پنجاب پولیس اپنے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے عوام کو امن وامان فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہے ، ڈی پی او اٹک

ہفتہ دسمبر 21:10

اٹک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 26 دسمبر2020ء) ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سید خالد ہمدانی نے کہا کہ پنجاب پولیس اپنے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے عوام کو امن وامان فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہے پولیس اور عوام کے درمیان فاصلے کم کئے جارہے ہیں میں نے اپنے پولیس افسران اور جوانوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ عوام کے ساتھ شائستہ انداز میں گفتگو کریںاور اپنے رویے کو درست کریں تاکہ پنجاب پولیس کو مثالی بنایا جا سکے ایک خصوصی انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ منشیات سمگلنگ انٹر نیشنل مسئلہ ہے لیکن اس کے باوجود پولیس نے منشیات، خلاف سٹریٹ کرائمز اور دیگر جرائم کے خلاف پنجاب پولیس نے بڑے آرگنائز طریقے سے کام کیا ہے میں ذمہ داری اور اطمنیان سے کہہ سکتا ہوں کہ امن وامان اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف ایکشن پر پولیس کی کارکردگی بہترین ہے اس سے عوام اور پولیس کے درمیان فاصلے کم ہوں گے پولیس کا عوام کے ساتھ جتنا رابطہ ہوگا اتنا آسانی سے اور فورس فلی ہم کرائمز پر قابو کر پائیں گے انھوںنے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں نے دس سال میںنے کے پی کے میں اپنی خدمات انجام دی ہیں کے پی کے پولیس نے دہشت گردی کے خلاف قربانی اور بہادری کی بڑی مثالیں قائم کی ان قر بانیوں کی بدولت سوات میں امن قائم ہوا ہے پنجاب میں بھی وزیر داخلہ کرنل شجاع خانزادہ دہشت گردی میں شہید ہوئے ٹارگٹ کلنگ ہوئیں راولپنڈی دہشت گردی کے نشانے پر رہا پنجاب پولیس کے پاس وسائل اور صلاحیتیں ہیں پرانا ادارہ ہے پنجاب پولیس کی کارکردگی مثالی ہے یہاں کی پولیس جس طرح مختلف کیسوں کو تیزی کے ساتھ ٹریس اور انوسٹی گیٹ کرتی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے انھوں نے کہا کہ میں2015/2016 میں بونیر میں ڈی پی او رہا ہوں سوات میں پولیس نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے وہ پہاڑی اور جغرافیہ لحاظ سے مشکل علاقہ ہے میر ے اوپر خودکش حملے ہوئے مجھے اسی کارکردگی وجہ سے قائداعظم میڈل ملا ہے کسی بھی کمانڈر کی کامیابی میں سپاہ کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے کے پی کے بالخصوص سوات میں وہاں کی پولیس اور کانسٹبلیری کی کامیابیاں ہیں سوات پولیس اور فوجی آپریشن کے بعد پولیس نے بڑے چیلنجز پر قابو پایا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ تھانہ کلچر پر بات کرنا فیشن ہے اس ضمن میں عوام کے اندر آگاہی بے حد ضروری ہے معاشرے کے اثرات سے پولیس علیحدہ نہیں رہ سکتی عوام کو پولیس کے رویے سے شکایت ہے جس کو تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے میںنے اپنی سپاہ کو کہا ہے کہ میرا بطور کمانڈر آپ سے رویہ بہتر ہوگا تو آپکا رویہ بھی عوام کے ساتھ اچھا ہوگا میں نے اپنے ماتحت افسران وملازمین سے کہا کہ میں جس طرح عوام کے ساتھ خوش اسلوبی اور اخلاق کے ساتھ پیش آتا ہوں وہی توقع آپ سے بھی ہے کہ آپ اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں جوسائل مسئلہ لیکر آئے اسکی داد رسی کریں میں نے جن چند پولیس افسران و ملازمین کو سزا دی ہے تو وہ عوام کے ساتھ غلط زبان کی وجہ سے دی ہے میرا فوکس یہ ہے کہ تھانے میں آنے والے سائل کے ساتھ پولیس کا رویہ دوستانہ ہو اور پولیس میرٹ پر کام کرئے انشااللہ ہم اپنے کام میں بہتری لا رہے ہیںہمارا کام اس وقت مشکل ہوجاتا ہے جب سچ اور جھوٹ کو ملا دیا جاتا ہے عوام جو شکایت لیکر آئیں وہ شفاف بنیادوں پر ہو آپ پولیس کو اپنا سمجھیں عوام ایک قدم ہماری طرف آئے گی تو ہم دس قدم ان کی طرف چل کر جائیں گے ایک اور سوال کے جواب میں انھوںنے کہا کہ ایف آئی آر کے اندارج میں کسی بھی قم کی رکاوٹ نہیں قتل ،اقدام قتل کسی لمحے کے بغیر درج ہوجاتی ہے اصل مسئلہ عوام کو درپیش ہے اگر کسی بھی شہری کی ایف آئی آر درج نہیں ہو رہی تو ڈی ایس پی ،ڈی پی او،آن لائن ،آئی جی آفس اور7878پر کال کر کے شکایت درج کر کے ایف آئی آر درج کرائی جا سکتی ہے میںعوام کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ صیح ایف آئی آر ایک سکینڈ بھی دیر نہیں لگے گی شہدا کی فیملی کے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوںنے کہا کہ پولیس کے محکمے کی وجہ سے معاشرے میںجو امن وامان قائم ہوا ہے وہ انہی شہدا کی قربانیوں کا ثمر ہے ہمیں پوری شدت کے ساتھ انکی فیملی کی ذمہ داریوں کا احساس ہے شہدا کے بچوں کے سکالر شپ،پیکج کے حوالے سے شہدا ڈیسک کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ان کے لئے ماہانہ بنیادوں پر میٹنگ ہوتی ہے تاکہ ان کے معاملات ترجیح بنیادوں پر حل ہو سکیںپولیس شہدا کی فیملی کی شادیوں میں خود جاتا ہوںان کو ہم اپنی فیملی اور خاندان سمجھتے ہیں انھوںنے کہا کہ ہم پولیس کی کے افسران اورجوانوں کے مسائل سے غافل نہیں ہے ان کے کی رہائش گاہوں اور دیگر مسائل کو ترجیح بنیادوں پر حل کر رہے ہیں ۔

اٹک شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments