Nabi Aur Sahaba Ki Nazar Mein Shaan Ameer Muawiya

نبی ؐ اور صحابہ ؓ کی نظر میں شان امیر معاویہ ؓ

حضرت معاویہ اور آپ کے خاندان نے خلافت صدیق میں بہت قربانیاں دیں اور جہاد میں بھرپور حصہ لیا۔ ارتداد کی جنگوں اور جنگ یمامہ میں دوسرے صحابہ کے ساتھ آپ شریک رہے حضرت صدیق نے آپ کے بھائی یزید بن ابی سفیان کو امیر بنا کر شام بھیجا تھا

جمعہ اپریل

nabi aur sahaba ki nazar mein shaan Ameer muawiya
مولانا حافظ محمد اشفاق آپ کا نام معاویہ بن صخر ابی سفیان بن حرب بن امیہ بن عبدالشمس بن عبدالمناف ہے۔ آپ چار پشتوں کے بعد رسول اللہؐ کے شجرہ سے جا ملتے ہیں آپ کا خاندان بنی امیہ خاندان رسول بنی ہاشم کا قریبی تھا ان کے ایک دادا تھے عبدالمناف۔ آپ کو ابوعبدالرحمن اور خال المومنین بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ آپ کی بہن سیدہ ام حبیبہ رسول اللہ ؓ کی ازواج میں شامل تھیں۔
آپ بعثت سے پانچ سال قبل پیدا ہوئے تھے اور ہجرت کے وقت آپ کی عمر اٹھارہ سال تھی۔ آپ نے متعدد شادیاں کیں لیکن دو بیویوں سے آپ کو اولاد ہوئی۔ ایک سے یزید اور ایک بیٹی اور دوسری سے عبداللہ اور عبدالرحمن تھے۔ علماء کا کہنا ہے کہ آپ والدین کے ساتھ فتح مکہ میں مسلمان ہوئے ہیں۔ آپ نے فتح مکہ کے فوراً بعد ہجرت کی اور مدینہ آگئے یہاں آپ رسول اللہؐ کے کاتب تھے اور آپ رسول اللہ ؐ کے لئے وحی اور دوسری کتابت کرتے تھے۔

اس لئے آپ کو کاتب وحی بھی کہا جاتا ہے۔ رسول اللہ ؐکے ساتھ آپ جنگ حنین ، طائف اور تبوک میں شریک رہے۔ خلافت صدیق اکبر: حضرت معاویہ اور آپ کے خاندان نے خلافت صدیق میں بہت قربانیاں دیں اور جہاد میں بھرپور حصہ لیا۔ ارتداد کی جنگوں اور جنگ یمامہ میں دوسرے صحابہ کے ساتھ آپ شریک رہے حضرت صدیق نے آپ کے بھائی یزید بن ابی سفیان کو امیر بنا کر شام بھیجا تھا جہاں ان کا انتقال ہوگیا تو حضرت صدیق نے حضرت معاویہؓ کو ان کی جگہ امیر بنایا۔
اس موقع پر آپ کے والد نے آپ سے فرمایا کہ ہم اسلام لانے میں ان سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور یہ ہم سے بہت آگے ہیں امیر المومنین نے تم پر اعتماد کیا ہے اس کو بخوبی نبھانا۔ خلافت فاروق اعظم:حضرت فاروق اعظمؓ کی خلافت میں سیدنا معاویہ نے شام و حمص کو فتح کرلیا اور فاروق اعظمؓ نے وہاں کا گورنر انہیں ہی بنا دیا۔ آپ حضرت فاروق اعظم ؓکے واحد گورنر ہیں جن کی کوئی خاص شکایت کبھی نہیں آئی۔
آپ رعیت کا بہت خیال رکھنے والے تھے۔ آپ نے چاہا کہ بحری فوج بھی تیار کرلی جائے ،لیکن حضرت فاروق اعظم ِؓنے آپ کو اس کی اجازت نہیں دی۔ حضرت عثمان غنیؓ کے دور میں آپ پورے شام و اردن کے گورنر تھے ۔آپ کا علاقہ وہ واحد علاقہ تھا جہاں حضرت عثمان کے خلاف کوئی شورش نہیں ہوئی۔ آپ نے حضرت عثمان کے حکم سے پہلی اسلامی بحری فوج بنائی اور قبرص کو فتح کیا یہ مسلمانوں کی پہلی بحری جنگ تھی جس کے سالار معاویہؓ تھے اس کے بارے میں رسول اللہ ؐے پیش گوئی کی تھی اور اس جنگ کے شرکاء کو جنت کی بشارت دی تھی۔
حضرت معاویہ کی خلافت کے اہم واقعات وسطی ایشیا کی فتوحات ، شمالی افریقہ کی فتوحات ، رومیوں سے معرکے ، قسطنطنیہ پر حملہ جس کی پیش گوئی رسول اللہؐ نے کی تھی ،ڈاک کا نظام وغیرہ۔ حضرت معاویہؓ کے فضائل میں یہ ہی کافی ہے کہ آپ رسول اللہ ؐ کے کاتب وحی تھے اس کے علاوہ جب رسول اللہؐ نے خواب دیکھا تھا کہ میری امت کے لوگ پہلی دفعہ سمندر میں جہاد کر رہے ہیں تو آپ بہت خوش ہوئے تھے اور ان کو جنت کی بشارت دی تھی یہ پہلا خوش نصیب لشکر جس نے رسول اللہ ؐ کے خواب کو حقیقت میں بدل دیا امیر المومنین عثمانؓ کے دور میں قبرص کے جہاد پر گیا تھا اور اس کے امیر ، امیر معاویہؐتھے۔
حضرت معاویہ کے حق میں احادیث امام احمد اپنی مسند میں امام بخاری ،تاریخ بخاری میں اور امام ترمذی اپنی سنن میں یہ حدیث نقل کرتے ہیں۔ رسول اللہ ؐ نے آپ کے حق میں دعا کی کہ اے اللہ اس کو ہدایت یافتہ اور اس کے ذریعہ سے ہدایت دے۔امام نسائی نے اپنی سنن ، ابن خزیمہ نے اپنی صحیح اور امام احمد نے اپنی مسند میں یہ حدیث نقل کی ہے رسول اللہؐ نے فرمایا کہ ا ے اللہ معاویہ ؓکو حساب و کتاب کا علم دے اور اسے عذاب سے بچالے۔
ابن کثیر نے بیہقی وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ؐے حضرت معاویہ ؓکو کہا کہ عنقریب اللہ تمہیں میری امت پر حاکم بنائے گا ان کی اچھی بات قبول کرنا اور بری بات سے درگزر کرنا۔ اول جیش من امتی یغزو البحر فقد اوجیو (بحوالہ بخاری) میری امت کا سب سے بڑا لشکر جو بحری لڑائیوں کا آغاز کرے گا اس پر جنت واجب ہے۔ ابن اثیر اور تمام تاریخوں کے مطابق حضرت سیدنا امیر معاویہ ؓ واحد شخص ہیں جنہوں نے سب سے پہلے بحری بیڑے کا آغاز کیا اور مسلمان قوم سب سے پہلی مرتبہ بحری جہاد سے سرفراز ہوئی۔
(منبع الفوائد)حضوؐرنے فتح مکہ کے موقع پر یہ اعلان فرمایا ’’من دخل دار ابی سفیان فہو امن‘‘ یعنی ابتدائے اسلام کی عسرتوں اور پریشانیوں میں جو مکان پناہ گاہ رسولؐ بنا‘ آج جو شخص بھی اس میں پناہ حاصل کرے گا اسے امان دے دی جائے گی (مسلم شریف) حضرت امیر معاویہؓ اور رسول خداؐکی ملاقات جنت کے دروازہ پر ہوگی (لسان المیزان ص 25)معاویہ کے لشکر کو بشارت جنت خود رسول خدا نے دی (مجمع الزوائد‘ ج 9 ص 357)حضرت عمر فاروقؓفرماتے ہیں جب امت میں تفرقہ اور فتنہ برپا دیکھو تو حضرت معاویہ ؓ کی اتباع کرو (بحوالہ البدایہ)الزوائد ‘ ج 9‘ ص 258)

Your Thoughts and Comments