Halat-e Hamal Mein Di Hui Talaq Ka Hukum

حالتِ حمل میں دی ہوئی طلاق کا حکم

حالتِ حمل میں ہونے والی طلاق کو طلاق سنی کہاجاتا ہے ۔اس طلاق میں عدت کے اندر رجوع کی گنجائش باقی رہتی ہے ۔

halat-e hamal mein di hui Talaq ka hukum

سیّد نا ابنِ عمر رضی اللہ عنہ والی روایت صحیح مسلم (۲/۱۰۴۵(۱۴۷۱)میں ہے جس میں یہ الفاظ مروی ہیں کہ سیّد نا ابنِ عمر نے حالت حیض میں طلاق دی تو سیّد نا عمر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے حکم دیں کہ وہ رجوع کرے پھر حالت طہریا حمل میں طلاق دے ۔معلوم ہوا کہ حالت حمل میں دی ہوئی طلاق کا وقوع ہوجاتا ہے اور مرد کورجوع کا حق ہوتا ہے ۔

ارشادِباری تعالیٰ ہے:
”یعنی ان کے خاوند اگر موافقت چاہیں تو اس (مدت)میں وہ ان کو اپنی زوجیت میں لینے کے زیادہ حقدار ہیں ۔“
صورتِ مسئولہ میں عدت چونکہ وضع حمل ہے جیسا کہ ارشادِ بار ی تعالیٰ ہے :
”اور حمل والی عورتوں کی عدت وضع حمل(یعنی بچہ جننے)تک ہے ۔“
تین بار اکٹھی طلاق دینے سے ایک ہی طلاق رجعی واقع ہوتی ہے اور قرآن و سنت سے یہی ثابت ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے ۔
”رجعی طلاقیں دو ہیں اس کے بعد یا تو بیوی کو آباد رکھنا ہے یا پھر شائستگی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے ۔“
اس آیت میں لفظ کا مطلب بعد یعنی ایک دفعہ کے بعد دوسرے دفعہ طلاق دینا ‘نہ کہ محض لفظی تکرار اگر دو طلاقیں ہوتا تو آیت یوں ہوتی جبکہ ایسا ہر گز نہیں ہے اس کی مثالیں قرآن مجید میں مذکور ہیں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
’کیا لوگ دیکھتے نہیں کہ ہر سال ایک دو مرتبہ انہیں آزمائش میں ڈالا جاتا ہے“
اور دوسری جگہ فرمایا:
”اے ایمان والوتمہارے مملوک اور تمہارے نابالغ بچے تین اوقات میں اجازت لے کر تمہارے پاس آیا کریں “۔

اس آیت کے بعد ان تین اوقات کی تفصیل بیان کردی ۔ظاہر ہے یہاں ثلاث کا مطلب الگ الگ تین اوقات ہیں نہ کہ ایک ہی زمانہ میں تین اوقات کا اجتماع ۔اس سے واضح ہوا کہ کا مطلب ہے کہ طلاق رجعی دو دفعہ ہے نہ کہ دو طلاقیں اکٹھی۔
اب چند ایک صحیح احادیث ملاحظہ فرمائیں:
”سیّد عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور سیّد نا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیّد عمر رضی اللہ عنہ کے خلاف کے دو سال تک تین طلاقیں (اکٹھی)ایک ہی شمار ہوتی تھیں “(مسلم ۲/۱۰۹۹)
اب اس کے بعد ایک صحیح اور سچّا واقعہ دورِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا ملا حظہ کریں :
”رکانہ بن عبدیزید نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دیں اور اس پر بہت رنجور اور غمگین ہوا ۔
تو اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تو نے کیسے طلاق دی اُس نے کہا میں نے اکٹھی تین طلاقیں دے دی ہیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ایک ہی مجلس میں اُس نے کہا ہاں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ایک ہی واقع ہوئی ہے اگر تو چاہتا ہے تو رجوع کرلے تو اُس نے رجوع کر لیا “(مسند احمد۱/۲۶۵‘مسند ابی یعلیٰ (۲۴۹۵)۳/۲۵‘بیہقی۷/۳۳۹‘فتح الباری ۹/۳۶۳‘اغاثہ اللفہان ۱/۳۰۵)
تین اکٹھی طلاقوں میں یہی مسلک طاؤس ‘ابنِ اسحاق ‘حجاج بن ارطاة ‘محمد بن مقاتل تلمیذ امام ابوحنیفہ اور ظاہر یہ کا ہے ۔
علامہ عینی حنفی نے عمدة القاری ۹/۵۳۷پر ایسے ہی درج کیا ہے ۔
قاضی شوکافی نے نیل الاوطار ۲/۲۴۵پر لکھا ہے کہ اہل علم کا ایک گروہ اس طرف گیا ہے کہ طلاق ‘طلاق کے پیچھے واقع نہیں ہوتی اور ایسی صورت میں صرف ایک ہی طلاق پڑتی ہے ۔صاحب بحرنے اس کو ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے اور ایک روایت سیّد نا علی اور ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے طاؤس ‘عطاء بن جابربن یزید ‘ہادی قاسم‘ناصر احمد بن عیسیٰ وعبداللہ بن موسی بن عبداللہ اور زید بن علی اور متاخرین ائمہ فقہاء محد ثین میں سے امام ابنِ تیمیہ ‘ابنِ قم رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ کا بھی یہی نقطہ نظر ہے مشائخ قرطبہ میں محمد بن لقی‘محمدبن عبدالسلام وغیرہ کا بھی یہی فتویٰ ہے۔
لہٰذا مذکورہ بالا صورت میں محمد سلیم ولد شہاب الدین اپنی بیوی سے وضع حمل سے قبل رجوع کر سکتا ہے ۔ایک ہی طلاق رجعی واقع ہوئی ہے حلالہ جیسے ملعون فعل کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ۔

Your Thoughts and Comments