Nabi Akram SAW Ki 3 Wasiyatain

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تین وصیتیں

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کو مختلف مواقع پر مختلف وصیتیں کی ہیں۔

جمعہ فروری

Nabi Akram SAW Ki 3 Wasiyatain
پروفیسر محمد یونس جنجوعہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کو مختلف مواقع پر مختلف وصیتیں کی ہیں۔ ذیل میں ایک حدیث کی روسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تین نہایت اہم وصیتیں بیان کی جارہی ہیں:
” حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے خلیل ومحبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی ہے کہ :” اللہ کے ساتھ کبھی کسی چیز کو شریک نہ کرنا اگرچہ تمہارے ٹکڑے کر دیے جائیں اور تمہیں آگ میں بھون دیا جائے‘ اور خبردار ! کبھی بالارادہ فرض نماز نہ چھوڑنا ‘ کیونکہ جس نے دیدہ ودانستہ اور عمداً فرض نماز چھوڑ دی تو اس کے بارے میں ذمہ داری ختم ہوگئی (جو اللہ کی طرف سے اس کے وفادار اور صاحب ایمان بندوں کے لئے ہے)‘ اور خبردار ! شراب کبھی نہ پینا ‘ کیونکہ یہ ہر برائی کی کنجی ہے“۔


حدیث کے راوی حضرت ابوالدرداء عویمرانصاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا خلیل کہہ کر کس قدر محبت اورپیار کے تعلق کا اظہار کررہے ہیں ! یہ وہی ابوالدرداء ہیں جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معرکہ اُحد میں دادِشجاعت دیتے ہوئے دیکھا تو تعریف کی اور فرمایا کہ عویمر کس قدر اچھے سوار ہیں! ابوالدرداء رضی اللہ عنہ جنگ بدرکے بعدپورے شرح صدر کے ساتھ اسلام لائے‘ پھر اپنے وقت کا بیشتر حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں گزارتے رہے۔

اس حدیث میں آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک نصیحت کے الفاظ بیان کیے ہیں جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں سے رکنے کی تاکید کی ہے۔ پہلی بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمائی کہ شرک نہ کرنا خواہ تمہارا جسم ٹکڑے ٹکڑے کردیاجائے یا آگ میں جلاڈالا جائے۔ شرک بدترین گناہ ہے۔ یہ خالق کائنات کی اتھارٹی کو چیلنج ہے۔
یہ واحد گناہ ہے جس کے مرتکب کی قیامت کے دن نجات نہیں۔ قرآن مجید میں اس کو کئی جگہ پر ناقابل بخشش گناہ قرار دیاگیاہے۔ سورة المائدة میں ارشاد الٰہی ہے:
” بے شک جس نے اللہ کا شریک ٹھہرایا تو اللہ نے اس پر حبت کو حرام کردیا ہے اور اس کا ٹھکا نہ دوزخ ہے“۔ پس ہر مسلمان کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ شرک سے دور رہے مخلوق میں سے کسی کو اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں شریک نہ کرے۔
اللہ کی ہرصفت لامحدود ہے ۔ وہ مخلوق کے کسی فرد کو لامحدود صفات کے ساتھ متصف نہ کرے ‘ ہر قسم کے مراسم عبودیت اُسی کے لئے خاص کرے‘ اسی کا تقویٰ اختیار کرے اور اسی پر توکل کرے۔ اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے مخلوق کے کسی فرد کی اطاعت نہ کرے۔ اُسی کی عبادت کرے اور اسی سے مدد چاہے۔
دوسری نصیحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو یہ فرمائی کہ فرض نماز عمداً کبھی نہ چھوڑنا‘ کیونکہ جس نے دیدہ ودانستہ فرض نماز چھوڑی وہ اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری سے نکل گیا۔
نماز یہ سن کر نشانی اور علامت ہے۔ گویا مسلمان نماز کی ادائیگی سے پہچانا جاتا ہے۔ ترمذی شریف میں ہے کہ اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے سوا کسی عمل کے ترک کرنے کو کفر نہیں سمجھتے تھے۔ (مشکوٰة‘ کتاب الصلوٰة) پنج گانہ نماز کی پابندی گناہوں کی معافی کا سبب ہے۔ قرآن مجید کے مطابق نماز بے حیائی اور برائی کے کاموں سے بچاتی ہے۔
نماز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایئے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ اپنے گھر والوں کو بھی نماز کی تلقین کریں اور خود بھی اس کی پابندی کریں:
”اور (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) حکم دیں اپنے گھروالوں کونماز کا اورخود بھی اس پر قائم رہیں۔ “ نماز چھوڑنا آدمی کو شرک کی طرف لے جاتا ہے۔ قرآن میں ہے :
” اور نماز قائم کرو اور مشرکوں میں شامل نہ ہوجاؤ۔

سورة المدثر میں ہے کہ جنت والے دوزخیوں سے پوچھیں گے کہ کون سی چیز تمہیں دوزخ میں لے گئی ؟ وہ جواب میں پہلا سبب یہ بیان کریں گے کہ :” ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہیں تھے“۔ نماز کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا ہے۔ ارشانبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
” میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے“۔
گویا نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ عمل ہے۔ چنانچہ ہرسچا اُمتی بھی نماز کو محبوب رکھے گا اور اس کی پابندی کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ساری زندگی نماز کی پابندی کی ہے۔ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”ہمارے اور ان (منافقوں) کے درمیان جو عہدہے وہ نماز ہے‘ پس جس نے نماز کو چھوڑدیا وہ کافر ہوگیا۔

الغرض نماز کو چھوڑ نے سے انسان اپنے خالق کا باغی اور نافرمان قرار پاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کو نماز کی تاکید کی ‘ اور فرمایا کہ نماز پڑھنے سے انسان اللہ کی ذمہ داری سے نکل جاتا ہے۔ تو جس شخص کو اللہ تعالیٰ کے ہاں پناہ نہ ملی اُس کو اور کون سا سہارا مل سکتا ہے۔
تیسری نصیحت جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کو فرمائی وہ یہ ہے کہ کبھی شراب نہ پینا کیونکہ یہ تمام برائیوں کی جڑہے۔
شراب کو اُمّ الخبائث بھی کہا گیا ہے۔ قرآن مجید میں اس کی حرمت ان الفاظ میں آئی ہے:
” اے اہل ایمان ! یقینا شراب ‘ اور جوا‘ اوربُت اور جوئے کے تیریہ سب گندے کام شیطان کے ہیں۔ سوتم ان سے بچوتاکہ تم فلاح پاؤ۔“
شراب نوشی صرف ایک گناہ نہیں ہے ‘ بلکہ یہ بہت سخت گناہوں کا باعث بنتی ہے۔ اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کی برائی کو واضح فرماتے ہوئے اس سے متعلق تمام لوگوں پر لعنت فرمائی ہے۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کے معاملہ میں دس آدمیوں پر لعنت فرمائی ہے: (1) شراب کشید کرنے والا(2) شراب کشید کرانے والا(3) شراب پینے والا(4) شراب اٹھانے والا ( 5)شراب اٹھوانے والا( 6)شراب پلانے والا( 7)شراب بیچنے والا ( 8)شراب کی قیمت کھانے والا( 9)شراب خریدنے والا( 10) جس کے لئے شراب خریدی گئی ہو۔

بنیادی طور پر شراب نشہ آور ہونے کی وجہ سے حرام ہے اور نشہ انسان کے حواس کو مختل کر کے اسے انسانیت سے گرا کرحیوانیت کی سطح پر لے آتا ہے جس سے اس میں اچھائی اور برائی میں تمیز ختم ہوجاتی ہے۔ اسی لئے صرف شراب ہی نہیں بلکہ ہر نشہ آور چیز اسلام میں حرام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
” جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہواس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کے عادی کو بُت پرست کی مانند شمار کیا ہے۔ حضرت طارق بن سوید رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب نوشی کے متعلق پوچھا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شراب سے منع فرمایا۔ اس پر سائل نے کہا کہ ہم تو شراب کو دوا کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
” یہ دوا نہیں ‘ بلکہ (خود ایک ) بیماری ہے۔

شراب کی حرمت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت سی احادیث روایت کی گئی ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں نہ تو وہ شخص داخل ہوگا جووالدین کی نافرمانی کرتا ہے‘ نہ جواری ‘ نہ فقراء کو صدقہ دے کر جتانے والا اور نہ شراب پینے والا۔(سنن دارمی‘بحوالہ ریاض المسلمین‘ص808)
الغرض اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک سے انتہائی زور دار الفاظ میں روکا ہے‘ کیونکہ شرک ناقابل بخشش گناہ ہے۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی تاکید کی ہے کہ نماز مسلما ن اور کافر کے درمیان فرق کرتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینے سے منع کیا ہے کہ یہ بہت سی برائیوں کا سبب بنتی ہے۔

Your Thoughts and Comments