Rasool Rehmat SAW Ki Hayat Or Iss K Akhri Ayam

رسول رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات اور اس کے آخری ایام

ام الموٴمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت جب ناساز ہوئی اور تکلیف بڑھ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام ازواج مطہرات رضوان اللہ علیھن اجمعین سے بیماری کے دنوں میں میرے گھر میں رہنے اور تیمار داری کی اجازت طلب کی ۔

بدھ مارچ

Rasool Rehmat SAW Ki Hayat Or Iss K Akhri Ayam
حافظ عزیز احمد
حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا:ام الموٴمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت جب ناساز ہوئی اور تکلیف بڑھ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام ازواج مطہرات رضوان اللہ علیھن اجمعین سے بیماری کے دنوں میں میرے گھر میں رہنے اور تیمار داری کی اجازت طلب کی ۔
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت دے دی گئی ۔اسی اثنا میں ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر باہر تشریف لے آئے ۔اس وقت آپ کی حالت یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے ۔ان دو اشخاص میں سے ایک تو حضرت عباس تھے اور دوسرے ایک اور شخص تھے ۔عبید اللہ(راوی حدیث) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی گفتگو کا ذکر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے کہا:کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ دوسرا شخص جس کا نام حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نہیں لیا ،کون تھا؟میں نے کہا:مجھے معلوم نہیں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے ۔

(رواہ البخاری)
محترم سامعین !آج کی اس حدیث مبارک کو امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں نقل کرکے ہم تک پہنچایا ہے ۔ بظاہر ایک واقعہ ہے مگر اس میں کئی ایک اسباق پوشیدہ ہیں جو ہماری عملی زندگی میں نہایت اہم کردار کے حامل ہیں اور تقاضا کرتے ہیں کہ اُن پر پوری توجہ سے غور کیا جائے ۔واقعہ کا تعلق رسول دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی علالت سے ہے ۔
علالت ایک جسمانی عارضہ ہے جو ہر فرد بشر کو لاحق ہو سکتاہے حتیٰ کہ انبیاء علیہم السلام کو بھی ۔اور اس کا تعلق حکم الٰہی سے ہے ۔اللہ رب العزت کے خاص بندوں کو جب لاحق ہوتاہے تو مراتب کی بلندی کے لئے ہوتاہے ۔سزا کے لئے قطعاً نہیں ہوتا۔حدیث کے الفاظ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت ناساز ہوئی اور نا سازی میں اضافہ ہو گیا۔مگر ہم نے دیکھا کہ اس صورت حال میں کوئی جزع فزع نہیں اور کسی پریشانی کا اظہار نہیں ۔
مکمل سپردگی کا عالم ہے ۔دوسری بات اس حدیث مبارکہ میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حالت میں اپنی ازواج مطہرات سے اجازت طلب فرمائی کہ اس علالت کے دوران اپنی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں رہنے کی سہولت دی جائے ۔یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طبعی تقاضا تھا جس کا آپ نے برملا اظہار فرمایا۔ اور باقاعدہ ازواج مطہرات سے اجازت طلب فرمائی جو شرعی تقاضا تھا۔
امت کو یوں تعلیم ارشاد فرمائی کہ اگر شریک زندگی ایک سے زیادہ ہوں تو ان کے درمیان عدل وانصاف کو قائم کرنا اشد ضروری ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری حیات اقدس میں اس کو ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھا۔چنانچہ جہاد کے سفروں میں آپ قرعہ ڈالتے اور جس زوجہ مطہرہ کا نام آتا،وہی آپ کے شریک سفر ہوتیں اور یوں ہر ایک کے حقوق کی حفاظت کا اہتمام فرماتے ۔
خانہ رسالت سے اس کا اہتمام امت مرحومہ کے لئے گرانقدر سبق سے کم نہیں ۔بہر کیف آپ نے عین شرعی تقاضا کے مطابق ازواج مطہرات سے اذن طلب فرمایا اور وہ سب اس پر راضی ہو گئیں اور آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں منتقل ہو گئے ۔یاد رہے کہ یہ واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخری علالت کے وقت کا ہے ۔اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم الرفیق الاعلی کی بارگاہ اقدس میں تشریف لے گئے ۔
سلام اللہ تعالیٰ وصلواتہ علیہ۔
تیسری بات اس دوران یہ ہوئی کہ شدید علالت اور نقاہت کے باوجود آپ نماز کی ادائیگی کے لئے اپنی مسجد میں تشریف لے آئے اور عالم یہ ہے کہ کمزوری کی وجہ سے چلنے کی بھی سکت نہیں ہے ۔اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کا سہارا لیا۔جن میں سے ایک آپ کے محترم چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور دوسرے بقول راوی حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے ۔
یہ دونوں شخصیات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کو سہارادیئے ہوئی تھیں اور دل تھام کر سُنیئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک پاؤں زمین پر گھست رہے تھے ۔بات بڑی غور کرنے اور سوچنے کی ہے کہ یہ نازک صورت حال ہمارے لئے کیا اعلیٰ نمونہ مرتب کررہی ہے ۔وہ ذات گرامی جس کو اللہ رب العزت نے معصوم خلق کیا ہے اور حیات اقدس کا لمحہ لمحہ طہارت وپاکیزگی سے معمور ہے ۔
اللہ کے حکم کی بجا آوری کے لئے اس قدر مشقت برداشت فرمارہے ہیں ،اس کے علاوہ اورکیا تعلیم ہو سکتی ہے کہ اللہ کا حکم سپریم ہے جس کی تعمیل اور بجا آوری ہر حال میں ازحد ضروری ہے ۔اور اسوئہ حسنہ ہے جس کی اتباع کا حکم ہے ۔
سامعین گرامی !یاد رہنا چاہیے کہ تمام عبادات میں نماز ایک ایسی اہم ترین عبادت ہے جو کسی بھی صورت میں معاف نہیں ۔جب تک جان میں جان ہے مسلمان اس کی ادائیگی سے سبکدوش نہیں ہو سکتا۔
سفر کی صورت میں اس کے فرائض میں قصر ہو سکتی ہے ۔بیماری اور علالت کی صورت میں بیٹھ کر اور شدید علالت میں اشارے کی بھی اجازت ہے ۔مگر معافی کی کوئی صورت نہیں ۔روز حشر سب سے پہلے نماز ہی کے بارے میں پوچھ گچھ ہو گی ۔نماز کے سُنن اور نوافل بھی نہایت قیمتی اثاثہ ثابت ہوں گے ۔نماز کے امتحان میں کامیابی باقی اعمال میں بھی کامیابی کا زینہ ہو گی ۔
ہمارے آقا ومولیٰ اور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنے آخرت اوقات میں نماز کا اس قدر اہتمام فرماتے ہیں کہ لوگوں کے سہارے سے مسجد میں تشریف فرما ہورہے ہیں تو آج کون ایسا ہو سکتاہے جو خدانخواستہ یہ دعویٰ کرے کہ نماز اس کے ذمے سے ساقط ہو گئی ہے یا وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ اس کے لئے مسجد میں با جماعت ادائیگی کوئی ضروری نہیں ہے ۔یہ سوچ بلا شبہ گمراہ کن سوچ ہے اور انسان کی اخروی اور دنیوی زندگی کے لئے تباہ کن ہے ۔
ہمارے معاشرے میں ایسے ناہنجار قسم کے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو اپنے سادہ لوح مریدوں سے کہتے ہیں کہ ہم تو اپنی نمازیں مکہ ،مدینہ میں پڑھتے ہیں ۔(لاحول ولاقوة)سوچنے کی بات ہے کہ جب امت کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پنجگانہ کا اہتمام فرماتے ہیں اور شدید علالت کے باوجود مسجد میں تشریف لاتے ہیں تو ماؤشُما نماز کی اقامت سے کیونکر مستثنیٰ ہو سکتے ہیں ۔دُعا ء ہے کہ رب کائنات جل وعلا ہم سب کو نماز اور نماز با جماعت کی ادائیگی کی اہمیت کو سمجھنے اور عمل کی تو فیق عطا فرمائے ۔آمین۔

Your Thoughts and Comments