Mohammad SAW Hamare Bari Shaan Wale

محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بڑی شان والے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں آمد،ظلمت میں ڈوبے معاشرے کی اصلاح

منگل نومبر

Mohammad SAW Hamare Bari Shaan Wale
لیاقت بلوچ
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھٹی صدی عیسوی کے آخر میں آفتاب نبوت بن کر طلوع ہوئے جب عربوں میں گمراہی کی گھٹاٹوپ اندھیری رات چھائی ہوئی تھی۔آپ کی بعثت ایسے معاشرے میں ہوئی جہاں دولت،گھمنڈ،نسلی اور خاندانی اونچ نیچ اور چھوت چھات کا رواج عام تھا۔غریب مسکین اور کمزوروں کو دبانا،عورتوں کو محض شوہروں کی خدمت گزار جاننا اور بچیوں کو پیدائش پر زندہ درگورکرنا،سود، زنا،شراب اور جوے جیسی لعنتوں کا عرب کی بیمار معاشرت پر غلبہ تھا۔
قبائلی عصبیت جسے اسلام نے جاہلیت قرار دیا ہے یہاں یہ لعنت بتوں کی پوجا اور شرک کے ساتھ رائج تھی۔
اس بیمار معاشرے کے علاج کے لئے ایک بہت بڑے سماجی انقلاب کی ضرورت تھی۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مرحلہ پر خالق حقیقی پروردگار سے ان کی ہدایت کیلئے دعا فرمائی۔

اسی لیے آپ کی حیات طیبہ مسلسل جدوجہد کے ساتھ اللہ کے بندوں کی زندگیوں کو بدل دینے کی سعی کا عنوان ہے۔

آپ نے اپنے اخلاق،کردار اور اعمال کے ساتھ عامة الناس کی تربیت واصلاح کے لئے انہیں ایک تنظیم میں پرویا۔جس کے لئے آپ ظلم کے معاشرہ میں محسن انسانیت ،صادق وامین اور رحمت العالمین بن کر آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے اصلاح اور انقلاب کا راستہ کھل گیا۔
”ترجمہ:اے نبی بے شک ہم نے آپ کو اس شان کا رسول بنا کر بھیجا کہ آپ گواہ رہیں اور آپ بشارت دینے والے اور ڈرانے والے ہیں اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والے ہیں اور آپ ایک روشن چراغ ہیں۔
(3:22)
لوگوں جان لو نبی کی عزت وحرمت ،توقیروتعظیم وفات کے بعد ایسی ہی لازم ہے جیسے ان کی حیات مبارکہ میں تھی اور یہ حضور کی حدیث ،سنت ،اسم مبارک،سیرت کا ذکر کرتے وقت اور حضور کی آل وعترت واہل بیت وصحابہ کے ساتھ معاملہ کرنے میں واجب ہے۔ہر مومن پر جب بھی ان کا ذکر کرے یا سنے وہاں عاجزی کرے ،ڈرے اور عزت کرے۔نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی زندگی،انسانی فطرت کی ضروریات کے پیش نظر انسانوں کی رہنمائی کی اور جو لوگ دائرہ اسلام میں آگئے ان کی فکری ،کردار سازی اور اندر کے انسان کو بدل دینے کی مسلسل سعی کی،اور اس میں آپ کامیاب رہے۔
آپ انسان کا مل تھے اور اپنی امت کے لئے یہی معیار دیا اور اصولی بنیادیں فراہم کردیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات احادیث مبارکہ سے روشنی ملتی ہے کہ مومن کی صفات کچھ یوں ہیں۔آپ نے فرمایا کہ مومن کی عادت نہیں کہ لعن وطعن کرے،فحش گوئی یا بیہودگی اختیار کرے۔آپ کا فرمان ہے کہ جو کوئی کسی شخص کوکسی ایسے گناہ پر طعنے دے جس سے اس نے توبہ کرلی ہو ایسا شخص مرنے سے پہلے وہ کام ضرور کرے گا یعنی اس گناہ میں آلودہ ہو گا۔
آپ سے سوال کیا گیا کیا مومن بزدل ہوتا ہے فرمایاہاں !پھر سوال ہوا کیا مومن بخیل ہوتا ہے فرمایا ہاں!سوال ہوا کیا مومن جھوٹا ہو سکتا ہے نبی مہربان نے فرمایا مومن جھوٹا نہیں ہوسکتا۔خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اس طرح نہ بڑھانا جس طرح نصاریٰ نے حضرت مسیح کوبڑھایا ۔میں اللہ کا بندہ ہوں بس میرے حق میں تم یہی کہا کرو کہ آپ اللہ کے بندے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

ختم المرسلین کی تعلیم وتربیت نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو جس مسلسل اور کٹھن نظام تربیت سے گزارا انہیں دیکھیں اخلاق حسنہ کے نقش تلاش کریں تو رہنمائی ملتی ہے کہ محسن انسانیت نے فرمایا کہ مسلمانوں کے شایان شان نہیں کہ طعن کریں،غیبت کریں،تجسّس اور حسد میں پڑے رہیں۔اللہ تعالیٰ فحش کام کرنے والے اور فحش گوسے محبت نہیں رکھتا جو بازاروں میں چلاتا پھر تا ہے ،مومن کی یہ شان نہیں کہ وہ لعن طعن کرے،تم ایک دوسرے سے یہ نہ کہو کہ تجھ پر خدا کی لعنت ہو یا اللہ کا غضب ہو یا دوزخ میں جائے،آپ نے فرمایا کہ میں لوگوں کو دھتکار نے ،لعن طعن کرنے نہیں بلکہ رحم کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں۔
قرآن اعلان کر رہا ہے کہ آپ رحمت العالمین ہیں۔مسلمان کو گالی دینا فسق اور بلا جواز جنگ کرنا کفر ہے۔
فخر عالم،سروردوعالم کے یہ ارشادات ہر جگہ عامة الناس تک پہنچا دینا ہر عالم ،ہر صاحب ایمان کا کام ہے۔دوسروں کی تربیت اور اصلاح کے لئے ناگزیر ہے کہ اپنی زبان کی حفاظت کی جائے۔اہل ایمان کے درمیان دنگا فساد گالی دینے والے کا جواب گالی سے دینا شر عا جائز نہیں ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دو آدمیوں میں گالی گلوچ ہوئی جب تک ایک گالی دیتا ر ہا دوسرا خاموش رہا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما رہے اور جب دوسرے نے جواب دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے کھڑے ہو گئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فرشتے کھڑے ہو گئے تو میں بھی ان کے ساتھ کھڑا ہو گیا جب تک یہ خاموش تھا فرشتے اس کی طرف سے گالی دینے والے کا جواب دیتے تھے جب اس نے خود جواب دیا تو فرشتے اٹھ گئے(ادب المفرد)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے لئے قیامت تک کی رہنمائی دے دی کہ میری امت میں تیس جھوٹے ہوں گے ہر ایک اپنے آپ کو نبی سمجھے گا حالانکہ میں خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم ہوں میرے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں ہے(بخاری،مسلم،ترمذی)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی معاشرہ خصوصاً اہل ایمان اور اپنے امتیوں کی تعلیم وتربیت کی ہمیشہ کیلئے رہنمائی فرمادی ہے۔
ایک شخص نے عرض کیا حضور میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے فرمایا تمہاری ماں ،عرض کیا پھر کون؟فرمایا تمہاری ماں،عرض کیا پھر کون؟فرمایا تمہارا باپ(متفق علیہ)خاتم النبین نے ارشاد فرمایا کہ میں تم کو بڑے بڑے تین گناہ نہ بتاؤں صحابہ نے عرض کیا ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بتائیے،فرمایا اللہ کا شریک بنانا،ماں باپ کی نافرمانی کرنا اور مکروفریب کی بات کہنا(الحدیث ،ادب مفرد)حضور نے فرمایا کہ اس شخص کی ناک خاک آلود ہو،اس کی ناک خاک آلود ہو اس کی ناک خاک آلود ہو،عرض کیا گیا یا رسول اللہ کس کیلئے،فرمایا اس شخص کے لیے جو اپنے ماں باپ میں سے دونوں کو یا ایک کو بڑھاپے میں پائے اور پھر ان کی خدمت کرکے جنت میں داخل نہ ہو۔
(مسلم) ایک شخص نے آپ سے پوچھا یا رسول اللہ ماں باپ کا حق اولاد پر کیا ہے فرمایا وہ دونوں تمہاری جنت اور دوزخ ہیں(ابن ماجہ)تمام گناہوں میں سے اللہ جسے چاہتا ہے معاف فرمادیتا مگر ماں باپ کی نافرمانی کی سزا موت سے پہلے زندگی میں ہی دے دی جاتی ہے۔

Your Thoughts and Comments