Imam Bargha Karbala Gamy Shah

امام بارگاہ کربلا گامے شاہ

تاریخ عزاداری میں بین الاقوامی شہرت کی حامل نثار حویلی سے برآمد ہونے والا شبیہ ذوالجناح کا مرکزی جلوس یہاں اختتام پذیر ہوتا ہے

Imam Bargha Karbala Gamy Shah
شہریار اشرف:
محرم الحرام شہادت امام حسین کا مہینہ ہے اس مہینے میں آل رسول ﷺ سے محبت رکھنے والے اپنے اپنے انداز میں نواسہ رسول ﷺ حضرت امام حسین کی شہادت کی یاد مناتے ہیں ۔ واقعہ کربلا کی یاد نہ صرف مسلم معاشرے کی تہذینی وتاریخی روایت رہی ہے بلکہ غیر مسلم معاشرے میں بھی عزاداری کی جاتی ہے اور یہ سلسلہ چودہ سو سال سے جاری ہے ۔
واقعہ کربلا نے انسانی تہذیب کو ہر دور میں متاثر کیا ہے یہ ایسا واقعہ ہے جو آج بھی آنکھیں نم اور دل غمگین کردیتا ہے۔ محرم الحرام کے آغاز کے ساتھ ہی شیعان اہل بیت مجالس عزا منعقد کرنے کے ساتھ جلوس بھی برآمد کرتے ہیں جن میں نوحہ خوانی، سینہ کوبی اور زنجیر زنی کی جاتی ہے ۔ محرم الحرام کا چاند نظر آتے ہی امام بارگاہوں میں شیعان اہل بیت کی آمد کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جہاں منعقدہ مجالس عزا میں امام حسین اور ان کے اصحاب کی سیرت کردار اور اخلاق وخصوصیات بیان کی جاتی ہیں۔

مصائب اہل بیت سننے کے لئے جوق درجوق مرد،خواتین اور بچے امام بارگاہوں میں پہنچتے ہیں ۔ یوں تو پورے لاہور شہر میں سینکڑوں کی تعداد میں امام بارگاہیں ہیں لیکن اندرون لاہور کی تنگ ویرپیچ گلیوں میں نہ صرف امام بارگاہوں کی تعداد غیر معمولی طور پر زیادہ ہے بلکہ یہاں اہل تشیع بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ لاہور میں بھاٹی گیٹ کے قریب واقع امام بارگاہ کربلا گامے شاہ اپنے اندرذاکر اہل بیت اور عزاداران حسین کی ایک تاریخ سموئے ہوئے ہے۔
یہ قدیم امام بارگاہ تاریخ عزاداری میں بین الاقوامی شہرت کی حامل ہے۔ موچی دروازہ سے نکلنے والے شبیہ ذوالجناح کے مرکزی جلوس کی منزل بھی یہی ہے۔ کربلا گامے شاہ کا کل رقبہ تقریباََ 45 ایکڑ ہے اس کا داخلی راستہ دیوہیکل قدیمی دروازے پر مشتمل ہے جبکہ نصف کلو میٹر اند ر جانے کے بعد مرکزی گیٹ جیسا ہی گیٹ ہے۔ اس گیٹ سے چند قدم پہلے بائیں ہاتھ پر تین بک شاپس، تعزیے فروخت کرنے کی دکانیں اور ٹریول ایجنٹ کا دفتر ہے ۔
جو لوگوں کو اہل بیت کے مزارات کی زیارت کے لئے عراق‘ یران‘شام بھیجتے ہیں۔ کربلا گامے شاہ کے اندر داخل ہونے کے بعد دائیں طرف لنگر خانہ ہے جس کے ساتھ حضرت غازی عباس کے علم کی شبیہ نصب کی گئی ہے یہاں آنے والے بہت عزت اور احترام سے اسے چومتے اور منت مانگتے ہیں۔ لنگر خانہ کے بالکل سامنے مرکزی عمارت ہے جس کے تہہ خانے میں حضرت بابا کامے شاہ کی قبر کے پاس حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی ضریح مبارک نصب ہے جو حضرت بابا جی گامے شاہ کو سب سے بڑا نذرانہ عقیدت ہے ۔
مرکزی ہال کے بالکل ساتھ مسجد ہے جس سے چند قدم دور ایک مستطیل نما کرہ ہے جس میں نواب سر مظفر علی خان قزلباش متولی چہارم کی قبر ہے اسی کمرے کی دیوار پر نواب ناصر علی خان قزلباش(مرحوم)متولی اوّل قزلباش وقف، نواب سر فتح علی خان قزلباش(مرحوم)متولی دوئم قزلباش وقف،نواب نثار علی خان قزلباش (مرحوم)متولی سوئم قزلباش وقف،نواب سر مظفر علی خان قزلباش (مرحوم) متولی چہارم قزلباش وقف کی تصاویر آویزاں ہیں۔
کتابچہ تاریخ کربلا گامے شاہ کے مطابق محب اہلبیت حضرت سید غلام علی شاہ نے بچپن ہی سے اپنے جد امجد کے غم کو خود پر طاری کر رکھا تھا۔ آپ ہمیشہ سیاہ لباس زیب تن رکھتے اور دربار حضرت داتا گنج بخش کے پہلو میں بیٹھ کر مولا کائنات علی ابن ابی طالب کے نعروں کا ورد کرتے ہوئے بے ساختہ گریہ کرتے اور انتہائی سادہ الفاظ میں اہلبیت اطہار پر ہونے والے مظالم کی داستان بیان کرتے۔
شہر کی گلیوں، بازاروں میں نعرہ حیدری کے فلک شگاف نعرے لگاتے اوریا حسین یاحسین کی صدائیں بلند کرتے ہوئے غم حسین میں ڈوب جاتے، دنیا سے ماورازمانے کی نظروں میں دیوانے اور اہل بیت کی نگاہ پاک باز میں عارف کامل تھے۔ اس درویش نے تمام عمر شادی نہیں کی روایت کے مطابق آپ آٹھارویں صدی کے آغاز میں موجودہ کربلاگامے شاہ میں بیٹھتے اور ادھر موچ دروازہ سے ایک بڑھیا آغیاں مائی آپکی درویش اور صالح خاتون تھی وہ روز عاشور سر پیٹتے اور گریہ کرتے ہوئے شہر کے کوچہ بازار سے گزرتی ہوئی گامے شاہ کی جانب جاتی اور ادھر سے حضرت بابا گامے شاہ سر پر ایک چھوٹا سا تعزیہ اٹھائے موچی دروازہ کی جانب روانہ ہوتے اور یوں چوک نوگزہ یں دونوں کی ملاقات ہوتی۔
وہاں سے دونوں درویش گریہ کرتے یا حسین یاحسین کی صدائیں دیتے گامے شاہ کے ڈیرہ کی جانب روانہ ہوتے۔ لوگ راستہ میں انکا مذاق اڑاتے، آوازیں کستے، پتھر مارتے جس سے انکا لباس اور جسم خون سے تر ہوجاتا اور یوں دونوں درویش گامے شاہ کے ڈیرہ پر پہنچتے۔ اسی زمانہ میں انگریز حکومت کے گورنر نواب بہادر ہندنے دہلی سے اپنا ایک سفیر چارلس مٹکف رنجیت سنگھ کے پاس بھیجا کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ اور انگریز سرکار کی حکومت کی حدوددوستانہ ماحول میں طے کرلی جائیں۔
رنجیت سنگھ نے انہیں امر تسر میں ٹھہرایا اور اپنے مشیر فقیر سید عزیزالدین کو انکی مہمان داری پر مامور کیا انگریز ایلچی سر مٹکف کی رنجیت سنگھ نے خوب خاطر مدارت کی اور اسے شکار کیلئے ہمراہ لے جاتا وہ دو ماہ تک امرتسر میں مہمان رہا۔اسی دوران ماہ محرم کی آمد ہوئی اور ان فوجیوں نے عزاداری کا اہتمام کیا اور بڑے بڑے خوبصورت علم بنائے جن پر قیمتی کپڑے باندھے گئے ، ایک تعزیہ تیار کیا فوجی باجا کے ساتھ بڑے نقارے،چھتریاں اور اونٹوں پر رکھ کر ماتم وگریہ زاری کرتے شہر میں داخل ہوئے۔
جب اکالی سکھوں کے ڈیرہ کے سامنے سے گزر ہو تو سکھوں نے مسلمان کو اس شان وشوکت سے دیکھا تو شورش پر کمر بستہ ہوئے اور حملہ کرکے علم ہائے غازی عباس لوٹ لئے اور تعزیہ توڑدیا۔ انگریز سفیر جسکا خیمہ اسی فوجی کے وسط میں تھا شدید برہم ہوا۔ مسلمان فوج نے سکھوں پر جوابی حملہ کیا شہر میں قتل وغارت ہوئی بہت سے اکالی مارے گئے رنجیت سنگھ نے انگریز سفیر اور مسلمان فوج سے معذرت کی اکالیوں سے لوٹا ہوا مال واپس کیا علم اور تعزیہ تعظیم کے ساتھ واپس بھیجا۔
لاہور پہنچنے پر اسے علم ہوا کہ یہاں بھی ایک ملنگ نے تعزیہ نکالا ہے تو اس نے شورش کے اندیشہ سے حضرت بابا گامے شاہ کا طلب کرکے سرزنش کی اور آئندہ باز رہنے ی ضمانت چاہی لیکن حضرت باباگامے شاہ نے انکار کیا اور کہا کہ وہ ہمیشہ ایسا کرتاہے جوس پر رنجیت سنگھ نے اسے گرفتار کرکے قلعہ میں بند کردیا۔ رات بھر رنجیت سنگھ بھیانک خواب دیکھتا رہا صبح اٹھ کر فقیر سید عزیزالدین کے ہمراہ بابا گامے شاہ کے زندان میں گیا۔
بابا جی راجہ کو دیکھ کر مسکرائے اور اونچی آواز میں کہا۔میں نے کہا کیا جرم کیا ہے؟ آپ کے گرو گوہند سنگھ کے چار بیٹے قتل ہوئے آپ آج تک مسلمانوں سے انتقام لے رہے ہیں ۔ہمارے نبی ﷺ کا سارا کنبہ قتل ہوگیا اور ہم کسی کو کچھ کہتے تو نہیں صرف ماتم کرتے ہیں یہ سن کر راجہ رنجیت سنگھ بہت گھبرایا فوراََ باباجی کو رہا کردیا۔ رنجیت سنگھ ہی کے زمانہ1839-1780 میں حضرت بابا گامے شاہ نے وفات پائی اور اسی حجرہ میں دفن ہوئے۔
قزلباش خاندان جب لاہور آیا اور انہوں نے عزاداری کا سلسلہ شروع کیا تو انہیں حضرت بابا گامے شاہ کے احوال معلوم ہوئے تو انہوں نے یہ تمام رقبہ خرید کر اندرون شہر سے باہر کربلاقائم کی اور اس کو بابا جی کے نام سے منسوب کیا۔ 1958 سے لیکر آج تک نثار حویلی موچی دروازہ سے نکلنے والا شبیہ ذوالجناح کا مرکزی جلوس اپنے مقررہ راستے سے ہوتا ہوا عاشورہ کے روز رات تقریباََ نو بجے کربلا گامے شاہ کے وسیع میدان میں شام غریباں کا انعقاد ہوتا ہے اس کے ساتھ ساتھ عزاداروں کے لیے وسیع لنگر کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔

Your Thoughts and Comments