Fatah Makkah

فتح مکہ, حق آگیا باطل مٹ گیا

شہر اور میدان خالی ہوگئے،پناہ لینے والے پہاڑوں پر چلے گئے, محسن انسانیتﷺ نے طواف کعبہ کرکے عام معافی کا اعلان فرمایا

Fatah Makkah
جی آر اعوان :
اسلام تلوار سے نہیں کردار اور گفتار سے پھیلا ہے۔پیارے نبیﷺ نے کوئی اقدامی جنگ نہیں کی۔تمام غزوات مدافعتی جنگیں تھے۔ فتح مکہ بھی دیگر تمام جنگوں کی طرح اپنی روح میں مدافعتی جنگ ثابت ہوئی۔ صنادیدقریش اس حقیقت سے آگاہ تھے ، اس کے باوجود وہ قتل کے مجرموں کو سزا دینے یا پھر حضورﷺ پاک سے مطالبات پورے کرنے میں ناکام رہے۔
سرورکائنات ﷺنے اہل مکہ کو باقاعدہ غزوہ فتح مکہ کی پیشگی خبر دے کر جنگی آداب کا پاس ولحاظ رکھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو جنگ کی تیاری کا حکم دیا۔ اہل مکہ فکر مند تھے کہ اس بار وہ عرب قبائل کی امداد کے بغیر مقابلے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ انہیں جنگ احزاب میں مسلمانوں کے ہاتھوں پورے جزیرے کے سورماؤں کی درگت یا دتھی۔

ان کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ جنگی مورچے پر سرورکائناتﷺ اور آپﷺ کے اصحاب کا سامنا کر سکیں۔

وہ آپﷺاور آپﷺ کے جاں نثاروں کے مقابلے میں آنے کی ہمت کھو چکے تھے۔ کفار کے لئے اس زمینی حقیقت سے فرار ناممکن ہوگیا۔ انہوں نے خیریت اسی میں جانی کہ پہاڑوں پر چڑھ جائیں۔ اور پھر یہی ہوا ،شہر اور میدان دونوں خالی ہو گئے۔ اہل ایمان کو کسی کشت و خون کے بغیر اللہ نے فتح نصیب فرما دی۔ فتح مین کا تحفہ اللہ نے اپنے حبیبﷺ کی جھو لی میں ڈال دیا۔

قبل ازیں صلح حدیبیہ بھی ایک کھٹن اور اعصاب شکن جنگ تھی۔ جو تلوار و تفنگ کے بغیر لڑی گئی ،وہاں دشمن کی جاہلانہ اور بے معنی شرائط کو تسلیم کرکے صبر کا مظاہرہ کرنا اورآئین انسانیت سے بعید مطالبات پر عمل پیرا ہو کر وقت کا انتظار کرنا کسی جنگ سے کم کرب ناک نہیں تھا۔لیکن اللہ کے محبوبﷺنے خدا کے بھروسے اور وعدے پر اس جنگ میں ثابت قدم رہ کر غنیم کو شکست و ناکامی سے دوچار کیا، حریف اپنی شرائط کے ہاتھوں مات ہوئے اہل اسلام نے اپنے صبر سے کامرانی کی منزل پائی اور اہل کفر اپنی پیش بندیوں کے ہاتھوں ذلت کے گھاٹ اتر گئے۔

حضورﷺپاک اپنے جا ں نثاروں کے ہمراہ مکہ میں داخل ہوئے۔ آپﷺاپنی ناقہ قصویٰ پر سوار تھے۔ سر بسجود ہوکر شکر بجا لا رہے تھے۔ سورہ بنی اسرائیل کی آیت17 آپ ﷺ کے زیر تلاوت تھی۔ترجمہ: ”اور اعلان فرما دیجیئے، حق آ گیا اور باطل بھاگ گیا اور باطل ہوتا ہی بھاگ جانے کے لئے۔“ حضور پاکﷺ نے کعبہ شریف کا طواف کیا۔ عام معافی کا اعلان کیا۔
اعلان معافی کے تین ایمان افروز حصوں اوران الفاظ پر مشتمل تھا۔ وہ شخص جو اپنے گھر کے اندر رہے گا اسے کچھ نہیں کہا جاے گا۔ جو شخص ہتھیار نیام میں رکھ کر سامنے آ ئے گا اس سے کوئی تعریض نہیں ہو گا۔ جو شخص فلاں فلاں قریش سرداروں کے گھر میں پناہ گزین ہو جائے گا اس کو بھی کچھ نہیں کہا جائے گا۔
پہاڑوں پر چلے جانے والے اہل مکہ یہ اعلان سن رہے تھے۔
لطف و کرم کی بارش برستی دیکھ رہے تھے انہوں نے محسوس کیا کہ وہ حضور پاکﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں اور کرم کی بھیک مانگیں۔ پھر چند افراد پر مشتمل ایک وفد نبی رحمتﷺ کی خدمت میں آیا آپﷺ نے ان سے پوچھا، آج تم مجھ سے کیسے سلوک کی توقع رکھتے ہو، انہوں نے کہا آپﷺ عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے پوتے، عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے اور ابوطالب رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ہیں ہم آپﷺ سے آپﷺ کے شایان شان سلوک کی توقع رکھتے ہیں۔
حضور پاکﷺ نے سورہ یوسف کی آیت نمبر92 پڑھی ترجمہ:”آج کے دن تم پر کوئی عتاب یا ملامت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے۔ بے شک اللہ تو ہے ہی ارحم اراحمین ہے“۔
ہجرت کے بعد کفار مکہ نے صحابہ کرام کی املاک و جائیداد پر قبضہ کر لیا تھا خود حضورپاکﷺ کی ذاتی رہائش گاہ کفار کے زیرقبضہ تھی۔ کفار سوچ رہے تھے کعبہ شریف کو بتوں سے پاک کرنے کے بعد حضور پاکﷺ اپنے مکان اور صحابہ کرام کی جائیدادوں کو واگزار کرانے کی طرف متوجہ ہوں گے لیکن حضورپاکﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر ایسی کوئی کارروائی نہیں کی۔

پہاڑوں پر موجود دیگر افراد ایثاروقربانی اور مہربانی کے یہ ایمان افروز مناظر دیکھ رہے تھے وہ احساس شکست خوردگی کے ایک بھاری احساس کے ساتھ نیچے اتر آئے۔ اب انہیں یقین ہو چکا تھا کہ اہل اسلام کا نہ صرف مکہ پر قبضہ یقینی ہے بلکہ وہ ایمان والوں کو مکہ پر قبضے کا سزاوار بھی سمجھتے تھے۔
اس موقع پر حضورپاکﷺ نے فرمایا اب کوئی اہل ایمان اپنے ایمان کی خاطر مکہ سے ہجرت نہیں کرے گا۔
بلکہ مکہ میں ہی بے خوف وخطر قیام پذیر رہے گا۔ یہ پوری دنیا کے لئے ایک پیغام تھا۔ مقیم افراد کی نقل مکانی چاہے کسی بھی وجہ سے ہو وہ شہری آبادیوں کے مفادمیں نہیں ہوتی۔ یہی وہ فرمان تھا جس کے ذریعہ نقل مکانی سے شہروں کے سوشل فائبر ڈسٹرب کرنے سے گریز کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا اور دنیا کو اس کی اہمیت باور کروائی۔
حضور پاکﷺ نے فتح مکہ کے روز فتح کا جشن منانے کی کوئی مثال یا ترغیب نہیں پیش کی بلکہ سپاس و تسبیح کی تاکید کی اور خدا کے حکم کی طرف توجہ دلائی کہ ”جب اللہ کی نصرت اور فتح آ جائے اور تم لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق آتے دیکھو تو اپنے رب کی تسبیح میں مصروف ہو جاؤ۔

حضورپاکﷺ نے کعبہ کی کنجی اس کے کلید بردار کے پاس ہی رہنے دی، جو فتح مکہ سے پہلے یہ چابی اپنے پاس رکھتا تھا۔ حالانکہ ہجرت سے پہلے ایک بار حضور پاکﷺ نے اس شخص سے کعبہ کی چابی طلب کی تو اس نے کہا تھا۔ اے محمدﷺ !تم کیا سمجھتے ہو کہ قریش اتنے کمزور ہو گئے ہیں وہ کعبہ کی کنجی تم جیسے لوگوں کو دینے پر مجبور ہو جائیں گے جو اپنے آبائی دین کو تج کر چکے ہیں۔
“ اس وقت حضور پاکﷺ نے جواب میں فرمایاتھا، ”اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب کعبہ کی چابیاں میرے پاس ہوں گی؟“ اس کلید بردار نے انگشت بادنداں ہو کر پوچھا تھا۔کیا قریش اتنے ذلیل ہونے والے ہیں کہ یہ کنجی تمہارے ہاتھوں میں دیکھنے کی نوبت آ جائے گی۔ جواب میں حضور پاکﷺ نے فرمایا”یہ کسی کی ذلت کا سوال نہیں ہو گا بلکہ جس روز کعبہ کی کنجی میرے ہاتھ میںآ ئے گی تب قریش عزت پا چکے ہوں گے“۔

کسی فاتح کے لئے یہ اوصاف صرف حبیبﷺ خدا میں ہی ہو سکتے ہیں جس سے دنیا کو یہ سبق سکھایا گیا ہے کہ مفتوحین جب سر جھکائے کھڑے ہوں تو فاتح کی ذمہ داریاں کیا ہے۔ خون کا ایک قطرہ بہائے بغیر حاصل ہونے والی فتح کس طرح کی ہوتی ہے۔ اعلی اخلاق اور عام معافی کے نقوش کیسے ثبت ہوتے ہیں۔ حضور پاکﷺ میدان حرب میں بھی اور فتح حاصل کرنے کے بعد بھی رحمت کے مینار دکھائی دیتے ہیں۔

Your Thoughts and Comments