بند کریں
اسلام مضامینمضامینحرمتِ رسولﷺ کا تقدس اور تحفظ

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
حرمتِ رسولﷺ کا تقدس اور تحفظ
”اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرنے والا ہی عظیم کامیابی سے ہمکنار ہوگا“․․․․․․․․․․․․․․․ قرآن وسنت کی رو سے رسول پاکﷺ کی تعلیم اور دل وجان سے آپ کا احترام ہمارے ایمان کا بنیادی جز ہے
مولانا شفیق بستوی:
قرآن وسنت کی رو سے رسول پاکﷺ کی تعلیم اور دل و جان سے آپ ﷺ کا احترام ہمارے ایمان کا بنیادی جز ہے اس کے بغیر ایمان کی تکمیل نہیں ہوسکتی جیسا کہ اسماعیل میرٹھی نے کہا۔ محمد کی غلامی دین حق کی شرط اول ہے اس میں ہو اگر خامی تو ایمان نا مکمل ہے ۔ اور صحیح بخاری میں حدیث پاک ہے․․․․․․ ترجمہ: یعنی کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ جب تک میری ذات کسی بھی شخص کی نظر میں اس کے والدین ، اولاد اور دیگر تمام لوگوں کی ذات سے زیادہ محبوب نہ ہوجائے تب تک اس کا ایمان مکمل نہیں ہوسکتا۔
دیگر احادیث مبارکہ میں بھی اس قسم کا مضمون وارد ہوا ہے کہ حضورﷺ کی محبت آپﷺ کی اتباع آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین کی اتباع آپ ﷺ کے اہل وعیال اور صحابہ کرام سے محبت اور ان کا احترام بھی ہمارے ایمان کے اجزاء میں شامل ہے جس کی صراحت ووضاحت کیلئے صحیح بخاریی شریف جلد اول میں کتاب الایمان کی احادیث دیکھی جا سکتی ہیں۔ اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں اپنے بندوں کو مخاطب کرکہ فرمایا کہ اگر تم مجھ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہو تو تمہیں میرے محبوب کی پیروی کرنا ہوگی، چنانچہ ارشاد خدا وندی ہے․․․․․ترجمہ: یعنی کہ خالق ارض وسماء نے جو کہ ساری کائنات کا مالک وخالق ہے، اپنی محبت کو پیغمبرﷺ کی پیروی واقتداء کے ساتھ مربوط فرمادیا ہے۔
گویا کہ جب نبیﷺ کے نقش قدم کی پیروی نہیں ہوگی تب تک اللہ سے ہمارا دعویٰ محبت ناقص ہے۔ واضح رہے کہ اللہ ورسول ﷺ کی فرمانبرداری ہی پر دین کی سعادت کو کامرانی کا ذریعہ ہے اور ان دونوں کی نافرمانی گمراہی اور پھر دونوں جہاں میں ہلاکت وبربادی کا سبب ہے، چنانچہ ایک جگہ ارشاد خداوندی ہے․․․․․․ترجمہ: ”یعنی اللہ اور اس کے رسول نے جب کسی بات کا فیصلہ طے کردیا ہے تو اب کسی بھی مومن مرد وعورت کے لئے جائز نہیں کہ وہ (مخالف)اقدام کریں، چاہے ان کی اپنی ذات سے ہی متعلق ہو۔
اور ایک جگہ ارشاد ہے کہ ․․․․․ترجمہ: ”یعنی کہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرنے والا ہی عظیم کامیابی سے ہمکنار ہوگا۔ قارئین کرام! جب اللہ تعالیٰ کی نظر میں رسول پاک ﷺ کا یہ مرتبہ ومقام ہے اور مذکورہ بالا چند آیات وروایات کے علاوہ بے شمار آیات واحادیث میں جو کہ مقصد ہذا کو واضح کرتی ہیں تو ہر مسلمان کو یہ بات سمجھ میں آجانی چاہیے کہ رسولﷺ کی عظمت وحرمت اور ان کی محبت واحترام ہمارے ایمان کا لازمی حصہ ہے۔
زیر نظر مضمون وتحریر کا مقصد یہ ہے کہ بعثت نبوی سے لیکر قیامت تک حرمت و عظمت رسول کی پاسداری گویا ہر درجہ میں مسلمان کی ذمہ داری ا ور اس کی ایمانی فریضہ ہے لہٰذا ایسا کوئی عمل کوئی موقف یا تحریر یا کوئی تقریر کوئی برتاؤ یا کوئی انداز واطوار جو کہ رسول پاکﷺ کی تعلیم وتقدس کو منافی ہو وہ کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے پر واضح لفظوں میں نکیر فرمائی ہے اور حضرات صحابہ کرام کو تنبیہ کرتے ہوئے ان کی اصلاح فرمائی ہے چنانچہ سورہ احزاب کی آیت میں ہے کہ جب تم کو دعوت طعام دی جائے تو رسول ﷺ کے گھر میں داخل ہوسکتے ہو اور جب کھانے سے فارغ ہوجاؤ تو چلے جایا کرو وہاں بیٹھ کر گفتگو میں مشغول مت ہوا کرو کہ اس سے نبیﷺ کو تکلیف ہوتی ہے۔
فرمایا․․․․․․․ اسی طرح سورہ مجرات میں نبی ﷺ کے احترام کی پاسداری کا سبق دیتے ہوئے فرمایا کہ نبی ﷺ کی موجودگی میں بلند آواز سے بات نہ کیاکرو کہ کہیں اس کی وجہ سے تمہارے اعمال ضائع نہ ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نبی کریم ﷺ کا احترام اور ان کی عظمت کا خیال کرتے ہوئے یہ آیات نازل فرمائیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کی طرف سے بھی نبی ﷺ کو اگر کوئی اذیت وتکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے ۔
یہ صورتحال صرف دور نبوت تک ہی محدود نہ تھی بلکہ آج بھی اس کا پورا خیال اور اس کے مقابل احساسات کا معاملہ جاری وساری ہے۔ طول بحث سے گریز کے پیش نظر عرض ہے کہ حرمت رسول ﷺ کا تقدس ہمیں آج بھی اسی طرح محسوس کرنا چاہیے جیسا کہ دور نبوی میں حضرات صحابہ کرام رحمتہ اللہ علیہ نے محسوس کیا تھا فرق صرف اتنا ہے کہ وہ اعلیٰ ظرف اور اعلیٰ صفات کے لوگ تھے تو انہوں نے اپنی شان کے مطابق کردار پیش کیا اور ہم لوگ کمزور وناتواں ہیں تو ہمیں اپنی حد تک اپنا کردار پیش کرنا ہے۔
مطالعہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرتﷺ دعوتی خطوط جو مختلف سربراہان کے نام ارسال فرمائے تھے ان میں سے ایک خط دنیا کے سپر پارو کسریٰ یعنی فارس کے سربراہ مملک کو ارسال کیا تھا جس نے بڑی بے احترامی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس والانامہ کو پھاڑ کر پھینک دیا تھا تو آپ نے اس کے بارے میں فرمایا کہ ”جیسا کہ اس نے میرے دعوتی خط کو ٹکڑے ٹکڑے کیا ہے اللہ تعالیٰ اس کو بھی ایسے ہی ٹکڑے ٹکڑے کردے۔
چنانچہ تاریخ گواہ ہے کہ کسریٰ کا خاندان چند ہی سال میں تہہ وبالا ہوگیا اور اس کی سلطنت کا چراغ گل ہوگیا اور مسلمانوں کے ہاتھوں فارس کی مملک کا خاتمہ ہوا اس کے برعکس جو خط حضور ﷺ نے قیصر روم کو لکھا تھا وہ قیصر نے بڑے احترام سے رکھا اور اپنی سلطنت کے ایوان میں کھلے لفظوں میں اعلان کیا تھا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری یہ مملکت وسلطنت باقی رہے تو ان کے (نبیﷺ)کے ہاتھوں پر بیعت کرلواور انکی تابعداری اختیار کرلو یہ اور بات ہے کہ قیصر کی یہ بات اس کے اپنے ہم اراکین دولت نے قبول نہیں کی تاہم سنایہ جاتا ہے کہ آج تک وہ خط ملکہ وکٹوریہ کہ خاص خزانے میں محفوظ ہے اور بعض لوگوں کی رائے ہے کہ تاج برطانیہ کی موجودہ برطانیہ کی موجودہ باقیات اسی قیصر روم کی نسل سے ہے (واللہ علم)عرض یہ کرنا ہے کہ قیصر روم دنیا کی دوسری بڑی سپر پاور تھا مگر اس نے نبی کریم ﷺ کے خط کو احترام کی نظر سے دیکھا اور قدروعظمت سے اس کو بحفاظت رکھا تو اسکی نسل میں سلطنت چلتی رہی۔
اگرچہ یہ صورت ہمارے لئے کوئی حجت نہیں مگر عبرت کا ایک سبق ہے) تاریخ کے جھروکوں سے چند مناظر اور دیکھنے میں آتے ہیں کو نور الدین زنگی رحمتہ اللہ علیہ کے دور میں حرمت رسول کو پامال کرنے کی ایک ناکام کوشش کچھ دشمنان رسول نے کی تھی جس کا انجام ان کے قتل کی صورت میں پیش آیا اورروضہ رسولﷺ کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار سے محفوظ کردیا گیا۔ اسی طرح ایک دور میں کچھ شرپسند دشمنان اسلام نے حضرت شیخین کی قبروں کو اکھاڑنے کی ایک بدترین سازش کی تھی جس کے نتیجے میں مسجد نبوی شریف کی زمین پھٹی اور 40 افراد جو کہ مکمل تیاری کے ساتھ رات کی تاریکی میں آئے اسی زمین میں زندہ دفن ہوگئے پھر زمین اوپر سے مل گئی۔
اس کا تذکرہ فضائل حج میں حضرت شیخ مولانا محمد زکریا صاحب نے فرمایا ہے ۔ اسی طرح ماضی میں ایک اور بھیانک سازش جنت البقیع میں مدفون خاتون جنت بنت رسول علیہ السلام کی لاش مبارک کو چرانے اور کہیں دوسری جگہ منتقل کرنے کے لئے کی گئی تھی جو پورے انتظام وحوصلہ کے ساتھ کچل دی گئی جس کا تذکرہ ”تاریخ حرمین شریفین“ میں حضرت قاری محمد شریف صاحب نے مفصل انداز میں کیا ہے ۔
یہ تو چند اشارہ جات ہیں کہ حضور علیہ السلام کی ذات ونسبت اور آپﷺ کے تعلق سے جو بھی منفی کاروائی ہوگی اس کا بدانجام اس منفی کاروائی کے مرتکب کو ضرور دیکھنا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اصحاب الفیل پر ابابیل کا لشکر بھیج کر مرکز حق ومرکز توحید کو مٹانے کی سازش کرنے والوں کو نیست ونابود کردیا تو اسی مرکز حق سے وابستہ توحید اور حق کی دعوت لے کر دنیا کو ہدایت کی روشنی دینے والے رسول برحق علیہ السلام کے خلاف اگر کوئی منفی کردار کا مرتکب ہوگا تو وہ بھی ابولہب، ابوجہل، امیہ بن خلف اور عتبہ وشیبہ کی طرح سنت ونابود کردیا جائے گا اور رہتی دنیا کے لئے عبرت کا نشان بنادیا جائے گا۔
آج ہمارے ماحول میں ختم نبوت کے مسلمہ عقیدہ و نظریہ کے خلاف ایک بدبودار سازش کا ارتکاب ہوا ہے ایسی صورتحال میں برادران وطن سے اپیل ہے کہ اس سازش کے مرتکبین کو فوری طور پر توبہ کا راستہ دکھائیں اور ان کے ہاتھ روکنے کی ہمت کریں ورنہ ہمارا ایمان ہے کہ جورب تعالیٰ مرکز حق یعنی خانہ کعبہ کی حرمت کی بقا کیلئے اصحاب الفیل پر ابابیل کا لشکر مسلط کرکے انہیں تباہ وبرباد کرسکتا ہے وہی رب تعالیٰ اپنے رسول برحقﷺ کی حرمت کی بقاء کے لئے ان تمام سازشی عناصر کو نیست ونابود کرسکتا ہے۔
جو رسول برحقﷺ کی حرمت کے خلاف قلم ، قدم یا زبان وعلم اٹھا رہے ہیں۔ آج وقت کا اور ہمارے ایمان کا نیز خاتم النبینﷺ سے روحانی وایمانی و دینی تعلق کا تقاضہ یہ ہے کہ ختم نبوت کے عقیدہ کو اپنے ایمان کا لازمی حصہ سمجھتے ہوئے اس کے لئے فکری وعملی کردار پیش کریں اور اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوکر دعاکریں کہ حرمت رسول کے خلاف نبرد آزمائی کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ عبر کا نشان بنادے اور ان کے حوصلوں کو پست فرمائے اور ہمیں ایمان کی حلاوت نصیب فرمائے ۔ آمین۔
کی محمد ﷺ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں

(0) ووٹ وصول ہوئے