Khawab Mein Nabi Sale Allah Alaihi Wasallam Ki Ziyarat Aur Jumaraat Ko Roohon Ka Gharon Mein Ana - Article No. 2661

خواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت، اور جمعرات کو رُوحوں کا گھروں میں آنا - تحریر نمبر 2661

اکثر لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں ملتے ہیں ۔کچھ کہتے ہیں نمازِ جمعہ کے بعد عصر تک عبادت کریں توبشارت نصیب ہوتی ۔ کچھ کہتے ہیں کہ

ہفتہ نومبر

khawab mein nabi sale Allah alaihi wasallam ki ziyarat aur jumaraat ko roohon ka gharon mein ana

مُبشّر احمد رَبّاَنی
اکثر لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں ملتے ہیں ۔کچھ کہتے ہیں نمازِ جمعہ کے بعد عصر تک عبادت کریں توبشارت نصیب ہوتی ۔
کچھ کہتے ہیں کہ سارا دن یارات عبادت کریں ۔پھر ایک تھال یا بڑے برتن میں دودھ والے چاول ڈال کر کسی پاک صاف کمرے میں رات بھر رکھ دیں ۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک اگلی صُبح چاولوں پر لگاہوتا ہے ۔

آپ یہ بتائیں کہ کیا واقعی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت ہوتی ہے اور کیا دیگر انبیا ء علیہ السلام کی بشارت بھی ہو سکتی ہے ؟
کہا جاتا ہے ہر جمعرات کی شب اپنے ورثاء کے گھروں میں مُردوں کی روحیں واپس آجاتی ہیں ۔اِن روحوں کے واپس آنے کی کیا حقیقت ہے ؟
خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوسکتی ہے ۔

صحیح بخاری میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے مجھے نیند میں دیکھا ،اُس نے یقینا مجھ کو دیکھا کیونکہ شیطان میری شکل نہیں بن سکتا۔


اور صحیح بخاری میں ہی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے مجھے خواب میں دیکھا‘وہ مجھے بیداری میں دیکھے گا اور شیطا میری صورت نہیں بن سکتا۔
اما بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے اِس حدیث کے ساتھ تعبیر کے مشہور تا بعنی امام محمد بن سیرین کی وضاحت نقل فرمائی ہے کہ یہ اِ س وقت ہے جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں دیکھے ۔
فتح الباری میں ہے کہ جب کوئی شخص محمد بن سیرین سے بیان کرتا ہے کہ اِس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے تو وہ فرماتے کہ تم نے جسے دیکھا ہے ‘اُس کی شکل بیان کرو۔اگر وہ ایسی صورت بیان کرتا جسے وہ نہ پہچانتے تو فرماتے ‘تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نہیں دیکھا۔
اِس لیے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں سے کسی کو ہوتو اِس نے یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی دیکھا کیونکہ شیطان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت اختیار نہیں کر سکتا اور چونکہ صحابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتا بھی ہے ‘وہ یقین سے کہہ سکتا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے ۔
جس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہی نہیں ‘وہ یقین کے ساتھ کیسے کہہ سکتا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے ؟خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اجنبی لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہچان کے لیے بعض اوقات پوچھنا پڑتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ؟
صحیح بخاری کتاب العلم میں اَنس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مَسجِد میں بیٹھے تھے کہ ایک آدمی اونٹ پر آیا۔
اُسے مَسجِد میں بٹھایا ‘اُس کا گھٹنا باندھا۔پھر کہنے لگا تم میں مُحمدّ (صلی اللہ علیہ وسلم)کون ہیں ؟نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے درمیان ٹیک لگا کر بیٹھے تھے ۔ہم نے کہا یہ سفید تکیہ لگانے والے (مُحمدّ صلی اللہ علیہ وسلم )ہیں ۔پھر اُس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہو کر کئی سوالات کیے۔
سنن ابوداود کتاب السنہ باب فی القدر میں ابوذر رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے صحیح روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے درمیان بیٹھتے ۔
کوئی اجنبی آتا تو پوچھنے کے بغیر معلوم نہ کر سکتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کون ہیں ؟ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ہم آپ صلی اللہ علے وسلم کے لیے بیٹھنے کی جگہ بنا دیتے ہیں تا کہ کوئی اجنبی آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مٹی کا ایک چبوترہ سابنا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اِس پر بیٹھتے تھے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِردگرد بیٹھتے تھے ۔

یہی حدیث سنن نسائی میں بھی صحیح سند کے ساتھ موجود ہے ۔
سیرت ابنِ ہشام میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ کے لیے ہجرت کرکے قبا پہنچے تو بنو عمروبن عوف کے ہاں ٹھہرے۔اِس موقعہ پر انصار کے جن لوگوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھا تھا ‘وہ اُن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ کر اسلام کرتے تھے ۔جب سایہ ہٹ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دھوپ پڑنے لگی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی چادر کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کیا۔
۔اِس وقت لوگوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانا ۔اِ ن احادیث سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پہچاننے والے کسی دوسرے کے متعلق خیال کر سکتے ہیں کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو خواب میں بھی اِس کا امکان ہے ۔البتہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی شخص اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اِس حلیہ میں دیکھے جو صحیح احادیث میں آیا ہے تو اُس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے ۔

لیکن اگر وہ کوئی اور صورت دیکھے یا کوئی ایسا شخص دیکھے جو اسے شریعت کے خلاف حکم دے رہا ہویا ایسا کام کررہا ہو جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شایانِ شان نہیں تو اسے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت قرار نہیں دیا جا سکتا۔شیطان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل نہیں بن سکتا مگر یہ بات نہیں کی کہ وہ کسی اور شکل میں آکر جھوٹ بھی نہیں بول سکتا۔
اِس دور کے شیطان مرزادجال نے دعویٰ کیا تھا۔
منم مسیح و مُحمدّ کہ مجتبیٰ باشد
میں مسیح ہوں اور مُحمدّ مجتبیٰ ہوں
خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت حاصل کرنے کے لیے لوگوں نے بہت سے وظائف اور طریقے گھڑے ہیں جن کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں ۔اِس کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ خلوص دِل سے اللہ تعالیٰ سے دُعا کی جائے ۔
اگر قبولیت کے خاص اوقات میں دُعا کی جائے تو اُمید اور زیادہ ہے ۔دوسرے انبیاء کی زیارت بھی اللہ تعالیٰ جسے کرانا چاہے ‘کرا سکتا ہے
کسی بڑے برتن میں دودھ چاول وغیرہ ڈال کر صاف کمرے میں رکھنے سے اِس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک لگے ہونے کی بات بالکل فضول ہے اور بے دلیل ہے ۔قرآن وحدیث میں ایسی کوئی بات کہیں موجود نہیں۔
جمعرات کو فوت شدہ لوگوں کی رُوحیں اپنے ورثاء کے گھروں میں واپس آنے کی بھی کوئی روایت ثابت نہیں ۔نہ ہی رُوحیں شب برأت کو واپس آتی ہیں ۔مُردے قیامت کے دن ہی قبروں سے نکلیں گے۔
(مُبشّر احمد رَبّاَنی)
(اس کتاب میں آپ کے مسائل اور اُن کا حل جلد نمبر 1)

Your Thoughts and Comments