Namaz Ki Azmat O Ehmiyat

نماز کی عظمت واہمیت

جو بندہ نماز اہتمام سے ادا کرے گا تو وہ قیامت کے دن اس کے واسطے نور ہو گی

بدھ فروری

Namaz Ki Azmat O Ehmiyat
پروفیسر محمد یونس جنجوعہ
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بارے میں گفتگو فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:
”جو بندہ نماز اہتمام سے ادا کرے گا تو وہ قیامت کے دن اس کے واسطے نور ہو گی (جس سے قیامت کے اندھیروں میں اس کو روشنی ملے گی‘ اور اس کے ایمان اور اللہ تعالیٰ سے اس کی وفاداری اور اطاعت شعاری کی نشانی) اور دلیل ہو گی‘ اور اس کے لئے نجات کا ذریعہ بنے گی‘اور جس شخص نے نماز کی ادائیگی کا اہتمام نہیں کیا ( اور اس سے غفلت اور بے پروائی برتی )تو وہ اس کے واسطے نہ نور بنے گی‘ نہ برہان اور نہ ذریعہ نجات‘ اور وہ بد بخت قیامت میں قارون‘فرعون‘ہامان اور (مشرکین مکہ کے سر غنہ) اُبی بن خلف کے ساتھ ہو گا۔


نماز دین اسلام کا رکن اعظم ہے۔اس کی اہمیت اس بات سے واضح ہے کہ قرآن مجید میں بار بار اس کا ادائیگی کا حکم ہے۔یہ مسلمان کی علامت ہے،کیونکہ ایک حدیث میں کفر اور اسلام کا فرق نماز کو بتایا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اُمت کے صلحاء واتقیاء نے عمر بھر نماز کی پابندی کی ہے۔ بزرگان دین میں سے ایسا کوئی نہیں جس نے نماز کی ادائیگی میں غفلت کی ہو‘بلکہ مقربین بار گاہ الٰہی کی اولین نشانی نماز ہی ہے اور ہمیں قرونِ اُولیٰ کے مسلمانوں میں کوئی فرد بے نماز نظر نہیں آتا۔

نماز کسی کو معاف نہیں۔خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیات طیبہ کے آخری لمحات تک نماز ادا کی اور دیہی طریقہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے اختیار کیا۔اقامت صلوٰة تقرب الی اللہ کا وسیلہ ہے جبکہ ترک صلوٰة انتہائی بد بختی اور خدا کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔شاہ ولی اللہ رحمة اللہ علیہ ”حجتہ اللہ البالغہ“میں نماز کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”جان لو کہ نماز اپنی عظمت شان اور مقتضائے عقل وفطرت ہونے کے لحاظ سے تمام عبادات میں خاص امتیاز رکھتی ہے اور خدا شناس وخدا پرست انسانوں میں سب سے زیادہ معروف ومشہور اور نفس کے تزکیہ اور تربیت کے لئے سب سے زیادہ فائدہ مند ہے اور اسی لئے شریعت نے اس کی فضیلت ‘اس کے اوقات کی تعیین وتحدید ‘اس کے شرائط وارکان اور آداب ونوافل اور اس کی رخصتوں کے بیان کا وہ اہتمام کیا ہے جو عبادات وطاعات کی کسی دوسری قسم کے لئے نہیں کیا اور خصوصیات وامتیازات کی وجہ سے نماز کو دین کا عظیم ترین شعار اور امتیازی نشان قرار دیا گیا ہے۔

نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدہ عبادت تھی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنکھوں کی ٹھنڈک فرمایا ہے۔ایک نماز پڑھ چکنے کے بعد آپ کو اگلی نماز کا انتظار رہتا تھا۔نماز دراصل اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہم کلامی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو دین کا ستون قرار دیا ہے۔ نماز روحانی ترقی کا ذریعہ ہے۔یہ برائیوں سے روکتی اور فحش کاموں سے دور رکھتی ہے‘اخلاق حسنہ پیدا کرتی ہے۔
نماز روح کو تقویت بخشنے کے ساتھ ساتھ کئی اعتبارات سے جسمانی صحت کے لئے بھی مفید ہے۔نماز کے لیے وضو لازم ہے اور وضو انسان کے جسم کو پاک وصاف رکھتا اور گندگی سے بچاتاہے۔
نماز اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا پر مشتمل ہے جس میں اللہ تعالیٰ سے عاجزی کے ساتھ دعا کی جاتی ہے اور دعا سراسر عبادت ہے۔پھر انسان کو عبادت ہی کے لئے تو پیدا کیا گیا ہے ۔
اس سے خود بخود یہ نتیجہ نکلتاہے کہ نماز سے غافل شخص اپنے مقصد تخلیق سے ہی آگاہ نہیں اور یہ انتہائی بد نصیبی کی بات ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص(رضی اللہ عنہا)سے روایت کردہ اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بارے میں گفتگو فرماتے ہوئے نماز کو قیامت کے دن کا نور قرار دیا ۔قیامت کا دن کتنا ہو لناک ہو گا‘اس کا اندازہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔
قیامت کی ان تاریکیوں میں نماز روشنی کا کام دے گی۔ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں قیامت کے روز اپنی اُمت کے افراد کو اس طرح پہچان لوں گا کہ ان کے وضو کے اعضاء اس دن روشن ہوں گے۔اور یہ وہی لوگ ہوں گے جو نماز پابندی سے ادا کرتے ہوں گے۔اندھیرے میں روشنی ملنے کی قدروقیمت وہی جان سکتاہے جسے دنیا میں کسی وقت اندھیرے سے پالا پڑا ہو اور اس وقت وہ آگے قدم بڑھانے کے قابل بھی نہ رہا ہو۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز دلیل ہو گی۔یعنی آدمی کے ایمان اور اللہ تعالیٰ سے اس کی وفاداری اور اطاعت شعاری کی علامت ہوگی اور اس بات پر شہادت دے رہی ہو گی کہ اس بندے نے اپنے خالق ومالک کی یاد میں زندگی گزاری ہے اور یہ ذکر الٰہی سے غافل نہیں رہا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز قیامت کے دن نجات کا سبب بنے گی ۔
ظاہر ہے جس شخص کو قیامت کے دن کامیاب قرار دیا گیا اس سے زیادہ خوش بخت اور نصیبے والا اور کون ہو سکتاہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بے نمازی کے حرمان اور بد نصیبی کا بھی ذکر فرمایا کہ جس شخص نے نماز کی ادائیگی کا اہتمام نہیں کیا‘بلکہ غفلت اور بے پروائی کا رویہ اختیار کئے رکھا وہ قیامت کے اندھیرے میں روشنی سے محروم رہے گا۔
جس کے پاس نماز کا توشہ نہ ہو گا وہ وفاداری کی دلیل کہاں سے لائے گا۔لہٰذا اس کے پاس اطاعت شعاری اور عبادت گزاری کا کوئی ثبوت نہ ہوگا اور نتیجتاً وہ نجات بھی حاصل نہیں کر سکے گا۔کیونکہ روز قیامت سب سے پہلے نماز ہی کے بارے میں پوچھا جائے گا اور جو اُس موقع پر تہی دست پایا گیا اس کی ناکامی کا اعلان کر دیا جائے گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے بمو جب ایسے شخص کو قارون ‘فرعون‘ہامان اور اُبی بن خلف جیسے بد ترین لوگوں کا ساتھی قرار دیا جائے گا ‘یعنی جس سزا کے وہ مستحق ہوں گے اسی سزا کا مستحق بے نمازی ہو گا۔

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنے والے کا انجام عاقبت کی کامیابی اور بے نماز کا انجام بد واضح کر دیا ہے۔اب ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ نماز کی اہمیت سے آگاہ ہو کر نہ صرف خود نماز کی پابندی کرے بلکہ اپنے رشتے داروں‘دوستوں اور خاص طور پر اپنے بیوی بچوں کو نماز کی تلقین کرے‘ تاکہ ان کے ساتھ سچی خیر خواہی کا حق ادا ہو سکے۔
کیونکہ حقیقی خیر خواہی یہی ہے کہ کسی فرد کو ابدی عذاب سے رہائی کی راہ پر ڈال دیا جائے۔پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ نیکی کی طرف راہنمائی کرنے والے کو بھی اتنا ہی ثواب ملتاہے جتنا خود نیکی کرنے والے کو۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں علم وعمل کی دولت سے مالا مال کر دے اور اپنی رضا پر چلنے کی توفیق دے۔

Your Thoughts and Comments