صدارتی نظام کا نفاذ خطرناک اور ملکی تشخص پر وار تصور ہوگا، پی ڈی ایم

صدارتی نظام کے نفاذ کو مسترد کرتے ہیں، اسٹیٹ بینک ترمیمی بل اور منی بجٹ کا سینیٹ میں راستہ روکا جائے گا۔ پی ڈی ایم جماعتوں کا اتفاق

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ منگل 25 جنوری 2022 19:15

صدارتی نظام کا نفاذ خطرناک اور ملکی تشخص پر وار تصور ہوگا، پی ڈی ایم
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جنوری 2022ء) پی ڈی ایم جماعتوں نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ صدارتی نظام کا نفاذ خطرناک اور ملکی تشخص پر وار تصور ہوگا، صدارتی نظام کے نفاذ کو مسترد کرتے ہیں، اسٹیٹ بینک ترمیمی بل اور منی بجٹ کا سینیٹ میں راستہ روکا جائے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق صدرپاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ مولانا فضل الرحمان کی زیرصدارت پی ڈی ایم جماعتوں کا سربراہی اجلاس ہوا، سربراہی اجلاس میں شاہد خاقان عباسی نے اسٹیئرنگ کمیٹی کی 8 سفارشات پیش کردیں۔

اجلاس میں صدارتی نظام کی چہ مگوئیوں سے متعلق بھی بات ہوئی، پی ڈی ایم جماعتوں نے کہا کہ صدارتی نظام کا نفاذ خطرناک ثابت ہوگا، صدارتی نظام ملکی تشخص پر وار تصور ہوگا، صدارتی نظام کے نفاذ کو مسترد کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

اسٹیٹ بینک ترمیمی بل اور منی بجٹ کے ذریعے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ مسترد کرتے ہیں، اسٹیٹ بینک ترمیمی بل اور منی بجٹ کا سینیٹ میں راستہ روکنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پی ڈی ایم کا لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل نہ کرنے پر اتفاق کیا گیا، پی ڈی ایم لانگ مارچ 23 مارچ کو ہی ہوگا، 23 مارچ کے لانگ مارچ میں تاخیر یا تاریخ کی تبدیلی سے اچھا تاثر نہیں جائے گا۔ اجلاس میں تجویز دی گئی کہ پیپلزپارٹی اگر پی ڈی ایم کے لانگ مارچ میں شرکت کرنا چاہتی ہے تو اجازت دیدی جائے۔ واضح رہے گزشتہ روز وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے سینیٹ کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارا کام اپوزیشن کو سمجھانا ہے، ملک جتنا عزیز عمران خان کو ہے اتنا ہی عزیز اپوزیشن کو بھی ہے، 23 مارچ کو آدھا اسلام آباد کسی اور کے کنٹرول میں ہوگا، جیمبرز بھی لگے ہوں گے، اپوزیشن 23 مارچ کو ملتوی کردے اور 27 مارچ کو اسلام آباد آجائے، دہشتگردی اور کورونا کا بھی خطرہ ہے، سیاست چلتی رہتی ہے حکومت کو دہشتگردی کیخلاف اپوزیشن کے ساتھ ملکر ایک بیانیہ بنانا چاہیے۔

22 جنوری کو بھی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا تھا کہ اپوزیشن کو لانگ مارچ کے فیصلے پرغور کرنا چاہیے،اوآئی سی اجلاس میں سینکڑوں مہمان آرہے ہیں، وہ 23 مارچ کی پریڈ میں شرکت کریں گے، کورونا بھی ہے، ان کو چاہیے مارچ چار دن پہلے یا بعد میں کرلیں۔اپوزیشن اسلام آباد آکر لانگ مارچ کی خواہش پوری کرلے، اپوزیشن کو چاہیے لانگ مارچ 23 مارچ کی بجائے 24 مارچ کو کرلے، 23 مارچ کو اوآئی سی کانفرنس ہے،اوآئی سی اجلاس کے سلسلے میں 21 مارچ سے کچھ سڑکیں بند ہوسکتی ہیں، بلاول بھٹو نے بھی ایک تاریخ دے رکھی ہے ان کے ساتھ ملکر سب لانگ مارچ کرلیں،اگر اپوزیشن نے کوئی ایسی غلطی کی جس سے جمہوریت کا نقصان ہوا تو بات ان کے گلے پڑے گی۔

وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد پر اپوزیشن اپنا منہ دیکھے، فنانس بل میں ان کے 12 لوگ کم تھے عدم اعتماد کے وقت 25 کم ہوں گے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments