Hazrat Abu Bakar Siddique RA K Sabaq Amooz Aqwal - Article No. 3530

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سبق آموز اقوال - تحریر نمبر 3530

بقول علامہ اقبال، سیدنا صدیق ِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ "ثانی ِ اسلام و غار و بدر و قبر" ہیں۔ یعنی وہ اسلام میں بھی ثانی یعنی دوسرے نمبر پر ہیں

نعیم الرحمان شائق جمعہ فروری

Hazrat Abu Bakar Siddique RA K Sabaq Amooz Aqwal
خلیفہِ اول سیدنا صدیق ِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ جلیل القدر صحابی ِ رسول ہیں ، جنھوں نے تاریخ ِاسلام پر ان مٹ نقوش چھوڑے۔ اسلام کے لیے ان کی خدمات تا قیامت یاد رکھی جائیں گے۔ آں حضرت ﷺ کے وصال کے بعد جس شخصیت نے صحیح طور پر امت کی رہنمائی کی اور ملت ِ اسلامیہ کو اس کٹھن وقت میں سنبھالا، وہ کوئی اور نہیں، ابوبکر صدیق ہیں۔
بقول علامہ اقبال، سیدنا صدیق ِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ "ثانی ِ اسلام و غار و بدر و قبر" ہیں۔ یعنی وہ اسلام میں بھی ثانی یعنی دوسرے نمبر پر ہیں، غار میں بھی ثانی تھے اور سب سےبڑھ کر یہ کہ آج بھی آقا علیہ السلام کے پہلو میں آرام فرما ہیں۔ قرآن نے انھیں "ثانی الثنین " کا خطاب دیا۔
آج کی اس تحریر میں ، میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےچند اقوال تحریر کروں گا، جو کہ میں نے مختلف ویب سائٹوں اورکتابوں سے اخذ کیے ہیں۔

تاکہ شان ِ ابوبکر صدیق میں کچھ حصہ میرا بھی شامل ہو جائے۔
·جس پر نصیحت اثر نہ کرے، سمجھ لو اس کا دل ایمان سے خالی ہے۔
·جو اللہ کے کاموں میں لگ جاتا ہے، اللہ اس کے کاموں میں لگ جاتا ہے۔
·آنکھ دل کا دروازہ ہے۔ اس کی حفا ظت کرو کہ تمام آفات اسی راستے سے داخل ہو تی ہیں ۔
·گناہ سے توبہ کرنا واجب ہے، مگر گناہ سے بچنا واجب تر ہے۔

·علم پیغمبروں کی میراث ہے اور فرعون و قارون کی میراث مال ہے۔
·بد بخت ہے وہ شخص، جو خود تو مرجائے، لیکن اس کا گناہ نہ مرے۔
·سائل کا حق ہے کہ اس کا جواب دیا جائے اور اچھا جواب دینا اچھے اخلاق کا تقاضا کرتا ہے۔
·اس دن پر رو، جو تیری عمر کاگزر گیا اور اس میں نیکی نہیں کی۔
·زبان کو شکوے سے روک، خوشی کی زندگی عطاہوگی۔

·پاک ہے وہ ذات، جس نے اپنے بندوں کے لیے اپنی معرفت کی طرف سوائے اعتراف و عجز کے اور کوئی راستہ نہیں رکھا۔
·شریف آدمی علم کی دولت حاصل کر کے متواضع ہو جاتا ہے اور شریر متکبر۔
·اخلاص یہ ہے کہ اعمال کا عوض نہ چاہا جائے۔
·طالب ِ دین ، عمل میں زیادتی کرتا ہے اور طالب ِ دنیا ، علم میں۔
·صدقہ فقیر کے سامنے عاجزی سے باادب پیش کر، کیونکہ خوشدلی سے صدقہ دینا قبولیت کا نشان ہے۔

·عبادت ایک پیشہ ہے، دکان اس کی خلوت ہے، راس المال اس کا تقویٰ ہے اور نفع اس کا جنت ہے۔
·جسے رونے کی طاقت نہ ہو، وہ رونے والوں پر رحم ہی کیا کرے۔
·لوگوں کی اندرکی باتوں کو ہر گز نہ کھولنا، بلکہ ان کے ظاہری اعمال پراکتفا کر لینا اور اپنے کام میں پوری محنت کرنا ۔
·جب کچھ لوگ ایسے لوگوں کے سامنے گناہ کریں، جو ان سے زیادہ طاقت ور اور با اثر ہو اور وہ انھیں ان برے کاموں سے نہ روکیں تو ان سب پر اللہ تعالیٰ ایسا عذاب نازل فرمائیں گے جسے ان سے نہیں ہٹائیں گے۔

·سب سے بڑی عقل مندی تقویٰ ہے اور سب سے بڑی حماقت فسق و فجور ہے۔
·اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ اگر تم تقویٰ اور پا ک دامنی اختیار کرو تو تھوڑا عرصہ ہی گزرے گا کہ تمھیں پیٹ بھر کر روٹی اور گھی ملنے لگے گا۔
·جس کا سرمایہ دنیا ہے، اس کے دین کا نقصان زبانیں بیان کرنے سے عاجز ہیں۔
·تو دنیا میں رہنے کے سامانوں میں لگا ہے اور دنیا تجھے اپنے سے نکالنے میں سر گرم ہے۔

·خلقت سے تکلیف دور کر کے خود اٹھا لینا حقیقی سخاوت ہے۔
·انسان ضعیف ہے ، تعجب ہے کہ وہ کیوں کر خدائے قوی کی نا فرمانی کرتا ہے۔
·اشخاص کو حق سے پہچانو۔ حق کو اشخاص سے نہیں۔
·عقل مند کی پہچان کم گوئی ہے۔
·پا ک دامنی فقیری کی زینت ہے، شکر نعمت کی زینت ہے، خشوع و خضوع نماز کی زینت ہے، صبر بلا کی زینت ہے، عاجزی طالبِ علم کی زینت ہے، کثرت ِ گریہ صفتِ خوف کی زینت ہے اور احسان نہ جتانا احسان کی زینت ہے۔

·جسے یہ پسند ہو کہ اسے اللہ تعالیٰ قیامت میں نار ِ جہنم سے محفوظ رکھے اسے مسلمان پر رحم کرنا ضروری ہے۔
·ہم نے بزرگی کو تقویٰ میں، مال داری کو یقین میں اور عزت کو تواضع میں پایا۔
·صبر میں کوئی مصیبت نہیں اور رونے دھونے میں سوائے نقصان کےکچھ فائد ہ نہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Your Thoughts and Comments