ایک برگزیدہ ہستی تصور کرتے تھے۔ان کی دو لسانی نظمیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ انہیں عربی زبان کا بخوبی علم تھا۔

منصور الحلاج کی سزائے موت پر حافظ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ:۔
وہ جو اپنی خواہش کو پا لیتے ہیں منصور کی مانند پھانسی پر چڑھ جاتے ہیں
اگرچہ وہ رنج والم سے دو چار ہوتے ہیں
وہ تدارک اور مداوے کی امید رکھتے ہیں
حافظ مزید کہتے ہیں کہ:۔
کشد نقش انا الحق بر زمین خون
چو منصورم کشی بردارم امشت
ترجمہ
”میرا خون بھی زمین پر انا الحق لکھے گا․․․․․اگرچہ آج شب مجھے منصور کی مانند پھانسی پر نہ بھی چڑھایا گیا“
درج بالا شاعری سے حافظ کی پارسائی اور زہد و تقویٰ کی عکاسی ہوتی ہے جس کو بصورت دیگر بیان کرنا ایک آسان کام نہیں ہے۔

حافظ کی نظموں کی عظیم خصوصیت یہ ہے کہ وہ زندگی کے میدان سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے دل موہ لیتی ہیں خواہ وہ مذہبی دنیا سے تعلق رکھتے ہوں یا مادی دنیا سے تعلق رکھتے ہوں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جب محبت کے گیت گاتا ہے وہ ایسے عالی شان الفاظ استعمال کرتا ہے کہ کوئی بھی شخص اسے دنیاوی محبت کے ساتھ منسوب کر سکتا ہے یا خدائی کے ساتھ منسوب کر سکتا ہے۔
حافظ کی شاعری کا جادو سر چڑھ کر بولتا رہے گا اور لوگ اس کی حیران کن شاعری کے اندرونی معانی پر حیران ہوتے رہیں گے۔

Your Thoughts and Comments