Janisar Rasool Allah SAWW

جانثار رسول ﷺ

جب کفار مکہ نے دیکھا کہ ان کی تمام ترکوششوں کے باوجود بھی حضور نبی کریم ﷺ تبلیغ اسلام سے باز نہیں آتے تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ نعوذباللہ حضور نبی کریم ﷺ کو قتل کردیاجائے ۔ چانچہ کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ کو کفار کے منصوبے کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا۔

Janisar Rasool Allah SAWW
صحابہ کرام :
جب کفار مکہ نے دیکھا کہ ان کی تمام ترکوششوں کے باوجود بھی حضور نبی کریم ﷺ تبلیغ اسلام سے باز نہیں آتے تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ نعوذباللہ حضور نبی کریم ﷺ کو قتل کردیاجائے ۔ چانچہ کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ کو کفار کے منصوبے کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا ۔
اے علی ! مجھ کو مدینہ طبیہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم ملا ہے ۔
میرے پاس کفار کی کچھ امانتیں پڑی ہیں ۔ وہ میں تمہارے سپرد کرتا ہوں ۔ تم کل انہیں ان کے مالکوں تک پہنچا کر مدینہ چلے آنا۔ کفار آج کی رات مجھ کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ تم آج میری چار پائی پر میری چادر اوڑھ کرسو جانا۔ اطمینان رکھو، خدا کے فضل سے وہ تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے ۔


حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم ﷺ کے فرمان کے مطابق وہ چادر مبارک اوڑ کر انتہائی اطمینان سے آپ ﷺ کی چار پائی پر سو گئے اور اپنی جان کو حضور نبی کریم ﷺ پر نثار کرنے کا تہیہ کر لیا ۔

فرمان رسول کریم ﷺ کے مطابق کفار آپ کو ذرا سی خراچ بھی نہ پہنچا سکے ۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت ابو تراب اور ابوالحسن تھی جب کہ لقب مبارک مرتضیٰ اور اسد اللہ تھا ۔ اسم مبارک علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھا ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد کا نام حضرت ابو طالب اور والدہ ماجدہ کانام حضرت فاطمہ تھا ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں ۔

حضور نبی کریم ﷺ کو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بے انتہا پیار تھا ۔ ابو تراب کی کنیت بھی آپ کو حضور نبی کریم ﷺ نے ہی عطا فرمائی تھی اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی یہ کنیت بہت ہی پیاری تھی اور جب کوئی آپ کو اس نام سے پکارتا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت خوش ہوتے تھے ۔ اس کنیت کے ملنے کا واقعہ اللہ تعالیٰ عنہا سے کسی بات سے ناراض ہوکر مسجد میں آکر لیٹ گئے اور آپ کے بدن مبارک پر کچھ مٹی لگ گئی ۔ حضور نبی کریم ﷺ آپ کو بلانے خود مسجد میں تشریف لائے ۔ آپ کے بدن پاک سے مٹی جھاڑتے ہوئے حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا :
اے ابوتراب ، اب اٹھو ۔
چنانچہ اسی روز سے آپ کی یہ کنیت مشہور ہوگئی ۔

Your Thoughts and Comments